۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کے نو منتخب اراکین سے پارلیمنٹ میں اپنے پہلےخطاب میں کہا کہ ’’ملک کی اقلیتوں کے ساتھ فریب ہوا ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے اقلیتوں کو اس فریب میں خوف اور بھرم میں رکھا گیا ہے۔ اس سے اچھا ہوتا کہ اقلیتوں کی تعلیم، صحت کی فکر کی جاتی۔ 2019 میں آپ سے اُمید کرنے آیا ہوں کہ ہمیں اس فریب (چھل) کو بھی توڑنا (چھیدنا) ہے۔ ہمیں اعتماد جیتنا ہے۔‘‘ابتدا میں لگا کہ نریندر مودی کی یہ تقریر صرف زبانی جمع خرچ ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ وہ صرف لفاظی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا بیان تھا۔ اس تقریر کے بعد سے ہی بی جے پی کا مزاج کچھ بدلا بدلا سا نظر آ رہا ہے۔ مودی کی اس تقریر کے کچھ ہی دن بعد کی بات ہے جب بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ نے نتیش کمار اور افطار پارٹی کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا، جس پر پارٹی کے صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ان کی سخت سرزنش کی۔ اس کے بعد عید کے موقع پر بی جے پی کا یہ بدلا ہوا مزاج اور زیادہ کھل کر تب سامنے آیا جب سرکار سے لے کر بی جے پی لیڈروں تک سبھی نے مبارک بادیوں کے ڈھیر لگا دئے۔ مبارک بادی پیغامات بھی ایسےکہ جو بھائی چارہ، گنگا جمنی تہذیب، خیر سگالی، فرقہ وارانہ یک جہتی، رواداری اور خوشحالی جیسی اچھی اور پر کشش باتوں سے لبالب تھے۔ اور تو اور خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اردو میں عید کا پیغام دے کر ریکارڈ ہی توڑ دیا۔ اسی بیچ ایک اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جب ممبئی میں بی جے پی نے مسلم خواتین کو عیدی کے طور پر 10ہزار نقاب تقسیم کئے۔ حیرت میں ڈوبنے کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ مالیگاؤں دھماکے کی ملزمہ پرگیہ ٹھاکر نے بھوپال کے شہر قاضی سے ملاقات کرکے مسلمانوں کو ہائی وولٹیج جھٹکا دے دیا۔دیکھا جائے تو بی جے پی جس رفتار سے سیکولر بن رہی ہے، اس لگتا ہے کہ مسلمان جلد ہی بھاجپا کا جھنڈا اُٹھایں گے۔ کیا بی جے پی مسلمانوں کے لیے سیکولرازم کا نیا مرکز اور مودی نئے سیکولر دیوتا بننے جا رہے ہیں؟ بظاہر ایسالگتا ہے کہ بی جے پی نے کانگریس، ایس پی، بی ایس پی، آر جے ڈی جیسی پارٹیوں کے پیٹ پر لات مارنے پر تل گئی ہے، جو پارٹیاں اب تک کچھ علامتی کام اور زبانی جمع خرچ سے مفت میں مسلمانوں کا ووٹ بٹور رہی تھیں۔ فی الوقت تو سیکولرازم کے میچ میں بی جے پی خیر سگالی، یک جہتی اور رواداری سے بھرپور پیغامات اور دھواں دھار مبارک باد سے سخت ٹکر دے رہی ہے اور میچ ٹائی ہو گیا ہے۔ میچ جیتنے کے لیے اب صرف ٹوپی اور افطار پارٹی سے کام نہیں چلے گا۔بہرحال 2019 کے انتخابی نتائج آنے کے بعدبہتر ہوگا کہ بھارتی مسلمان ہر شعبے اور ہر میدان کے لیے الگ الگ کامیاب حکمت عملی اور طریقہ کار اختیار کریں،کسی بھی شعبے کو خالی چھوڑنے کی وہ بھیانک غلطی نہ دہرائیںجوآزادی کے بعد سے اب تک وہ سیاسی میدان میں دہراتے چلےآ رہے ہیں۔ سماجی میدان میں دعوت و مفاہمت اور میل جول سے حالات کو سازگار بنانے اور مخالف رجحان کو بدلنے کی کوشش کریں۔ تعلیمی میدان میں علی گڑھ تحریک جیسی کوئی نئی تحریک برپا کریں اور اقتصادی میدان میں زکوٰۃ و صدقات اور باہمی تعاون کا اجتماعی نظام بحال کرنے اور مالی لحاظ سے کمزور بھائیوں کو پھر سے کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