غلام قادر جیلانی
پُل کسی بھی خطے کی اقتصادی ترقی اور باہمی رابطے کے اہم ترین ستون ہیں۔ لہٰذا ان کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی سہولیات اور معاشی ترقی کے لیے نہ صرف نئے پلوں کو تعمیر کرنا ضروری ہے بلکہ موجودہ غیر محوظ پلوں کو محفوظ بنانا اور زیرِ تعمیر منصوبوں کو مکمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
گزشتہ دو سال میں، حکومت نے 20 سال سے زائد عرصہ قبل تعمیر کئے گئے 382 پلوں کا گہرائی سے حفاظتی جائزہ (Safety Audit) لیا۔ اس جانچ پڑتال کے نتائج سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، گیارہ پلوں کو فوری طور پر نقل و حمل کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا گیا۔ 250 پلوں کی بڑے پیمانے پر مرمت کی اشد ضرورت محسوس کی گئی۔ جبکہ 121 پل معمولی مرمت کے زمرے میں شامل کئے گئے۔ان انکشافات کے بعدانتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر محفوظ پلوں پر عوامی نقل و حمل معطل کر دی ہے اور کچھ پلوں کی تعمیر نو کا عمل شروع کرنے کے علاوہ دیگر اہم پلوں پر ضروری مرمت کا کام بھی شروع کیا۔
حال ہی میں ضلع بڈگام کے سب ڈویژن چاڈورہ میں نالہ دودھ گنگا پر قائم انتہائی اہمیت کے حامل پُل کو غیر محفوظ قرار دے کر انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کی نقل و حمل کے لئے بندکر دیا گیا ۔چاڈورہ کے اس مرکزی پُل کو پہنچنے والے نقصان کی اصل وجوہات غیر قانونی کان کنی اور شدید سیلابی ریلوں کو قرار دیا گیا ۔تاہم عوامی حلقوں میں یہ رائے بھی پائی گئی کہ اس کی اصل وجہ ناقص انجینئرنگ ہے۔اس پل کی بندش سے چاڈورہ اور اس کے ارد گرد کے وسیع علاقوں بشمول ناگام، چرار شریف، یوسمرگ اور پلوامہ کا باہمی رابطہ بری طرح متاثر ہوا ہے، کیونکہ یہ ان سب کے درمیان آمد و رفت کا مرکزی ذریعہ ہے۔یہ فیصلہ ڈیزائن انسپکشن اینڈ کوالٹی کنٹرول Design, Inspection and Quality Control (DIQC) محکمے کے ماہرین کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ایک حکمنامے کے ذریعے لیا گیا۔ عوامی تحفظ اور مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں پُل کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہےاور واضح ہدایات جاری کئے گئے ہیں کہ آمدورفت کے لئے متبادل راستوں کا استعمال کیا جائے اور پل پر گاڑیوں کی نقل وحمل کی بحالی ضروری مرمت کے باضابطہ تکمیل اور انتظامیہ کے حتمی منظوری کے بعد ہی ممکن ہو گی ۔
چاڈورہ کے اس کلیدی پل کی غیر معمولی بندش نے نہ صرف علاقے کے باہمی رابطے کو منقطع کیا بلکہ یہ انتظامی غفلت اور جواب دہی کی کمی کا منہ بولتا ثبوت بھی پیش کرتا ہے ۔
مرکزی پل کی بندش کے بعد عوام کو جن متبادل راستوں پر مجبوراً سفرکرنا پڑ رہا ہے، وہ خود بھی خطروں سے خالی نہیں ہیں۔چاڈورہ کالج سے جانے والے آمدورفت کی متبادل راستے کی انتہائی تنگ ساخت گاڑیوں کی نقل و حمل کو شدید مشکل بناتی ہے، جہاں حادثات کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے خود وہاں بورڈ نصب کر رکھا ہے کہ یہ سڑک گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ اس طرح لوگوں کی زندگی کو براہ راست خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ موجودہ متبادل راستے مسافت میں غیر معمولی اضافہ کر رہے ہیں، جس سے قیمتی وقت کا زیاں ہو رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر چاڈورہ کے مرکزی پل کی بندش نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایمرجنسی کی صورتحال میں بیماروں کو ہسپتال پہنچنے میں بڑی دشواری پیش آتی ہے، جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے دفتر تک بھی رسائی متاثر ہوئی ہے، جو آگ لگنے یا دیگر ہنگامی وارداتوں میں فوری کارروائی کو مشکل بنا رہی ہے۔
پل کی یہ ناقص تعمیر واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعمیراتی عمل میں کسی نظم و ضبط پر عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی جواب دہی کا کوئی معقول نظام موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی نالہ دودھ گنگا میں غیر قانونی کان کنی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری اور سخت روک لگانے کی اشد ضرورت ہے۔اگرچہ عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کی جانب سے پل کی جلد از جلد ضروری مرمت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، لیکن صحیح منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے مقامی لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔ مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لیے، چاڈورہ میں ایک اور مستقل اور مستحکم ،متبادل پل کی تعمیر ضروری ہے۔ افسوس کہ ایک متبادل پل پہلے سے موجود تھا، مگر وہ اتنا خستہ حالت میں ہے کہ اب اس پر پیدل چلنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔
