شہباز رشید بہورو
انسان ایک پیچیدہ مخلوق ہے، بلکہ اگر کہا جائے تو وہ ایک مائیکرو یونیورس ہے۔ جس طرح کائنات میں بے شمار پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں، اسی طرح انہی پیچیدگیوں کی پرتیں انسانی وجود کے اس چھوٹے سے حجم میں بھی موجود ہیں۔ آج تک کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ انسانی وجود کو، اس کی پوری حقیقت کو اور اس کی زندگی سے وابستہ تمام عمومی مسائل کو مکمل طور پر جانتا ہے۔ بلکہ ہر صاحبِ فکر یہی کہتا ہے کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔
انسانی وجود کو سہولت اورعمومی تفہیم کی خاطر اگر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک کو مادی وجود اور دوسرے کو روحانی وجود کہا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں وجود اپنی نوعیت، مطالبات اور تقاضوں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مادی وجود کے مطالبات اس فزیکل ورلڈ سے وابستہ ہیں، جبکہ روحانی وجود ایک غیر مادی کائنات سے جڑا ہوا ہے۔
اگر انسان اعتدال کے ساتھ بدن کا خیال رکھے اور اس کے تقاضوں کو متوازن انداز میں پورا کرے تو اسے دنیاوی نعمتوں سے لطف بھی حاصل ہوتا ہے اور صحت و تندرستی بھی برقرار رہتی ہے۔ لیکن اگر انسان بے اعتدالی کے ساتھ، حد سے زیادہ صرف بدن ہی کی پرورش اور خواہشات کی تکمیل میں لگ جائے تو یہی رویہ بے شمار بیماریوں کا سبب بن جاتا ہے، جو انسان کو صحت و تندرستی سے محروم کر کے لذتِ زندگی سے بھی دور کر دیتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص اگر بدن کے تقاضوں اور اس سے جڑی خواہشات میں اس قدر منہمک ہو جائے کہ اس کی ہر حرکت کا محور بدنی خواہشات کی تکمیل بن جائیں، تو اس کے نتیجے میں اسے بلڈ پریشر، ایسڈیٹی، قبض، شوگر، کولیسٹرول، فیٹی لیور اور اسی نوعیت کی متعدد بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جدید انسان کے طرزِ زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف مورخ یووال نوح ہراری اپنی کتاب Homo Deus, A Brief History of Tomorrow میں ایک چونکا دینے والی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ’’تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ آج دنیا میں بھوک سے مرنے والوں کے مقابلے میں حد سے زیادہ کھانے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے۔ متعدی بیماریوں کے مقابلے میں بڑھاپے اور طرزِ زندگی سے وابستہ امراض سے مرنے والوں کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح فوجیوں، دہشت گردوں اور مجرموں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے مجموعی عدد سے زیادہ لوگ خودکشی کے ذریعے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں ایک اوسط انسان کے لیے قحط، ایبولا یا دہشت گرد حملے کے مقابلے میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ میکڈونلڈز میں حد سے زیادہ کھانے یا غیر متوازن طرزِ زندگی کے نتیجے میں موت کا شکار ہو جائے۔‘‘
ایسے اشخاص کی زندگیاں ہمیشہ پرہیز اور پابندی کی نظر ہو کر نہایت تنگ دائرے میں قید ہو جاتی ہیں۔ اس طرح اگر انسان روح کے مطالبات کو سمجھنے سے قاصر رہے، یا بدن اور خواہشات کی خدمت میں اس قدر مصروف ہو جائے کہ بیچاری روح کی مسلسل پکار کی طرف بھی کوئی توجہ نہ دے سکے، تو اس کے نتیجے میں روح کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اخلاق، اقدار، تقویٰ و پرہیزگاری، رحم و ترس، بلکہ امن و سکون جیسی نعمتوں سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔یوں اس کی زندگی بے شمار روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ ایسے شخص کا معیار اس قدر گر جاتا ہے کہ قرآنِ کریم اس کی بہترین ترجمانی اسفل السافلین کے الفاظ میں کرتا ہے، بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔لیکن اگر روح کے مطالبات کو پورا کیا جائے، اس کے تقاضوں کی معرفت حاصل کی جائے، ان کی تکمیل کے ذرائع تلاش کر کے عملی کوشش کی جائے، تو انسان حقیقی معنوں میں فلاح اور کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔
تزکیہ کے مفہوم کو بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ نفس کی تشریح کی جائے، تاکہ نفس، بدن اور خواہشات کے معانی آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اصطلاحات کی تعریف اہلِ علم نے اپنے اپنے فہم اور زاویۂ نظر کے مطابق کی ہے۔بدن کو تو ہم سب جانتے ہیں، اس کے مختلف اعضاء ہیں اور ہر عضو کی ایک خاص ذمہ داری اور کام ہے۔ اسے ہم فنکشنل اسپیشلائزیشن بھی کہتے ہیں۔نفس بھی دراصل ایک مستقل وجود ہے، جو روح اور بدن کے درمیان فیصلہ کرنے والی ذات(Decision-Making Self) کی حیثیت رکھتا ہے۔بدن خواہشات اور تقاضے فراہم کرتا ہے، روح خیر، حق اور اعلیٰ اقدار کی طرف رہنمائی اور تحریک دیتی ہے، جبکہ نفس ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس بات کو قبول کیا جائے اور کس کو رد کیا جائے۔ اسی عمل کے نتیجے میں انسان کے اندر توازن یا بے توازنی، اعتدال یا انحراف پیدا ہوتا ہے۔
نفس کی تین بنیادی حالتیں بیان کی گئی ہیں:نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمئنہ۔یہ تینوں حالتیں انسان کے غور و فکر، تدبر و تفکر اور اس کے ماحول کی مناسبت سے بدلتی رہتی ہیں۔اگر انسان دنیا کی بے ثباتی، موت، موت کے بعد کی زندگی اور آخرت کے حساب و کتاب پر غور نہ کرے، اپنا محاسبہ نہ کرے، بلکہ صرف نیویارک کی بلند و بالا عمارتوں، مغرب اور خلیج کی چکاچوند آسائشوں اور ظاہری ترقی کے خوابوں میں کھو جائے، اور پھر اسی ماحول میں خود کو رکھنے پر مصر ہو جائے بلکہ اس سے متاثر ہو کر اس کا حصہ بن جائے تو ایسی صورت میں نفسِ امّارہ مضبوط ہو جاتا ہے۔یوں نفسِ امّارہ شیطانی وسوسوں سے مسلسل متاثر ہو کر انسان کو بتدریج خدا کی نافرمانی اور بغاوت کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔
اس کے برعکس اگر انسان انبیائے کرامؑ کی تعلیمات پر عمل کرے، قرآنِ مجید میں غور و فکر کرے، کائنات کی نشانیوں پر تدبر کرے، سابقہ اقوام کی سرگزشت سے عبرت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے ہاتھ پھیلا کر ہدایت طلب کرے تو اس کا نفسِ لوّامہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ یہ نفس انسان کو خطا سے پہلے بھی متنبہ کرتا ہے اور خطا کے بعد بھی توبہ کی طرف راغب کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان آئندہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
نفسِ لوّامہ کی رہنمائی میں انسان نیک اعمال انجام دیتا ہے، خیر کے کاموں میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا نفس بتدریج نفسِ مطمئنہ کی کیفیت اختیار کر لیتا ہے اور انسان قلبی سکون اور اطمینان حاصل کرتا ہے۔ گویا انسان کو چاہیے کہ وہ نفسِ لوّامہ کی آواز سنے اور نفسِ امّارہ پر قابو پا کر اسے نفسِ مطمئنہ میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرے، یا یوں کہیے کہ نفسِ مطمئنہ کو نفسِ امّارہ پر غالب کرے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر کے انتخاب کا اختیار دیا ہے، لیکن اگر انسان سراپا خیر بننا چاہے اور نیکی کو اپنا شعار بنانا چاہے تو اسے تزکیۂ نفس کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تزکیہ کا مفہوم ہے کسی چیز کو پاک و صاف کرنا، اس کی نشوونما کرنا اور اسے پروان چڑھانا۔ جو شخص تزکیۂ نفس کے مرحلے سے گزرتا ہے، فلاح اور کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
قرآنِ مجید اس حقیقت پر واضح شہادت دیتا ہے۔ سورۃ الشمس میں سات قسمیں کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’قد أفلح من زكّاها ‘‘یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔
تزکیہ دراصل نفس کی صفائی اور تطہیر کا نام ہے۔ جس طرح میلے کپڑے سے میل دور کرنے کے لیے صرف صابن ہی نہیں بلکہ رگڑ بھی ضروری ہوتی ہے، تب جا کر کپڑا صاف، شفاف اور پہننے کے قابل بنتا ہے اور انسان کے لیے مجلس و معاشرے میں عزت کا باعث بنتا ہے، اسی طرح تزکیۂ نفس کے ذریعے انسان کا باطن صاف ہوتا ہے۔ اس باطنی پاکیزگی کے نتیجے میں انسان نہ صرف معاشرے میں عزت پاتا ہے بلکہ اللہ کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور فرشتوں کی مجلسوں میں اس کا ذکرِ خیر کیا جاتا ہے۔(جاری)