مسعود محبوب خان
اسلام نے انسان کی فلاح و بہبود اور اس کی عقل و اخلاق کے تحفّظ کو اپنی تعلیمات کا محور بنایا ہے۔ دین ِ اسلام کی حکمت یہ ہے کہ وہ نہ صرف روحانی پاکیزگی بلکہ سماجی و معاشی نظام کی پاکیزگی کا بھی ضامن ہے۔ شراب کی حرمت قرآنِ کریم کے واضح احکام میں سے ہے، جو انسان کے عقل و کردار کو مسخ کر کے معاشرتی بگاڑ کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست کی یہ بنیادی ذمّہ داری ہے کہ وہ ان امور کی بیخ کنی کرے جو انسان کو اس کی اصل انسانی وقار اور اخلاقی بلندی سے محروم کریں۔ تاہم موجودہ عالمی حالات، بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی امکانات اور بین الاقوامی تعلقات کے تقاضے مسلم دنیا خصوصاً ’’حرمین شریفین‘‘ کی سر زمین کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں انہیں اپنے داخلی اصولوں اور بیرونی ضروریات کے درمیان نہایت نازک توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک فیصلے کے اثرات صرف ملک کی داخلی پالیسی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری اُمت کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ آج جس پیش رفت کا مشاہدہ ہم سعودی عرب میں کر رہے ہیں، وہ محض ایک حکومتی فیصلہ نہیں بلکہ فکری و تہذیبی آزمائش کا لمحہ بھی ہے۔ ہم دینی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیں کہ جدیدیت کی دوڑ میں کہیں ہماری روحانی و اخلاقی اساس متاثر تو نہیں ہو رہی؟ اور وہ سر زمین جو توحید کے پرچم کی علمبردار ہے، کیا وہ سرمایہ دارانہ دباؤ کے زیرِ اثر کسی ایسے راستے پر گامزن تو نہیں ہو رہی جو رفتہ رفتہ تہذیبی انحراف کا باعث بن جائے؟ مملکتِ سعودی عرب جو دہائیوں سے اسلامی شعائر کے تحفّظ اور شریعتِ مطہرہ کی پاسداری کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی آئی ہے، اب جدید دنیا کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کے زیرِ اثر نئی سمتوں کی جانب پیش قدمی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔حکومت کی جانب سے مشرقی صوبے دھران میں آرامکو کے غیر مسلم ملازمین اور جدہ میں غیر مسلم سفارتکاروں کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دو نئے شراب خانوں کے قیام کا منصوبہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات اور معاشی امکانات کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ ہے۔ قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ تقریباً تہتر برس کے طویل عرصے بعد دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے میں گزشتہ سال شراب کے پہلے اسٹور کا افتتاح کیا گیا تھا، جسے غیر رسمی زبان میں ’’بؤز بنکر‘‘ کہا گیا۔ وقت کی رفتار نے اب یہ مرحلہ بھی لا کھڑا کیا ہے کہ غیر مسلم پریمیئم ریذیڈنسی ہولڈرز کو بھی اس تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ تفریحی صنعت پروان چڑھ رہی ہے، سینما، کنسرٹس اور عالمی تفریحی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ خواتین کے لیے ڈرائیونگ سمیت کئی پابندیاں اٹھائی جا چکی ہیں،مگر دوسری طرف شراب کی حرمت بدستور ایک ایسا اصول ہے جسے ریاستی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ شاید یہی وہ توازن ہے جسے مملکت قائم رکھنا چاہتی ہے۔ترقی کے راستے کھلے رہیں، مگر مذہبی شناخت کی اساس مجروح نہ ہو۔ لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایسے فیصلے مستقبل میں معاشرتی اقدار میں نرمی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے؟ یا یہ اقدامات صرف سفارتی اور انتظامی دائرے تک محدود رہیں گے؟ سعودی عرب کے لیے یہ چیلنج محض داخلی یا مذہبی نہیں بلکہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مملکت اس وقت دو بڑے تقاضوں کے درمیان پل باندھ رہی ہے۔ ایک طرف اسلامی روایت کی مضبوط جڑیںاور دوسری طرف دنیا کے ساتھ ہم قدم چلنے کا جذبہ۔ وقت بتائے گا کہ یہ سفر کس رُخ جا کر ٹھہرتا ہے مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر ہونے والے فیصلے مستقبل کے سماجی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ ایک ایسا ملک جس نے طویل عرصے تک اپنی داخلی شناخت کو اسلامی اقدار اور شرعی اصولوں کی بنیاد پر مضبوطی سے قائم رکھا، وہاں اس نوعیت کی تبدیلیاں نہ صرف عالمی رابطوں اور سفارتی ضرورتوں کا تقاضا معلوم ہوتی ہیں بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے دنیاوی نظام کے اثرات کا بھی مظہر ہیں۔تاہم اس تبدیلی کو اُس اخلاقی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے جس میں اسلامی معاشرے کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں۔ شراب کی حرمت ایک قطعی اور غیر مبہم تعلیم ہے جو عقل، صحت، خاندان اور سماج کی حفاظت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ ایسے میں اگرچہ شراب کی فراہمی صرف مخصوص غیر مسلم گروہوں تک محدود رکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر معاشرتی اقدار کی حفاظت ایک ایسا فریضہ ہے جو کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تہذیب ہمیشہ دعوتِ حق اور خیر کے فروغ پر قائم رہی ہے نہ کہ ایسے مظاہر کی اجازت دینے پر جو معاشرتی زوال کی راہیں کھول دیں۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دورِ حاضر کے بین الاقوامی نظام میں سفارتی ضوابط اور معاشی برتری کے حصول کے لیے بعض عملی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مگر یہ تدابیر اس حد تک نہ بڑھ جائیں کہ وہ تدریجاً اپنے بنیادی اصولوں اور تہذیبی امتیازات کو مٹا ڈالیں۔ ترقی وہی ہے جو اخلاق کی بنیاد پر ہواور جدّت وہی قابلِ قبول ہے جو اقدارِ الٰہی سے متصادم نہ ہو۔چنانچہ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ سعودی عرب یا کوئی بھی مسلم ملک اپنے سماجی و اقتصادی اہداف کا پیچھا کرتے ہوئے اس احتیاط کو ملحوظ رکھے کہ اصول اور اقدار پیچھے نہ رہ جائیں۔ اسلامی تہذیب کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ مادّی اور روحانی ترقی کو ہم آہنگ رکھتی ہے۔ اگر اس توازن میں بگاڑ پیدا ہوا تو ترقی کے نام پر اخلاقی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم غور کریں۔ تبدیلی کی دوڑ میں کہیں ہم اپنی اصل پہچان کو تو نہیں کھو رہے؟اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل سربلندی اُس کے مادی وسائل یا عالمی تعلقات میں نہیں، بلکہ اُس کے ایمان، تقویٰ اور اخلاقی استقامت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے جو حدود اور قیود مقرر فرمائی ہیں، وہ محض پابندیاں نہیں! وہ انسانی وقار، معاشرتی پاکیزگی اور روحانی بلندی کے ضامن قوانین ہیں۔ اگر ترقی کے نام پر ان حدود سے چشم پوشی شروع ہو جائے تو بظاہر چمکتی ہوئی ترقی بھی اندر سے کھوکھلی ثابت ہوتی ہے۔سعودی عرب عالمِ اسلام کے قلب میں واقع ہے۔ حرمین شریفین کی سر زمین کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا مرکز اور توحید کا مینار بنایا ہے۔ اس مقدّس خطے کی ہر پالیسی اور قدم پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے معیار اور مثال بن جاتا ہے۔ اس مقام کی عظمت یہ تقاضا کرتی ہے کہ یہاں کا ہر فیصلہ دینی بصیرت، ایمانی غیرت اور نبوی تعلیمات کے روشن چراغ کے ساتھ کیا جائے۔ اصلاح اور ترقی کے سفر میں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ’’ترقی وہی ہے جو ایمان کے ساتھ ہواور تبدیلی وہی جو اقدار کی روشنی میں ہو۔‘‘
( رابطہ۔ 09422724040)