پڑھی لکھی ماں روشن مستقبل کی ضمانت ہے کیونکہ ماں بچوں کی سب سے پہلی استاد ہے۔اگر والدین اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دیں تو بچے بھی اچھے اخلاق والا ہوں گے ۔اگر والدین بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت نہ دے سکیںتو ہو سکتا ہے کہ بچے بھی برے ماحول کا شکار ہوں۔جیسے ’ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے‘،اسی طرح ایک بچہ بھی اگر برے ماحول کا شکار ہو تو پورے قوم کے بچوں پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔اس لئے والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح تعلیم اور اچھے عادات کا درس دیںتاکہ وہ بچہ آگے چل کر دنیا کا امام بن کر اٹھے اور عالم اسلام کی باگ ڈور خود سنبھالے۔اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہوگی تو اس کی اولاد بھی تہذیب یافتہ اور با ادب ہوگی۔فریڈک نے کیا خوب کہا ہے کہ جس گھر میں ماں عقل مند ہوتی ہے وہ گھر تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹی ہے۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"ماں کے کے قدموں تلے جنت ہے‘‘۔ بچوں پر بھی فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کریں۔ ان کا کہنا مانیں اور ان کا دل نہ دکھائیں، ان کو خوش رکھیں اور خود بھی خوش رہیں۔بچے جنت کے پھول ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بہترین تحفہ ہیں۔ والدین کی بہترین نعمت ہیں والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو صاف ستھرا رہنے کی تاکید کریں کیونکہ اللہ تعالی جمیل ہے وہ جمال کو بہت پسند کرتا ہے۔
آج کل کے ترقی یافتہ دور میں والدین دن رات کام میں مشغول رہتے ہیں،بچوں پر توجہ مرکوز نہیں کرتے جس کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کی فکر نہ کی تو یہی بچہ آگے چل کر ڈاکو، ڈان اور ویلن بن جاتا ہے۔اس لئے والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح عادات سکھائیںمثلا سچ بولنا، مسواک کرنا، بڑوں کی عزت کرنا،چھوٹوںسے شفقت کرنا ،پانچ وقت نماز پڑھنا اور عطر لگانا سکھائیںکیونکہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔
آج بھی بچوں کے روشن مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔جن بچوں کو تعلیم اور کھیل کود کی ضرورت ہے،انہی بچوں کو تعلیم کے بجائے مزدوری پر لگایاجارہا ہے۔ اگر بچہ پڑھنے میں کبھی کبھار ناکام ہوجائے تو والدین کو چاہے کہ وہ اپنے بچوںکی حوصلہ افزائی کریں۔ پیارومحبت، خیال اور تحفظ سے ہی بچوں کا مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔ گاؤں میں اکثر بچے بچپن میں آوارہ گھومتے رہتے ہیں ،تعلیم پڑھنے پر توجہ نہیں دیتے کیونکہ دیہات کا ماحول شہروں کی نسبت غیر علمی ہوتا ہے۔ گاؤں کے لوگوں میں ایک اور کمزوری یہ بھی ہے کہ نسوانی تعلیم پر توجہ نہیں د ی جاتی ہے ۔لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھاجاتا ہے جبکہ تعلیم ہر ایک فرد کے لئے ضروری ہے جتنی مرد کے لیے اتنی ہی عورت کے لیے۔ اس کی ایک مثال یوں ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم اورعورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔
اب شہروں کی طرف نظر ڈالیں تو شہروں کے والدین بھی بچوںکو اپنا جیسا بنانا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر کا بچہ ڈاکٹر ،انجینئر کا بچہ انجینئرہی بننا چاہئے اور اس عمل میں بچوں کے ذہنی میلان کو مکمل طور نظر اندا زکیاجاتاہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی دلچسپی کا خیال رکھیں ان کو کھلی چھوٹ د یں کہ وہ اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے کیریئر کا انتخاب کریں ۔ایک بھلا موبائل انٹرنیٹ بھی ہے ۔جسمانی و ذہنی نشو نما کیلئے کھیل کود ضروری ہے لیکن اب یہ وقت موبائل گیمز پر صرف ہورہا ہے۔
دورحاضر میں جدید ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو پوری طرح سے متاثر کر رکھا ہے۔ لیپ ٹاپ ،انٹرنیٹ اورموبائل فون وغیرہ موجودہ دور کی ایجادات ہیں۔ اکثر بچے موبائل فون،کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں جس سے ان کا دماغ فحاشی کی جانب مائل ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے سماج میں خرافات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔اب ہمیں مثبت سوچ اپنانا ہوگی کیونکہ مثبت سوچ سے ہی ہماری ترقی ممکن ہے۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو فحش کلامی، سگریٹ نوشی، دھوکے بازی ،جھوٹ سے دور رکھیں اور نیک کاموں کی جانب راغب کریں تاکہ ہر ایک بچہ اپنے سماج میں کانٹا نہیں بلکہ پھول بن سکے۔بقول علامہ اقبالؒ ؎
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا میری آرزو یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کر دے
������
رابطہ۔ ہرون زینہ گیر ،سوپورکشمیر