محمد عرفات وانی،پلوامہ
ہمارے سماج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو انسان سازی، شعور، اخلاق، تخلیقیت اور شخصیت سازی کے بجائے محض ایک تنگ، بے رحم اور غیر انسانی مقابلے میں بدل دیا ہے۔ دسویں جماعت کا امتحان ایک فطری اور مثبت مرحلہ ہونا چاہیے تھا جہاں ہر بچہ اپنی صلاحیت، دلچسپی اور خوابوں کو پہچان کر آگے کے راستے کا انتخاب کرتا مگر ہمارے ہاں یہی مرحلہ ایک خوفناک دباؤ کی ابتدا بن جاتا ہے جو بچے کے ذہن، جذبات اور خوابوں پر پہلا حملہ ہے۔ جیسے ہی نتیجہ آتا ہے پورا سماج، رشتہ دار، محلہ، اسکول اور والدین ایک ہی سوال مسلط کر دیتے ہیں اب میڈیکل لے گا یا نان میڈیکل؟ گویا عزت، وقار اور کامیابی انہی دو راستوں سے منسلک ہیں اور باقی ہر راستہ ناکامی، ذلت اور بے قدری کی علامت ہے۔ یہ سوال دراصل بچے کی شخصیت، فطری رجحان اور خوابوں پر پہلا جارحانہ حملہ ہے۔ سماج یہ فرض کر لیتا ہے کہ بچہ آزاد فرد نہیں بلکہ ایک منصوبہ ہے جسے اپنے مفاد، سوچ اور سہولت کے مطابق ڈھالا جائے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ بچہ کس چیز میں بہتر ہے، وہ کہاں خوش ہے، اس کی دلچسپی کہاں ہے اور اس کی صلاحیت کس میدان میں فروغ پائے گی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ ایک بھیڑ کا حصہ بن جاتا ہے جہاں انفرادیت جرم اور سوال کرنا گستاخی سمجھا جاتا ہے۔
کشمیر میں دسویں کے بعد طلبہ پر دباؤ کی شدت زیادہ ہے، خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں۔ پلوامہ، اننت ناگ اور کچھ دیگر دور دراز علاقوں کے طلبہ اکثر کوچنگ سینٹروں تک رسائی نہیں رکھتے جس سے تعلیمی غیر مساوات پیدا ہوتی ہے۔ محکمہ تعلیم کشمیر کی تازہ ترین رپورٹ (2025) کے مطابق 68 فیصد طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب محسوس کرتے ہیں جبکہ 42 فیصد والدین نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے بچوں پر میڈیکل یا نان میڈیکل کے انتخاب کے دباؤ میں براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 15 فیصد طلبہ نے بتایا کہ انہیں امتحانات یا کیریئر کے دباؤ کے سبب نیند کی کمی اور گھبراہٹ کا سامنا ہے۔ اگر کوئی طالب علم اس دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے آرٹس یا کامرس کا انتخاب کرے تو اسے فوری طور پر ناکام، کمزور اور غیر سنجیدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ آرٹس اور انسانی علوم ہمارے سماج میں محض ایک الزام ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی شعبے ادب، تاریخ، فلسفہ، صحافت، قانون، سماجیات اور تحقیق کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ فوری مالی فائدہ ان میں نظر نہیں آتا اس لیے انہیں جان بوجھ کر کمتر اور غیر ضروری بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے علم کو دولت کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک معاشرہ فکری اور سماجی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔
والدین اس بحران میں ایک تکلیف دہ کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اکثر والدین بچے پر دباؤ محبت کے نام پر ڈالتے ہیں مگر حقیقت میں یہ خوف ہوتا ہے غربت کا خوف، بے روزگاری کا خوف، سماجی طعنوں کا خوف اور رشتہ داروں کے سوالات کا خوف۔ فلاں کا بیٹا کہاں پہنچ گیا؟ فلاں کوچنگ میں پڑھ رہا ہے، تمہارے بچے نے کیا لیا ہے؟ جیسے جملے والدین کو اندر سے توڑ دیتے ہیں اور وہ اسی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ اپنے بچے پر فیصلے مسلط کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کی آواز دب جاتی ہے اور وہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس کی رائے، اس کی خوشی اور اس کے خواب کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ کچھ طلبہ کے حقیقی تجربات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں، ترال کے ایک طالب علم نے بتایا میں آرٹس لینا چاہتا تھا مگر والدین نے کہا کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا آخر میں دباؤ میں آ کر نان میڈیکل لے لیا اور اب میری دلچسپی اور خواب کہیں کھو گئے ہیں۔ ایک والدہ نے اعتراف کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ کامیاب ہو لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ دباؤ اس کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس پورے نظام کو سب سے خطرناک شکل کوچنگ مافیا نے دی ہے۔ آج میڈیکل یا نان میڈیکل لینے والا طالب علم ہائر سیکنڈری اسکول میں اصل تعلیم حاصل کرنے کے بجائے کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے اگر اصل پڑھائی کوچنگ میں ہے تو ہائر سیکنڈری اسکول کس لیے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اسکولوں میں نصاب اور اساتذہ کی موجودہ حالت طلبہ کو سیکھنے میں مکمل مدد فراہم نہیں کرتی۔ اساتذہ انتظامی دباؤ، کاغذی کارروائی اور غیر تعلیمی ذمہ داریوں میں الجھے ہوئے ہیں اور نصاب رٹا سسٹم پر مبنی ہے جو تنقیدی سوچ اور تحقیق کو فروغ نہیں دیتا۔ نتیجتاً طالب علم اصل سیکھنے کے لیے کوچنگ پر انحصار کرتا ہے۔ کوچنگ سینٹر علم نہیں بلکہ امید بیچتے ہیں اور اس امید کی قیمت بہت بھاری ہے، ایک لاکھ، پچاس ہزار یا اس سے زیادہ۔ یہاں سب سے تکلیف دہ سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ جو غریب والدین یہ فیس ادا نہیں کر سکتے، کیا ان کے بچوں کو آگے بڑھنے کا حق ہی نہیں؟ یوں تعلیم مساوات کا ذریعہ بننے کے بجائے طبقاتی تقسیم کا سب سے طاقتور ہتھیار بن گئی ہے۔
دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، لیبز اور وسائل کی عدم دستیابی، اساتذہ کی قلت اور سہولیات کی کمی اس ناانصافی کو مزید بڑھاتی ہے جبکہ شہری علاقوں میں کوچنگ سینٹروں کی بھرمار ہے۔ کامیابی کا معیار محنت یا ذہانت نہیں بلکہ پیسہ اور مقام بن گیا ہے۔ کوچنگ کلچر نے اسکول کے استاد کی عزت اور وقار کو بھی نقصان پہنچایا اور بچے کے ذہن میں یہ بٹھا دیا کہ اصل علم کوچنگ ٹیچر کے پاس ہے۔ والدین اسکول کے استاد پر سوال اٹھاتے ہیں مگر کوچنگ سینٹرز کے جھوٹے دعووں اور اشتہارات پر اندھا یقین رکھتے ہیں۔ ناکام بچوں کی کہانیاں چھپی رہتی ہیں اور ان کے حقوق نظرانداز ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل گیجٹس، اسکرین ٹائم کی لت، آن لائن ای لرننگ اور نجی ایجوکیشن پلیٹ فارمز کی غیر منظم یلغار نے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کامیابی کی نمائش، رینک، سیلیکشن پوسٹس اور موازنہ بچوں میں احساسِ کمتری، اضطراب اور ذہنی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ امتحانی فیس، کتابیں، ٹیسٹ سیریز، فارم فیس اور اضافی اخراجات غریب اور متوسط طبقے پر دوہرا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ امتحانات میں شفافیت، ریزرویشن یا کوٹہ سسٹم میں ابہام طلبہ میں ناانصافی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ ابتدائی عمر میں ٹیلنٹ کی سائنسی شناخت کا فقدان بچوں کو غلط سمت میں دھکیل دیتا ہے۔ کلاس رومز میں زیادہ تعداد اور اساتذہ کی تربیت کی کمی انفرادی توجہ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔
