فہیم الاسلام
انسان جب زندگی کا سفر مختلف ادوار اور اوقات سے طے کر لیتا ہے تو بہت ہی تھکن اور اضطرابِ دل سے اپنے ماضی کو یاد کر لیتا ہے ۔ خاص کر اس کا بچپن چاہیے وہ خوشیوں کے میلے سے منور ہو یا غموں کیے پہاڑوں سے بھرا ہوا آلودہ آسمان،وہ ہمیشہ بیتے ہوے بچپن کے اوقاتِ سے سکون حاصل کرتا ہے ۔ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد کبھی فرصت کے اوقات میں انسان جب اپنے ماضی کا سفر کرتا ہے تو اسے بچپن کی سنہری یادیں ستاتی رہتیں اور امید کرتا ہے کہ کاش وہ اپنے بچپن کے دور سے ایک مرتبہ پھر گزرے یا ان ساتھیوں سے ملے جو اس کے حسین بچپن کے ساتھی تھے۔بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو پتہ نہیں کیوں والدین اور گھر والے ان کے دلوں میں یہ ڈر بٹھادیتے ہیں کہ اب ان کے گھر میں کھیلنے کے دن ختم ہونے والے ہیں اور انہیں اسکول میں ڈال دیا جائے گا۔ اسکول کا ڈر بچوں کے ذہنوں میں اس قدر بٹھادیا جاتا تھا کہ بچے اسکول کو جیل خانہ سمجھتے تھے۔ لیکن زندگی کا ایک عرصہ گزرنے کے بعد جب انسان اپنے ماضی کو یاد کرتا ہے تو اس کے بچپن کی یادوں کا ایک بڑا حصہ اس کے اسکول کا زمانہ ہوتا ہے جہاں اس نے پہلی بار اپنے اساتذہ سے کچھ پڑھنا لکھنا سیکھا تھا۔ اسکول کا زمانہ تربیت کا زمانہ ہوتا ہے اور تربیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی نے تربیت کے زمانے میں بھول چوک کی یا غفلت کی تو زندگی بھر اسے پچھتاوا رہے گا۔ مجھے فخر ہے کہ میری تربیت ایک ایسے اسکول میں ہوئی جہاں کے مشفق اساتذہ کی بے لوث تعلیم نے میرے لیے ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر آگے چل کر مجھے اپنی زندگی کے علمی سفر میں بہت دور تک کامیابی کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔ آئیے آپ بھی میرے بچپن کی یادوں کے سفر میں شامل ہوجائیں ہوسکتا ہے کہ میری اس آپ بیتی کے سفر میں آپ کو بھی کچھ شناسا چہرے مل جائیں۔
آج میں زندگی کے جس موڑ پر ہوں اور علم و ادب سے جو کچھ موتی حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرپایا ہوں ،اس کی بنیاد کے بارے میں جب غور کرتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ میری تعلیم و تربیت اور ابتدائی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں والدین کے بعد جن ہستیوں نے میرے حق میں اپنی صلاحتیں نچھاور کیں ،وہ میرے بچپن کے اساتذہ تھے جنہیں یاد کرتے ہوئے آج میں دلی مسرت محسوس کر رہا ہوں۔ یہ یادیں ان اساتذہ کی ہیں جو میرے تعلیمی سفر کی پہلی منزل سے وابستہ تھے جی ہاں! میری مراد وادی کشمیر کا ایک عظیم الشان ادارہ جو ضلع شوپیاں کے امام صاحب علاقے میں قائم ہے جس کا نام جامعہ سراج العلوم ہے۔ جہاں اس وقت آپ اپنے زندگی کے خواب سجا رہے ہیں ، جہاں سے قوم کے لیے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں قوم کے ہادی و رہبر ثابت ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کے علمبردار بن کے قوم کا تابناک مستقبل تیار کرتے ہیں ۔ جہاں سے ڈاکٹر ، انجینئر، قلم کار ، مصنف، سماجی کارکن اور کھلاڑی اس وقت سماج میں اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جب میں جامعہ سراج العلوم میں داخل ہوا تو ایسا لگا کہ اسکی عمارتیں مجھے آواز دے رہی ہیں کہ آؤ اور ہمارے سایےتلے اپنی زندگی کے خوابوں کا اظہار کرو۔ جیسے آپ اس وقت اس ادارے میں زیر تعلیم ہیں، اسی طرح میں بھی اس ادارے کا طالبعلم رہا ہوں۔بچپن کے خیالات کے ساتھ مجھے بھی لگا کہ شاید گھر والوں نے مجھے کسی جیل خانے میں قید کردیا لیکن رفتہ رفتہ اساتذہ صاحبان کی شفقت اور تربیت نے مجھے زندگی کے سفر کے لیے ایسے تیار کیا کہ مجھے اس ادارے کی دیواروں سے محبت ہونے لگی۔ میں اندر ہی اندر فخر کے ساتھ کہتا تھا کہ میرے گھر والوں نے مجھے بہت ہی عظیم تحفہ دیا۔ اس ادارے کا نظم و ضبط، تعلیم وتربیت مجھے اپنے اور کھینچتی چلی گئی ۔ الغرض ہر کوئی چیز پرکشش تھی۔ اس ادارے میں 2016-2015 دو سال کا سفر میری زندگی کا انمول سفر رہا ۔ میرے لیے بھی دشوار تھا صبح گرم بستر کو چھوڑ کر نگران اعلیٰ کی آواز کا لبیک کرنا اور مسجد میں نیند بھری آنکھوں سے نماز فجر ادا کرنا، مگر شاید وہی اس ادارے کی خصوصیت ہے جو والدین ہمیں نہیں دے پا رہے ہیں ۔ پھر خود سے تیار ہو کے اسکول کا رخ کرنا جہاں اساتذہ صاحبان ہمیں دنیوی علوم کا سبق پڑھاتے تھے اور وقتاً فوقتاً رہبری کرتے تھے۔ اس ادارے سے طالب علم میں خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے جب وہ ساری چیزیں خود سے کرلیتا ہے۔ چاہیے وہ کپڑے دھونے ہوں، خود اپنے آپ کو اسکول کے لیے تیار کرنا ہو۔ یہ عادات انسان کی باقی زندگی میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہیں۔ اسکول میں لائبیری کے اسلامی اور دور جدید کے سائنسی تصانیف کا مطالعہ کرنا ہمارے لیے خوش قسمتی تھی۔ اس ادارے میں ایک طالب علم کو اسلام کے نظام کے تحت زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے اور دور جدید کے مختلف شعبہ جات میں اپنا سکہ جمانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس ادارے میں سب سے زیادہ جو بات میں نے سیکھی وہ وقت کی پابندی ہے میں ہمیشہ اپنے وقت کا پابند رہا اور جامعہ کی لائبریری اور مسجد میں اپنا کام کیا کرتا تھا۔ اور آج اسی وقت کی پابندی کے ساتھ میں نے اپنی کتابیں تصنیف کی جن کو مختلف شعبہ جات سے سراہنا کی گئ ۔ میرے لیے یہ ادارہ اپنے گھر سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ کہ اس ادارے نے میرے ہاتھ میں قلم تھما کے میری زندگی کے اس عظیم مشن کا آغاز کیا جہاں میں آج اپنی منزل کی اور رواں دواں ہوں۔ اس ادارے میں ہم آپس میں بحث و مباحثہ کرتے تھے اور دور جدید کے مختلف حالات کا جائزہ لیتے تھے، اور یہی تمنا کرتے تھے کہ اس ادارے سے نکل کر ہم بڑی یونیورسٹیز میں اپنا داخلہ لے سکیں۔ اور وہی ہوا اس جامعہ سے نکلنے کے بعد میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ خالی میں نہیں بلکہ ہزاروں فارغین جامعہ ہندوستان اور بیرون ممالک کے مختلف ضلعوں میں اس وقت اپنی تعلیم کا سفر آگے بڑھا رہے ہیں ۔ اس ادارے میں قرآن کے ساتھ سائنس کا مطالعہ کرنا خود اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ ادارہ انسان کی مکمل تربیت کا حامل ہے ۔
اس ادارے سے فارغ ہونے کے آج طویل مدت کے بعد اس کی یاد بہت ستا رہی ہے، جب باہر نوجوانوں کو منشیات کی لت میں گرفتار دیکھتے ہیں، جب بچوں کو والدین کی نافرمانی کرتے دیکھتے ہیں، جب نوجوانوں میں مقصد تعلیم کا فقدان دیکھتے ہیں تو اس ادارے کی اصل قدر آنکھوں کے سامنے آتی ہے کہ کس قدر یہ ادارہ ہمیں اللہ کا سچا اور نیک بندہ بنادیتا ہے، والدین سے محبت کرنا سکھاتا ہے، کس طرح ہمیں حرام اور غلط منشیات میں پھنسنے سے بچایا جاتا ہے اور بار بار قوم کے روشن مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے۔ میں آپ سب سے مخاطب ہو کر یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ خوش نصیب ہے کیا آپ اس وقت اس ادارے میں میں زیر تعلیم ہیں، اس کی چار دیواری میں زندگی کے بڑے خواب سجا کے رکھیئے، ان شاء اللہ ادارے سے فارغ ہو کے آپ ان کی تعبیر کرکے ہماری قوم کا نام روشن کریں گے۔
شعبہ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
[email protected]>
جامعہ سراج العلو م کی خوشگواربہاریں