خوبصورتی اور تندرستی کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے یہ دونوں ایک دل کی دھڑکن سے بندھے ہوتے ہیں ایک متاثر ہوگا تو دوسرا بھی اس کی زد میں آئے گا۔ خوبصورتی کی کئی حوالوں سے تعریف کی جا سکتی ہے مگر چند حرفوں میں بیان کرنا ہو تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب آپ کا ظاہر ویسا دکھائی دے جیسا خدا نے آپ کو تخلیق کیا ہے، اس میں چربی کے ڈھیر ہوں نہ غلاظت کے۔ ضرورت سے زیادہ اور اور غیر معیاری غذا غلاظت کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ یہ ہمارے جسم کو بدصورت، دل کو داغدار اور روح کو میلا کر دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ میل زہر بن کر مختلف بیماریوں کا روپ دھارنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم، دل اور روح کی غذا کا خیال کرلیا جائے تو وجود ایک نکتے پر رواں ہو جاتا ہے۔
تیزرفتار وقت کی تاروں پر چلتا ہوا انسان مسابقت اور جیت کی دوڑ میں وجود کے درخت کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے کبھی اسے وقت پر پانی نہیں دیتا اور کبھی کھاد ڈالنا فراموش کر دیتا ہے۔اگر انسان شعور کی منزلوں کو چھو لے تو شاید وہ اپنا بہتر دھیان کرنے والا طبیب ہو جو کبھی جسم کو چیر پھاڑ کے مراحل تک آنے ہی نہ دے۔ انسان اپنا سب سے زیادہ معتبر طبیب ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے تمام دکھ اور اذیتیں اس کے ظاہر اور باطن میں ہی موجود ہوتی ہیں مگر ابھی خودشناسی کا وہ مرحلہ نہیں آیا اسی لیے ظاہری طبیب کی ضرورت ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔طبیب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے وجود میں کن چیزوں کی کمی ہے اور کن کی زیادتی کیونکہ کمی بیشی ہی عدم توازن کا سبب بنتی ہے اس لئے طبیب پہلے دواؤں اور پھر آپریشن کے ذریعے کانٹ چھانٹ کرکے وجود کو صحت مند بلکہ نارمل بنانے کی تگ و دو کرتا ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ زمین کے قالین پر انسانی عقل سائنس کی نئی دریافتیں سجاتی جا رہی ہے۔ صحت کے ساتھ خوبصورتی کے دائمی تعلق کو مدِنظر رکھتے ہوئے اب نئے زاویے سے تحقیق ہو رہی ہے۔جب بھی کبھی ہسپتالوں کا دورہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی تو بے شمار حیرتوں کا سامنا ہوا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام حیرتیں بہت خوشگوار تھیں۔ عموماً اسپتال کے نام کے ساتھ ہی ایک عجیب سا ناخوشگوار منظر نظروں کے سامنے لہرانے لگتا ہے۔ دوائیوں کی بدبو اور ناموافق فضا بیمار کی طبیعت کو مزید بوجھل بنا دیتے ہیں لیکن یہ ہسپتال ایک پُرفضا مقام یا ریستوران کی طرح ہے جس کے داخلی دروازے پر خوشگوار احساس آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اس کی سجاوٹ، ڈیزائن اور فرنیچر جمالیاتی قدروں کی ترویج کرتے ہوئے آپ کو خوبصورتی اور صحت مندی کا احساس دلاتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ انسانوں کو خوبصورت اور صحت مند بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ مردوں عورتوں دونوں کے ظاہری حسن و جمال کی آرائش اور بیماریوں کا سدّباب جدید طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ یوں تو خدا نے ہر بندے کو خوبصورت بنا کر بھیجا ہے لیکن بدپرہیزیوں اور فطرت سے دوری کے باعث ہم بدصورتی کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیتے ہیں جو نہ صرف ہمارے جسم بلکہ دل اور روح کو بھی آلودہ کر دیتی ہے۔ جس طرح چہرے پر جمی مٹی، داغ دھبے اور چھائیاں ختم کی جاتی ہیں اسی طرح نفسیاتی الجھنوں کا سبب بننے والی جسمانی وجوہات کے سدباب کی کوشش اور سوچ کی صفائی کی جاتی ہے۔شاید وجود کا کوئی انگ ایسا ہو کہ جس کے بارے میں ہم نے وہاں کام ہوتا نہ دیکھا ہو۔ جب آپ اس ادارے سے باہر نکلتے ہیں تو آپ خود کو اِس طرح ہلکا پھلکا اور سرشار محسوس کرتے ہیں جیسے تن من کی تمام کثافتیں دھل گئی ہوں۔ یہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹر وہ طبیب ہیں جو دلوں اور روحوں کے اطمینان کی خبر رکھتے ہیں، مریض کی سوچ پڑھ لیتے ہیں پھر ایسا دم کرتے ہیں کہ وہ خوش و خرم ہو کر زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نکل جاتا ہے۔ موقع ملے تو وہاں ضرور جائیں اور سائنس کے نئے انکشافات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر انسانی عقل کو شاباش دیں۔
دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو، جسے ذہنی دباؤ کا سامنا نہ ہوتا ہو۔ ملازمت، یوٹیلیٹی بلز یا زندگی کا کوئی نہ کوئی واقعہ آپ کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرسکتاہے، تاہم اس کیفیت میں آپ کب تک رہتے ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ذہنی دباؤ کو کیسے مینیج کرتے ہیں۔ عام طور پر ذہنی دباؤ سے دور رہنے کیلئے صحت بخش غذائیں، ورزش اور بھرپور نیند جیسے معمولات پر عمل کیا جاتا ہے۔ نیویارک کے ادارے الیون الیون ویلنیس سینٹر کے ہیلتھ کوچ جیکی ڈومبورگیان کا کہنا ہے، ’’ اگر ذہنی دباؤ آپ کے بالوں، جِلد اور ناخنوں سے ظاہر ہونے لگے تو آپ کبھی دباؤ کا شکار ہونا پسند نہیں کریں گی لیکن کچھ علامات ایسی ہیں، جو آپ کے ذہنی دباؤ کو ظاہر کرسکتی ہیں ‘‘۔
آنکھوں کی دیکھ بھال :
کل کیا کرنا ہے، اس کی ٹینشن آج سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات کل کے متوقع حالات آج کی نیند اڑادیتے ہیں۔ نیند نہ آنے کی وجہ سے آپ کی آنکھوںکے نیچے پانی جمع ہو جاتا ہے اور وہ پھولنے لگتی ہیں۔ صبح آپ کی آنکھیں اور زیادہ خرابی ظاہر کررہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ کو سیاہ حلقوں سے پاک خوبصورت آنکھیں چاہئیں تو ساری سوچوں کو بالائے طاق رکھ کر موبائل اسکرین اور دیگر الیکٹرونک ڈیوائس بندکرکے بھرپور نیند لینے کی تیار ی کریں اور کیفین سے پا ک چائے جیسے کہ کیمومائل ٹی کا ایک کپ پئیں۔ اس سے آپ کو اچھی نیند آئےگی۔ اگر پھر بھی صبح آپ کی آنکھیں سوجی ہوئی ہوں تو ایک ٹھنڈا ٹھار چمچ ( جو فریج میں رکھا ہو) الٹا کرکے آنکھوںکے نیچے پھیریں۔ اس کے بعد آنکھوں کے نیچے الٹی مثلث بنا کر کنسیلر لگائیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے ناک سے چمک شروع ہو کرآپ کی آنکھوںتک بڑھتی چلی جائے گی اور اس سوجن کو چھپالے گی۔
خشک اور کھردری جِلد:
اگر آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں توہو سکتاہے کہ آپ زائد مقدار میں پانی نہ پی رہی ہوں، خصوصاً موسم گرما میں زیادہ پانی نہ پینے سے ڈی ہائیڈریشن اور آپ کی جِلد کاغذ جیسی خشک ہو سکتی ہے۔ اس کے سدباب کے لیے آپ بہت سارا پانی پئیں، کم سے کم آٹھ گلاس اور وہ بھی ہر روز۔ جسم میں صحت بخش اینٹی آکسیڈنٹس میں اضافے کیلئے آپ کو گرین ٹی پینے اور ایسی غذائیںکھانے کی ضرورت ہےجن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو، جیسے کہ کھیرے ، ٹماٹر، چقندر، تربوز یا ہری سبزیاں وغیرہ۔ فوری ہائیڈریشن کیلئے ایک سیرم استعمال کریں، جس میں ہیالیورونک ایسڈ (Hyaluronic Acid) ہو۔ یہ ایسا جزو ہے جوقدرتی طور پر آپ کے جسم میں موجود ہوتاہے اور پانی سے ہزار گنا زیادہ وزن رکھتاہے۔ یہ ہوا سے نمی جذب کرکے جِلد تک پہنچاتا ہے اور آپ کی جِلد دمکنے لگتی ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے جِلد کے مسائل بھی سامنے آتےہیںجیسے کہ ایکنی، چنبل یا ایگزیما۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے کورٹیسول (Cortisol) ریلیز ہوتا ہے، اس کی وجہ سے جسم میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں، جس سے آپ کے چہرے اور جِلد پر دانے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے آپ کے جسم میں اچھے اور برے بیکٹیریاکا توازن بگڑ جاتاہے اوریہ آپ کے چہرے پر ایکنی کی صورت ظاہر ہونا شروع ہوتاہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ گہری سانسیں لیں (ایک لمبی سانس لے کر روک لیں اور چند سیکنڈوں کے بعد آہستہ آہستہ اپنے منہ سےنکالتے رہیں)، اس سے انزائٹی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین اس کیلئے 10منٹ کا مراقبے بھی تجویز کرتے ہیں۔ بہت سار ا پانی پینا اور متوازن غذا کھانا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ پھل ، سبزیاں اور اعلیٰ معیار کا پروٹین بھی ان مسائل کے حل کیلئے لازمی ہیں۔
خارش:ذہنی دباؤ کی وجہ سے بگڑنے والا ہارمون Dysbiosis پیدا ہوتا ہے، جس سے برے بیکٹیریا، اچھے بیکٹیریا پر حاوی ہوجاتے ہیں اور جِلد میں خارش ہونے لگتی ہے۔ جِلد کو پرسکون رکھنے کیلئے سانس کی مشق بہت کام آتی ہے۔ گہری سانس لینے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور اس قسم کے مسائل کم پیدا ہوتے ہیں۔ سانس کی مشق کے علاوہ آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