سہیل سالم
مادیت کے اس دور میں جب زندگی نے ایک نیا روپ دھار لیا تو زندگی کی ہر ایک شے کو نفع اور نقصان کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سماج پر منفی اور مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ایسا میں اگر کسی سماج کی یا کسی قوم کی ترقی کا راز جانا ہوگا تو وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ سیاسی یا سماجی نظام کیسا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ تعلیم کس معیار کی ہے ۔تعلیمی نظام میں کن کن وسائل اور نظریے کو متعارف کرایا جاتا ہے ۔پچھلے دو تین سال سے ہمارے یہاں کے تعلیمی نظام میں صرف (نمبرات) کو اہمیت دی جاتی ہے۔جبکہ نمبرات سے کسی بھی بچے کی قابلیت یا تخلیقیت کو پرکھا نہیں جاتا ہے۔نمبرات کی اس دوڑ میں اکثر بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ۔جن بچوں کو اچھے خاصے نمبرات موصول ہوتے ہیں تو ان کے والدین ،ان کے اساتذہ اور ان کے رشتہ دار بھی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ جو بچے کم نمبرات لے کر کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کو مختلف قسم کی باتیں سنا کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ،جس سے سماجی توازن بگڑ سکتا ہے اور سماجی میں برائیاں جنم لے سکتی ہیں ۔تعلیم میں نمبرات کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اخلاق و آداب کی ہے۔اگر کسی بچے نے سب سے زیادہ نمبرات حاصل کئے، مگر اخلاق و عادات کے حوالے سے وہ ناآشنا ہے تو اس کے نمبر اور اس کی تعلیم سماج کے لئے کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتی ہے ۔ہاں اگر کسی بچے نے بہت کم نمبر حاصل کیے لیکن اخلاق ،اداب ،کردار اور نفع و نقصان کا علم ہو تو یہی بچے سماج کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔مادیت کے اس دور میں جو تعلیم اخلاق و آداب سے دور ہو وہ تعلیم سماج کی کوکھ کے لئے زہر ہے۔بقول اقبال ؎
تعليم کے تيزاب ميں ڈال اس کي خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھير
حال ہی میں دسویں اور بارویں جماعت کے ان بچوں کے نتائج کا اعلان ہوا، نیز وادی جنت بے نظیر کے بہت سارے نونہال امتحانات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔دسویں جماعت میں کامیابی کی شرح 85.3 فیصد سے زائد رہی جبکہ بارویں جماعت میں کامیابی کی شرح 84.2 فیصد رہی ۔ دسویں میں بھی اور بارویں جماعت میں بھی طالبات نے نمایاں کاکر دگی دکھائی، طلباء کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اب ان کے والدین سے استدعا ہےکہ وہ اپنے بچوں کو کیر یر کے معاملات میں تنگ نہ کریں۔انھیں جس میدان (سائنس یا غیر سائنس )میں دلچسپی ہیں، جانے دیں تاکہ مزید پڑھائی میں ان کی دل چسپی بر قرار رہے ۔دوسری اہم بات انھیں دینی علو م سیکھنے میں بھی پہل کریں کیونکہ تعلیم کا تب تک کوئی مقصد نہیں، جب تک ایک طالب علم روشنی اور تاریکی میں فرق نہ کرسکے۔ اس لئے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچوں (بیٹا ہو یا بیٹی) کو ایسے ماحول میں نہ رکھیں، جہاں پہ روشنی اور اندھیرے کا گرم بازار ہو،شر غالب ہو،فسق وفجور عام ہواورشیطانی مراکزکی بہتات ہو بلکہ انہیں ایسی جگہ پر بسائیں، جہاں پہ اچھے لوگوں کی آبادی ہو،علمی ماحول ہواور آداب زندگی کے مراکز ہو تاکہ یہ نونہاں دارالعمل میں بھی کامیاب ہوجائے اور عالم بززخ میں بھی۔انھیں ایسی تعلیم سے آراستہ کریں، جن سے ان اخلاقی تربیت ہو۔ ؎
