تجمل قادری
جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام سے متعلق حالیہ سرکاری اعداد و شمار نے ایک ایسی تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جسے اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ 3,192 ایسے اسکول جہاں طلبہ کی تعداد 10 سے کم یا صفر ہے، جبکہ ہزاروں اساتذہ ان اداروں میں تعینات ہیں،یہ محض ایک عددی تضاد نہیں بلکہ ایک گہری انتظامی ناکامی کی علامت ہے۔ 2019 سے اب تک 1,700 سے زائد اسکولوں کا بند یا ضم ہونا بھی اسی بحران کی ایک جھلک ہے، جسے اصلاح کے بجائے وقتی بندوبست سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر زمینی صورتحال کو قریب سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف کم داخلہ نہیں بلکہ ایک غیر متوازن اور بے سمت نظام ہے۔ آج بھی سینکڑوں ایسے اسکول موجود ہیں جہاں پانچ سے دس طلبہ کے لئےپانچ اساتذہ مقرر ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پچاس طلبہ کے لیے بمشکل ایک یا دو اساتذہ دستیاب ہیں۔ کہیں تین کمروں میں آٹھ جماعتوں کو اکٹھا پڑھایا جا رہا ہے تو کہیں مڈل اسکول صرف چند اساتذہ کے سہارے چل رہے ہیں۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے فائلوں میں نہیں بلکہ بچوں کی آنکھوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپی انسانی کہانیوں کو کبھی سنجیدگی سے سمجھا گیا؟ کیا کسی نے ان دور دراز علاقوں میں جا کر دیکھا کہ بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ کیا حکومت نے کبھی اس بات کا جائزہ لیا کہ وسائل کی تقسیم کس قدر غیر منصفانہ ہے؟ اگر جائزہ لیا گیا تو اصلاح کیوں نظر نہیں آتی اور اگر نہیں لیا گیا تو یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
گزشتہ سات دہائیوں سے تعلیمی اصلاحات کے وعدے کئے جاتے رہے، منصوبے بنتے رہے اور بیانات دیے جاتے رہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی تعلیمی نظام بدنظمی، غیر منصوبہ بندی اور کمزور نگرانی کا شکار ہے۔ دیہی علاقوں کے اسکول خاص طور پر اس ناانصافی کا شکار ہیں جہاں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ ایسے میں اسکولوں کو بند کرنا یا ضم کرنا ایک آسان راستہ تو ہو سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔ اس سے صرف یہ ہوتا ہے کہ غریب اور دور دراز علاقوں کے بچے مزید پیچھے رہ جاتے ہیں۔
نجکاری کو بطور حل پیش کرنا بھی ایک ایسا خیال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔ اگر سرکاری نظام کو بہتر بنانے کے بجائے اسے کمزور چھوڑ دیا جائے اور پھر نجکاری کو واحد راستہ بتایا جائے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ ذمہ داری سے کنارہ کشی محسوس ہوتی ہے۔ تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے اور اس حق کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔لیکن سب سے بڑا اور تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ ان اداروں میں زیر تعلیم طلباء کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کیا ان بچوں کا اندھیرا مستقبل صرف ایک عدد بن کر رہ جائے گا؟ کیا ان کی محرومیوں کی ذمہ داری حکومت اپنے سر لے گی، یا پھر ہماری سوئی ہوئی قوم بھی اس خاموش جرم میں برابر کی شریک ہے؟ ہم آخر کب تک اس غفلت میں ڈوبے رہیں گے، کب تک یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟یہ وقت محض اعداد و شمار پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے، اساتذہ کی منصفانہ تعیناتی کو یقینی بنائے اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ساتھ ہی ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ پالیسیوں پر عمل درآمد صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے۔
اگر آج بھی ہم نے اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ کیونکہ جب تعلیمی نظام کمزور ہوتا ہے تو صرف اسکول نہیں گرتے بلکہ ایک پورا معاشرہ اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک نسل کے خوابوں کا سوال ہے—اور اگر اب بھی ہم نہ جاگے تو شاید بہت دیر ہو جائے گی۔