اس کے نتیجے میں بچوں کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ڈپریشن، اینزائٹی، تنہائی، غصہ، شناخت کا بحران اور خودکشی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ کشمیر کے کئی ہائر سیکنڈری اسکولز میں اسکول کونسلرز اور سپورٹ سسٹمز کی کمی ہے والدین و بچوں کے درمیان مکالمے کا فقدان ہے اور خصوصی ضرورتوں والے بچوں یا نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ حکومتی اقدامات اور اصلاحات بھی کمزور ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکالرشپ، بین الاقوامی مواقع، ووکیشنل اور اسکل بیسڈ پروگرامز موجود ہیں، مگر والدین اور طلبہ کی آگاہی محدود ہے۔ کلاس رومز میں زیادہ تعداد اور اساتذہ کی تربیت کی کمی انفرادی توجہ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ تعلیمی پالیسی میں سیاسی مداخلت، امتحانات میں لیکیج اور معیار کے مسائل بھی موجود ہیں۔
عملی اقدامات اور حل کی جانب توجہ مرکوز کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سبجیکٹ میں غیر روایتی کیریئرز جیسے کھیل، موسیقی، فنون لطیفہ اور ہنر کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ہر طالب علم اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔ طلبہ میں مستقل مزاجی، وقت کی منصوبہ بندی اور تنقیدی سوچ کی تربیت دی جائے تاکہ وہ دباؤ کے باوجود خود مختار فیصلے کر سکیں۔ سماجی و کمیونٹی سطح پر طلبہ کی رہنمائی کے پروگرام فعال ہوں، اور اسکول سطح پر اسکالرشپ، بین الاقوامی مواقع اور ووکیشنل ٹریننگ کے بارے میں والدین و طلبہ کی آگاہی بڑھائی جائے۔ اساتذہ کی پروفیشنل ڈویلپمنٹ اور جدید تدریسی طریقوں پر زور دیا جائے تاکہ اسکول حقیقی تعلیم اور انسان سازی کا مرکز بن سکے۔ مقامی کمیونٹی اور صنعت کی شراکت داری کو فروغ دیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے عملی دنیا سے جڑ سکیں اور طلبہ کو کیریئر کے حقیقی مواقع سے روشناس کرایا جا سکے۔ ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے اسکول کونسلرز اور سپورٹ سسٹمز کو فعال بنایا جائے تاکہ ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر ذہنی مسائل کا بروقت علاج ممکن ہو۔
اساتذہ، والدین اور پالیسی ساز حضرات سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو صرف رینک، نتائج یا فیس کا معاملہ نہ بنائیں بلکہ انسان سازی، شعور، تخلیقیت، اخلاقی تربیت، عملی زندگی کی مہارتیں اور ذہنی صحت کی حفاظت کا ذریعہ بنائیں۔ ووکیشنل، اسکل بیسڈ، آرٹس اور انسانی علوم کو عزت دی جائے، متبادل راستوں اور کیریئر گائیڈنس کا نظام فعال ہو اور ہر بچہ اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق آگے بڑھ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالا جائے۔ ہر بچہ منفرد ہے، ہر دماغ کا سفر الگ ہے اور ہر صلاحیت کا اپنا راستہ ہے۔ جب ہم نمبر، رینک، کوچنگ فیس اور سماجی دباؤ کو کامیابی کا واحد معیار بناتے ہیں تو ہم ایک پوری نسل کے خوابوں کا قتل کر دیتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال بدلیں، میڈیکل یا نان میڈیکل کے بجائے یہ پوچھیں تم کیا بننا چاہتے ہو؟ تمہاری صلاحیت کیا ہے؟ تمہاری خوشی کہاں ہے؟ کیونکہ مضبوط اور زندہ قومیں کوچنگ سینٹروں کی فیکٹریوں میں نہیں بنتیں بلکہ ایسے تعلیمی نظام سے جنم لیتی ہیں جو انسان کو انسان بنانا جانتا ہو نہ کہ صرف ایک رینک یا نتیجہ۔
تعلیم کا اصل مقصد نمبر، رینک یا میڈیکل و نان میڈیکل کا انتخاب نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی نشوونما، تخلیقیت، اخلاقی تربیت اور ذہنی سکون ہے۔ ہر بچہ منفرد ہے، اس کی صلاحیت اور دلچسپی کو سامنے رکھنا ہی معاشرے کی حقیقی ترقی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال بدلیں، دباؤ کم کریں اور بچوں کو وہ آزادی دیں جس کی وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ مضبوط اور زندہ قومیں صرف رینک یا نتائج سے نہیں بلکہ ایسے تعلیمی نظام سے جنم لیتی ہیں جو انسان کو انسان بنانا جانتا ہو۔
رابطہ۔9622881110