جموں //جموں یونیورسٹی ٹیچرز ایسو سی ایشن نے حال ہی میں بھگت سنگھ کے نام پر پیدا ہوئے تنازعہ کے سلسلہ میں طلباء کی طرف سے اپنائے گئے موقف کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے معتوب پروفیسر کی بھر پور حمایت کا اعادہ کیا ہے ۔ آج منعقدہ ایک میٹنگ کے بعد جاری بیان میں ایسو سی ایشن نے کہا ہے کہ طلباء سیاق و سباق کے حوالہ سے ہٹ کر پروفیسر تاج الدین پر تنقید کر رہے ہیں جو کسی بھی طور پر واجب نہیں ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل پولٹیکل سائنس کے پروفیسر تاج الدین نے دوران درس معروف مجاہد آزادی بھگت سنگھ کو اس وقت کے حکمرانوں کی طرف سے دہشت گرد قرار دئیے جانے کے بارے میں بتایا ، تو طلباء نے صرف اس حصہ کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس کے بعد طلباء کی جانب سے پروفیسر موصوف کے خلاف مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے تو یونیورسٹی کے انہیں درس و تدریس سے ہٹا کر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس دوران طلاب کی ایک بڑی تعدادنے پروفیسر تاج الدین کے حق میں بھی مظاہرے کئے ہیں۔ منگل کے روز ٹیچرزایسو سی ایشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی حساس ہے اور یونیورسٹی ایک ایسی جگہ ہے جہاں نہ صرف اساتذہ بلکہ طلاب سے بھی بالغ النظری کا مظاہرہ کئے جانے کی توقع کی جاتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم اے پولٹیکل سائنس فرسٹ سمسٹر کے طلباء جنہیں پروفیسر تاج الدین پڑھا رہے تھے، نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پروفیسر موصوف صرف مثالیں دے کر یہ سمجھا رہے تھے کہ تانا شاہی کے دور میں کس طرح سیاسی مخالفین کو دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا ہے ، ایسے ہی انہوں نے بتایا کہ برطانوی سامراج نے بھی بھگت سنگھ کو دہشت گرد قرار دے کر پھانسی دے دی تھی۔ ایسو سی ایشن نے تمام متعلقین کو صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے یونیورسٹی کا تقدس بحال رکھنے کی اپیل کی ہے تا کہ اس ادارہ میں اظہار خیال اوربلا خوف و خطر اختلاف رائے کی گنجائش موجود رہے ۔