غور طلب
راقف مخدومی
دنیا بھر کے مسلمان ’’قربانی‘‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تمام وہ مسلمان جو استطاعت رکھتے ہیں، اسلام کے مطابق جانور کی قربانی کرنا ان پر واجب ہے۔ اکثر لوگ اس کو صرف پیسے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ پیسے کا کردار اہم ہے، لیکن یہ صرف پیسے کی بات نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا پیغام رکھتا ہے۔
آئیے اس کی ابتدا کی طرف جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 سال ہو چکی تھی اور ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اللہ سے دعا کرتے تھے کہ انہیں اولاد عطا فرمائے۔ سائنس کے مطابق اس عمر میں اولاد پیدا کرنا ناممکن ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ اس عمر میں اولاد کے لیے دعا کرتے تو ان کی بیوی حضرت سارہ ؑ تعجب کرتیں کہ اس عمر میں ہم کیسے والدین بن سکتے ہیں۔ مگر اللہ کسی قید و بندھن میں نہیں ہے۔ 86 سال کی عمر میں اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کو پہلا بیٹا عطا کیا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت سارہ بانجھ تھیں، اس لیے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی لونڈی حضرت ہاجرہؑ سے شادی کی، جو حضرت اسماعیلؑ کی والدہ بنیں۔ بعد میں جب حضرت ابراہیم ؑ کی عمر 100سال ہوئی تو ان کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت سارہ ؑسے پیدا ہوئے۔
ایک اہم بات نوٹ کریں: نہ صرف 86بلکہ 100سال کی عمر میں بھی اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کو اولاد سے نوازا۔ یہ ان لوگوں کے لیے واضح سبق ہے جو معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب آپ کا یقین صرف اور صرف اللہ پر ہو تو کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔جب اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسماعیل ؑ سے نوازا تو انہیں آزمائش میں ڈالا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ ؑ اور دودھ پیتے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو مکہ کی بنجر اور غیر آباد وادی میں چھوڑ آئیں۔ اُس وقت وہاں خالی صحرا تھا، نہ پانی تھا نہ کوئی سبزہ۔ انہوں نے صرف کھجوروں کا ایک چھوٹا تھیلا اور پانی کی مشک چھوڑی اور خود فلسطین واپس لوٹ آئے۔ آپ ؑکایہ عمل بالآخر مکہ کی آبادی اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا باعث بنا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اُنہیں حکم ہوا کہ لوگوں کو حج کے لیے بلائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بنجر زمین دیکھ کر عرض کی ،’’یا اللہ! میری پکار کون سنے گا؟‘‘ اللہ نے فرمایا،’’تم پکارو، باقی کام مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ لاکھوں لوگ جو حج کے لیے آتے ہیں، یہ اُسی پکار کا جواب ہے اور قیامت تک یہ پکار لوگوں کو کھینچتی رہے گی۔
حج کرنے والے مسلمان صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتے ہیں، جو حج کے ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ دوڑ اسی واقعے سے منسلک ہے جب حضرت ہاجرہ ؑ نے پانی ختم ہونے پر اپنے بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ لگائی تھی۔ اسی جگہ سے زمزم کا چشمہ نکلا۔
ہمیں یہاں رُک کر سوچنا چاہیے۔ ایک باپ 86 سال کی لمبی انتظار کے بعد بیٹا پاتا ہے اور پھر اسی بیٹے کو ایسی جگہ چھوڑنے کا حکم ملتا ہے جہاں ان کے علاوہ کوئی انسان موجود نہیں تھا۔ اس واقعے سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟ اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ ان کے ایمان کا درجہ معلوم کرے۔ یہ آزمائشیں ان پر نہیں ہوتیں جن سے اللہ ناراض ہو، بلکہ اُن پر ہوتی ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔
قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر ارشاد ہے کہ مومنوں کو آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے تاکہ ان کے اجر میں اضافہ ہو۔ حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلے 86 سال انتظار کروایا گیا، پھر اسی بیٹے کو بیوی سمیت ایسی بنجر جگہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ انہیں ایک خواب آیا جس میں انہیں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دیا گیا۔ صبح اٹھ کر انہوں نے بیٹے کو خواب بتایا۔ بیٹے نے کہا،’’اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو میں حاضر ہوں۔‘‘ روایات کے مطابق شیطان حضرت ہاجرہ ؑکے پاس گیا اور کہا کہ ’’تمہارے شوہر نے خواب دیکھا ہے کہ اللہ نے اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا ہے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا،’’اگر اللہ کا حکم ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘
اس واقعے سے متعلق بہت سی روایات ہیں، مگر سب کا ایک ہی مقصد ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کا اللہ پر مکمل بھروسہ اور اطاعت۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیل ؑ کو لٹایا اور چھری سے گردن پر کاٹنے کی کوشش کی تو چھری کاٹ نہ سکی۔ کئی بار کوشش کے بعد غصے میں انہوں نے چھری پتھر پر ماری، پتھر دو ٹکڑے ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد اللہ نے ایک جانور بھیجا اور حضرت ابراہیمؑ کو اسے ذبح کرنے کا حکم دیا۔
کیا جانور کی قربانی کا مقصد صرف فرض ادا کرنا ہے؟ نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ سکھانا ہے کہ اللہ کا حکم آنے پر اپنی سب سے پیاری چیز بھی بلا تردد قربان کر دو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے مال، محنت سے کمایا ہوا مال، کھیتی باڑی، اولاد، والدین اور بیویوں کو مجھ سے زیادہ محبوب رکھتے ہو تو انتظار کرو کہ میں تم پر مصیبت نازل کروں۔یہ بہت ضروری ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم سب سے زیادہ اہم اور محبوب ہو۔ جانوروں کی قربانی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔
(مضمون نگار قانون کے طالب علم اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں)
[email protected]