شوکت علی تانترے
بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں اور دونوں کی نشوونما بہترین طریقے سے ہونی چاہیے۔ بچے کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی صحیح تربیت نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ اس لیے والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔بچپن انسانی زندگی کا سب سے اہم دور ہوتا ہے۔ اسی دور میں بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ عام طور پر بچے لاڈ پیار میں پلتے ہیں، جو کہ ایک فطری امر ہے، لیکن اگر اس لاڈ پیار کے ساتھ مناسب تربیت نہ ہو تو یہی محبت بچوں کو ضدی، نافرمان اور غیر ذمہ دار بنا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ ساتھ بچوں کو نظم و ضبط، اخلاق اور ذمہ داری کا شعور بھی دیا جائے۔
اسلام میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘(سورۃ التحریم)یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ والدین پر فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں۔اسی طرح نبی کریمؐ کا ارشاد ہے:’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ذمہ دار ہیں اور قیامت کے دن ان سے ان کی تربیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
بچوں کی تربیت میں سب سے اہم کردار والدین کے اپنے عمل کا ہوتا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ اگر والدین سچائی، دیانتداری، صبر اور احترام کا مظاہرہ کریں گے تو بچے بھی انہی خوبیوں کو اپنائیں گے۔ اس کے برعکس اگر والدین خود غلط عادات کا شکار ہوں تو بچوں پر بھی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔
تعلیم بھی تربیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بچوں کو نہ صرف دنیاوی علوم بلکہ دینی تعلیم بھی دی جانی چاہیے تاکہ وہ ایک متوازن شخصیت کے مالک بن سکیں۔ انہیں قرآن کی تعلیم، نماز کی پابندی، اور اچھے اخلاق سکھانا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سائنسی اور عملی تعلیم بھی ضروری ہے تاکہ بچے زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکیں۔
آج کے دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر سائنسی آلات بچوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ اگر ان کا استعمال حد میں نہ رکھا جائے تو یہ بچوں کی عادات اور کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ایک مشہور قول ہے:’’بچوں کی تربیت ایسے کرو جیسے وہ کل کے رہنما ہوں۔‘‘یہ قول اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ آج کی اچھی تربیت ہی کل کے کامیاب اور باکردار افراد پیدا کرتی ہے۔بچوں کو سچ بولنا، بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا، محنت کرنا اور وقت کی قدر کرنا سکھانا چاہیے۔ ان میں خود اعتمادی پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ زندگی کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔
( خیرکوٹ نوگام بانہال )
رابطہ۔9797434349