ضلع بڈگام کے بیروہ علاقے میں واقع نالہ سوکھ ناگ پر قائم بیلی پل کی بھی یہی صورتحال ہے ،جسے ناقص حالت کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا۔بیروہ کے معروف ایوارڈ یافتہ استاد اور ماحولیاتی کارکن مشتاق احمد وانی کے مطابق یہ پل مرکزی حیثیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ سب ڈویژن بیروہ کو ضلع ہیڈکوارٹر بڈگام اور کئی اہم علاقوں جیسے سویہ بگ، وڑون، خانصاحب، آریزال، ماگام اور توسہ میدان کے راستے سے جوڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس پل کی خستہ حالی اور تنگ ساخت شروع ہی سے لوگوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی رہی اور یہاں کئی حادثات بھی پیش آئے۔ بڑی گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہونے سے نقل و حمل میں مسائل پیدا ہوئے۔خوش آئند خبر یہ ہے کہ طویل عرصے کے انتظار کے بعد بالآخر اس پل پر مرمت اور تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا ہے۔انتظامیہ نے فی الحال گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک متبادل ڈائیورشن Diversion بنا دیا ہے، جس سے گاڑیوں کے نقل و حمل میں کچھ حد تک آسانی پیدا ہوئی ہے ۔
ضلع بڈگام میں پلوں کی خستہ حالی، نامکمل منصوبوں اور انتظامی بے حسی نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اہم نالوں پر موجود درجنوں پل یا تو خطرناک حد تک تنگ ہیں یا ان کی تعمیر کا عمل سست روی کا شکار ہے، جس کا براہ راست خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ضلع ہیڈکوارٹر بڈگام کو سب ڈویژن ماگام، سرینگراور بارہمولہ سے جوڑنے والا کانہامہ میں واقع پل انتہائی تنگ ہے، جس کی وجہ سے دو طرفہ ٹریفک کا گزرنا مشکل ہے اور یہاں روزانہ طویل ٹریفک جام لگتا ہے، جس سے سفر میں قیمتی وقت کا زیاں ہو جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ فوری طور پر یا تو موجودہ پل کو وسیع کیا جائے یا متبادل پل کی تعمیر عمل میں لائی جائے تاکہ اس پل سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سفر کرنے والے مسافروں کو راحت ملے۔ژائرہ، کاندہامہ آری پاتھن (توسہ میدان رابطہ) اور پیٹھ مکہامہ پلوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ اگرچہ کچھ کی جزوی مرمت کی گئی، لیکن مقامی افراد کے مطابق وہ تسلی بخش نہیں اور ان پر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت خطرے سے خالی نہیں ہے۔
2017 میں شروع ہونے والے ہانجورہ کھیری گنڈ پل پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام روک دیا گیا، حالانکہ دونوں طرف کنکریٹ کے پلرز بھی بن چکے تھے۔ اس تعطل نے مقامی لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اس راستے سے روزانہ کھیری گنڈ کے سینکڑوں طلباء ہانجورہ اور زوہامہ گاؤں میں تعلیم کی حصول یابی کے سلسلے میں سکول کا رخ کرتے ہیں۔ نالہ دودھ گنگا میں پانی کا بہاؤ بڑھنے پر اسے عبور کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور افسوسناک طور پر ماضی میں کئی بچے نالے میں بہہ بھی گئے ہیں کاؤسہ بنڈنورہ پل پر کام سست رفتاری سے جاری ہے، جس سے وہاں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی طرح چاڈورہ و خانصاحب کے درجنوں دیگر پلوں کی مرمت اور تعمیر کا کام بھی سست روی کا شکار ہے۔گزشتہ سیلاب اور غیر قانونی کان کنی سے پانزن چاڈورہ میں نالہ شالی گنگا پر قائم پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پل کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر گاڑیوں کا نقل وحمل خطرناک بن چکا ہے۔یہ کلیدی پل سب ڈویژن چاڈورہ کو ضلع ہیڈکوارٹر بڈگام سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے۔
نالہ شالی گنگا پر شمناگ اور دریگام کے درمیان پل کی دیرینہ مانگ پوری نہ ہونے سے علاقہ خانصاحب اور سرسیار کے لوگ آپس میں نہیں جڑ پا رہے ہیں اور انہیں غیر ضروری لمبی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔تیلی محلہ حیات پورہ ناگام میں مطلوبہ پل نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً تیس خاندانوں کو دو کلو میٹر کی اضافی مسافت طے کرنی پڑتی ہے، جبکہ نالہ تل برن اور نالہ کھنچی پر جگہ جگہ پلوں کی عدم دستیابی سے لوگوں کو کافی مشکلات جھیلنے پڑتے ہیں۔ضلع بڈگام کے تین اہم نالوں (دودھ گنگا، شالی گنگا، اور سوکھ ناگ) پر درجنوں پلوں کو از سر نو تعمیر یا بڑے پیمانے پر مرمت کی فوری ضرورت ہے۔
انتظامیہ کو لوگوں کے تحفظ اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے جدید اور معیاری تعمیر کاری کو یقینی بنانا چاہیے اور ناقص تعمیر میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے۔ان انتہائی اہمیت کے حامل نالوں میں غیر قانونی کان کنی پر فوری اور سخت پابندی لگائی جائے تاکہ پلوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور سیلاب کے خطرات سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پلوں کی تعمیر و مرمت میں سرت لانی چاہیے تاکہ لوگوں کی مشکلات کا جلد از جلد ازالہ ہو سکے اور علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے ابواب کھل سکیں
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ چاڈورہ )
[email protected]