نزہت جہاں
ہمارا معاشرہ اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ گھروں سے تعلیمی چراغ بجھ رہے ہیں اور گلیوں میں جرائم کے اندھیرے پھیلتے جا رہے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں،یہ بے تعلیمی کا زہریلا نتیجہ ہے۔ جہاں تعلیم نہیں ہوتی، وہاں صرف جہالت نہیں رہتی بلکہ سارا معاشرہ اندھے کنویں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ نہ شعور باقی رہتا ہے، نہ اخلاق، نہ انسانیت، نہ ذمہ داری ہے ۔ آج سب سے بڑا دشمن کوئی بیرونی طاقت نہیں بلکہ ہماری اپنی جہالت ہے۔ جہاں تعلیم کی روشنی بجھتی ہے، وہاں شراب نوشی پھولتی ہے، چوری عام ہوتی ہے، رشوت خوری اداروں کی بنیادیں ہلا دیتی ہے اور خواتین کی عزت نیلام ہو جاتی ہے۔ جاہل انسان صرف طاقت استعمال کرنا جانتا ہے مگر عقل، شعور اور تہذیب سے خالی ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی خواتین کی عزت کرنا، بزرگوں کا احترام کرنا اور بچوں کی صحیح تربیت کرنا جانتا ہے۔ تعلیم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتی، بلکہ حلال و حرام کا فرق سکھاتی ہے، ضمیر جگاتی ہے اور معاشرے کو تباہی سے بچاتی ہے۔ منشیات، چوری، رشوت، یہ سب اُس زمین پر اُگتے ہیں جہاں تعلیم نہیں بوئی جاتی۔ آج اگر ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب نہ دی تو کل یہی ہاتھ نشہ، چوری اور جرم کی طرف بڑھیں گے۔ اگر آج قلم نہ پکڑایا تو کل ہتھکڑی انہیں روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
سماجی تنظیمیں اسکولوں اور کالجوں کے دروازے بچوں کے لیے کھولیں، تعلیم کو صدقہ جاریہ سمجھ کر عام کریں، کیونکہ جو قوم کتاب چھوڑتی ہے وہ زندہ رہتے ہوئے بھی مر جاتی ہے۔ صرف ڈگری نہیں بلکہ شعور ضروری ہے، تربیت ضروری ہے، انسانیت ضروری ہے۔ماں باپ ہوش کے ناخن لیں! اپنی اولاد کو جہالت کے اندھے کنویں میں نہ گرنے دیں۔ اگر آج ہم نے لاپرواہی کی، تو آنے والی نسلیں نشے کی لعنت، جرائم کے دلدل اور بے حسی کی آگ میں جھلستے رہیں گی۔ ملک تب بنتا ہے جب قوم پڑھتی ہے، قوم تب سنبھلتی ہے جب کتاب کھلتی ہے اور معاشرہ تب محفوظ ہوتا ہے جب اس کے شہری تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اگر زندگی بچانی ہے تو تعلیم اپنانی ہوگی، ورنہ جرم، نشہ اور بے راہ روی ہماری آنے والی نسلوں کو نگل لیں گے!