ڈاکٹر احمد عروج مدثر
تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی تعمیر کا سب سے بنیادی اور مؤثر ذریعہ ہوتی ہے۔ قومیں اپنے تعلیمی نظام کے معیار سے پہچانی جاتی ہیں اور نوجوان نسل کے خوابوں کی حفاظت دراصل ملک کے مستقبل کی حفاظت سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانات کو ہمیشہ نہایت سنجیدہ، حساس اور مقدس ذمہ داری تصور کیا گیا ہے، کیونکہ امتحان صرف سوالات کے جوابات لینے کا عمل نہیں بلکہ محنت، صلاحیت، دیانت اور مستقبل کے تعین کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ لیکن جب انہی امتحانات پر بدعنوانی کے سائے پڑنے لگیں، سوالیہ پرچے بازار میں فروخت ہونے لگیں اور محنت کے بجائے رسائی اور پیسے کامیابی کی ضمانت بننے لگیں تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت بن جاتی ہے۔
آج NEET UG 2026کے پرچے لیک ہونے کی خبروں کے درمیان 03 مئی کو منعقدہ امتحان کو منسوخ کردیا جانا بظاہر شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کی ایک ناگزیر کارروائی محسوس ہوتی ہے۔ یقیناً حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہوگا، کیونکہ اگر امتحان مشکوک ہوجائے تو اس کے نتائج لاکھوں طلبہ کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن اس فیصلے کا دوسرا رخ کہیں زیادہ دردناک، پیچیدہ اور انسانی المیے سے بھرپور ہے۔ یہ فیصلہ ان لاکھوں طلبہ کے لئے شدید نفسیاتی صدمہ بن کر سامنے آیا ہے جنہوں نے پورا سال اپنی نیندیں، اپنی خواہشات، اپنی آسائشیں اور اپنے جذبات قربان کرکے صرف ایک خواب کی تعبیر کے لئے خود کو کتابوں کے حوالے کردیا تھا۔ہندوستان میں NEET صرف ایک امتحان نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ متوسط اور غریب گھرانوں کے بچے اس امتحان کو اپنی زندگی بدلنے کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ کئی والدین اپنی ضروریات محدود کردیتے ہیں تاکہ ان کا بچہ کوچنگ حاصل کرسکے۔ کئی مائیں اپنے زیورات فروخت کردیتی ہیں، کئی باپ اپنی جسمانی طاقت سے زیادہ محنت کرتے ہیں، کئی بہن بھائی اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں تاکہ خاندان کا ایک فرد ڈاکٹر بن سکے۔ ایسے میں جب امتحان کے بعد اچانک یہ اعلان ہوتا ہے کہ پرچہ لیک ہوگیا ہے اور امتحان منسوخ کردیا گیا ہے تو اس خبر کا اثر صرف ایک تعلیمی عمل تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا گھر ذہنی اذیت، بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے۔
یہ واقعہ ہندوستانی تعلیمی نظام کے اندر موجود ان کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے جن پر شاید برسوں سے پردہ ڈالا جارہا تھا۔ سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنے بڑے قومی امتحان کے حفاظتی انتظامات اتنے کمزور کیوں ہیں؟ اگر ملک کے حساس ترین امتحانات میں شامل سوالیہ پرچے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تو پھر یہ نظام کس بنیاد پر اپنی ساکھ قائم رکھے ہوئے ہے؟ امتحانی مراکز، ڈیجیٹل نگرانی، خفیہ نقل و حمل، مضبوط سیکورٹی اور Confidential Handling جیسے تمام دعوؤں کے باوجود اگر پرچے لیک ہوجاتے ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ اخلاقی اور نظامی بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام رفتہ رفتہ ایک غیر انسانی مسابقتی مشین میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ طلبہ کو مسلسل نمبروں، رینکنگ اور مقابلے کی ایسی دوڑ میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں ان کی ذہنی صحت، جذبات اور شخصیت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ایک طالب علم صبح سے رات تک صرف ایک امتحان کے گرد اپنی زندگی گھماتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں سے دور ہوجاتا ہے، کھیل کود چھوڑ دیتا ہے، سماجی تعلقات محدود کرلیتا ہے اور ہر وقت صرف اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائے۔ اس شدید ذہنی دباؤ کے باوجود وہ خود کو سنبھالے رکھتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی محنت ایک دن رنگ لائے گی۔ لیکن جب یہی طالب علم سنتا ہے کہ سوالیہ پرچہ لیک ہوگیا تھا، کچھ لوگ پہلے ہی سوالات حاصل کرچکے تھے اور اب امتحان دوبارہ ہوگا، تو اس کے اندر ایک گہری ٹوٹ پھوٹ پیدا ہوتی ہے۔یہ صرف تعلیمی نقصان نہیں بلکہ نفسیاتی استحصال بھی ہے۔ ایک طالب علم پورا سال اپنی ذہنی توانائی ایک خاص مرحلے کے لئے محفوظ رکھتا ہے۔ امتحان ختم ہونے کے بعد وہ ذہنی طور پر تھکن، دباؤ اور بے چینی سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اچانک دوبارہ امتحان کی خبر اسے دوبارہ اسی اذیت ناک ذہنی کیفیت میں دھکیل دیتی ہے۔ کئی طلبہ ایسے حالات میں شدید Anxiety،Depression اور Emotional Burnout کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی تعلیمی دباؤ کے باعث خودکشیوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، وہاں اس قسم کے واقعات نوجوان ذہنوں کے لئے مزید خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہر تعلیم ، مرکزی تعلیمی بورڈ دہلی کے ڈائریکٹر اور شعبہ تعلیم جماعت اسلامی ہند کے مرکزی سیکرٹری سید تنویر احمد نے NEET UG 2026 کے پیپر لیک ہونے اور امتحان منسوخ ہونے کے اس پورے معاملے پر راقم کو ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا ہے، اس معاملہ میں میں چھ باتیں آپ کے ذریعے کہنا چاہتا ہوں ۔
(۱) اس پورے اسکینڈل کی وقت کی قید کے ساتھ ( Time-bound ) جلد از جلد جانچ ہونی چاہیے۔ کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔(۲) جو بھی اس میں ملوث ہے ، یقیناً اس میں اعلیٰ افسران سے لے کر چھوٹے عملے تک لوگ شامل ہوں گے ۔ ان سب کو مثالی سزا ملنی چاہیے ، ایسی سزا جس سے لوگوں تک ایک واضح پیغام پہنچے۔(۳) پورے این ٹی اے نظام کو شفاف اور لیک پروف بنانے کی ضرورت ہے۔ اب تو سائنسی ٹیکنالوجی آگئی ہے۔ اگر پورے نظام کو توڑ کر پیپر لیک کیا گیا ہے تو یقیناً اعلیٰ افسران اس میں ملوث ہیں ، لہٰذا سسٹم پر ازسرِنو غور ہونا چاہیے اور اسے درست اور اعلیٰ معیار کا بنایا جانا چاہیے۔(۴) این ٹی اے اور اس طرح کے اداروں میں سیاسی دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی طور پر محنت کرنے والے طلبہ کا نقصان ہو رہا ہے۔(۵) پورے NEET کے نظام کو ازسرِنو ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہی واحد نظام ہے جس کے ذریعے ہم بچوں کا انتخاب کرسکتے ہیں یا اس کے علاوہ بھی کوئی مؤثر نظام بنایا جا سکتا ہے؟ اس لیے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ میں اعتراضات داخل ہو چکے ہیں کہ یہ نظام کس طرح بااثر اور مالدار طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ حکومت باضابطہ طور پر ایک مطالعہ کروائے کہ کس طرح کے بچے میڈیکل فیلڈ میں جا رہے ہیں۔ ایک طرف ہم نئی تعلیمی پالیسی میں کہتے ہیں کہ بچے سماجی طور پر فعال رہیں، لیکن دوسری طرف یہ بچے سماجی طور پر کٹے کٹے رہ جاتے ہیں۔ کیا نیٹ امتحان کے ذریعے گزر کر آنے والے بچے سماجی طور پر فعال رہتے ہیں؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔(۶) آخری بات یہ کہ اب جو امتحان دوبارہ ہونے والا ہے، اس کی تاریخیں اس طرح طے کی جائیں کہ بچوں کا سال ضائع نہ ہو، نہ ہی وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔ بچوں کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لیے حکومت جو اقدامات کرسکتی ہے، وہ ضرور کرے۔ اعلانات اور اطلاعات میں مکمل شفافیت رکھی جائے۔ذہنی دباؤ کے سوال پر سید تنویر احمد صاحب نے جواب دیا کہ حکومت ہاٹ لائن قائم کرکے بچوں کی ٹیلی فونیک کاؤنسلینگ کے ذریعے ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے۔انہوں نے تمام ٹیوشن کلاسز سے اپیل کی ہے کہ دوبارہ امتحان کے پیشِ نظر وہ مفت کلاسز یا اسٹڈی سینٹرز کا اہتمام کریں، تاکہ والدین پر اضافی معاشی بوجھ نہ پڑے۔ انہیں موقع ملنے پر اسے پیسہ بنانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
تعلیم کے موضوع پر کئی کتابوں کے مصنف ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر بدر الاسلام صاحب اس واقعہ پر راقم سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ پیپر لیک کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کا ایک اسٹرکچرل پرابلم ہے۔ آج ہمارے نظامِ تعلیم کا پورا فوکس کسی نہ کسی طرح امتحان میں کامیابی حاصل کرنا اور زیادہ سے زیادہ نمبر لینا ہو کر رہ گیا ہے۔ تعلیمی قابلیت، تعلیمی مہارت، تصورات کی وضاحت اور فہم جیسے بنیادی تعلیمی مقاصد حاشیے پر چلے گئے ہیں۔ اس لیے اس ضمن میں جہاں امتحانات کے نظام کو شفاف اور درست کرنے کی ضرورت ہے، وہیں اس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کے اہم مقاصد کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘ (جاری)
( رابطہ ۔ 7875836830 )