انقرہ //ترک صدر رجب طیب اردوان کی اور متحدہ عرب امارات کے ڈی فیکٹو حکمراں اور ابوظبی کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان کے درمیان غیر معمولی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔یہ علاقائی حریفوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا نیا اشارہ ہے۔ ایک دہائی قبل عرب بغاوت کے بعد سے ترکی اور متحدہ عرب امارات خطے میں اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں، یہ ایک ایسی دشمنی تھی جس میں انہیں لیبیا کی خانہ جنگی میں مختلف فریقین کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ان کے درمیان تنازعات مشرقی بحیرہ روم سے خلیج تک پھیل گئے تھے۔رجب طیب اردوان نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے بعد ترکی، خلیجی ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر غور کر رہا ہے۔اماراتی ولی عہد سے ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'رہنماؤں کے درمیان دونوں ممالک کے تعلقات اور علاقائی مسائل کے حوالے سے گفتگو ہوئی'۔یہ ٹیلی فونک گفتگو رجب طیب اردوان اور متحدہ عرب امارات کے سینیئر عہدیدار کے درمیان ملاقات کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے اور کہا گیا کہ دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کی طرف پیش قدمی کی ہے جس کے نتیجے میں ترکی میں بڑے پیمانے پر متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔سینیئر ترک عہدیدار نے حالیہ بات چیت کے متعلق کہا کہ 'یہ ہر کسی کے مفاد میں ہے کہ تنازع پر مبنی پالیسی کے بجائے معاہدے پر مبنی پالیسی اختیار کی جائے، کیونکہ تنازع پر مبنی پالیسی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ یہ اہم پیشرفت ہے'۔انقرہ اور ابوظبی سالوں سے مشرق وسطیٰ میں حریف گروپوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، ترکی اسلامی تحاریک خاص طور پر اخوان المسلمون کی حمایت کرتا ہے جس نے عرب بہار کی بغاوت میں حصہ لیا تھا تاکہ خطے میں خود مختاروں کا تختہ الٹ سکے، امیر خلیجی رہنماؤں کو یہ پریشانی رہی ہے کہ یہ بدامنی ان کے ممالک میں نہ پہنچے۔