علم سنگ میلِ منزل علم جوش ِکارواں
علم ہر اک ضرورت مرو زن پیر وجواں
علم سِرّ وحدت ِحق علم بحر ِبیکراں
علم میراث نبوت علم آبِ تشنگاں
علم ساری رفعتوں کا نقطۂ آغازہے
عرش و کرسی سے بھی آگےعلم کی پروازہے
بچوں کو تعلیم کا اصل مفہوم سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ تعلیم کا مفہوم یہ ہے جس کے ذریعے لوگوں اپنے مخصوص عادات و اطوار ،ہنر اور حکمت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی وراثت کو محفوظ کر سکے۔ تکنیکی اصطلاح میں تعلیم سے مراد وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے ایک صحت مند معاشرہ علم وادب ،ہنر وفن،روایات اور اقدار کا درس دے کر صحت مند معاشرے کی تشکیل دے کر ایک مہذب قوم پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے۔مدرسہ اور اسکول میں دی جانے والی تعلیم و تربیت طلب علم کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے جو طالب علم اپنی عمر کے لحاظ موصول کرتا رہتا ہے۔ سب سے پہلے طالب علم کو ابتدائی تعلیم primary education کے حصول کی منزل سے گزرنا پڑتاہے ۔اس کے بعدپھر درمیانی تعلیم middle education کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔اس کے بعد وہ اعلی تعلیم higher education کے راستے پر گامزن ہوسکتا ہے۔جو کہ طالب علم یونیورسٹیوں اور دیگر اعلی درسی اداروں سے میں داخلہ لے کر حاصل کر سکتاہے۔تعلیم کے معنی ، تعلیم کے مقاصد اور تعلیم کے اصول و ضوابط کو سمجھنا ہر ایک فرد کے لئے لازمی ہے ۔ شعوری اور غیر شعوری طریقے سے حاصل کی جانے والی تعلیم انسانی زندگی کی ایک خاص عمل ہے۔یہ عمل پیدائش سے لے کر قبرستان تک انسانی زندگی کا ایک اہم کارنامہ تصور کیا جاتا ہے اور اس عمل کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی غرص پنہاں ہوتا ہے ۔چناچہ تعلیم اور عمل کے د رمیان ایک خاص رشتہ ہے ۔ تعلیم کے ذریعے موصول ہوئے تجربہ اور مشاہدے سے انسانی زندگی اور سماج کی اصلاح اور فلاح و بہبودی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسانی زندگی کا شعور پختہ ہونے کے ساتھ ساتھ پنپتا ہے۔وہ تاریخی ،تہذیبی، سماجی ،معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں سے آگاہ ہوجاتا ہے نیز ان تمام تبدیلیوں سے اپنے سماج اور اپنے آس پاس کوسنوار سکتا ہے۔ اپنے افہام و تفہیم سے سماج کی خامیوں کا تدرک کرتے ہوئے ایک اچھی سوچ اور ایک اچھے معاشرے کی تتشکیل دے سکتا ہے۔سماج کی بدحالی اور سماج کی بیماریوں کو بہتر اور ساز گار علاج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سماجی زندگی سے وابستہ مختلف شعبوں کی تربیت اور ان کی تقدیر تعلیم کے ذریعے ہی بدل سکتی ہے۔ ایک اچھے ا ور صحت مند معاشرے کے لئے ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ اس طرح سے ایک با شعور اور مہذب سماج جنم لیتا ہے، جس کے افراد باشعور اورتہذیب یافتہ ہوں۔ معاشرہ ہر لخاظ سے خوش حال اور خوشگوار ہو۔ان کے پاس ایک اچھا خاصا نظام ہو اور زندگی گزارنے کا ایک اعلی درس دیتا ہو، جس میں وہ اپنی تقریر کو بھی روشن کر سکے اور سماج کی تقدیر کا راز بھی پنہاں ہو۔ جس کی طرف علامہ اقبال اشارہ کرتے ہیں کہ ؎
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
(رابطہ۔ 9103930114)
�������������������