فہم و فراست
اِقراءاکبر
ہمارے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش آج بھی کئی گھروں میں مسرت کے بجائے سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ بعض چہروں پر خاموش مایوسی اور بعض زبانوں پر تلخ جملے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بیٹی کو اب تک نعمت کے بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹی کا وجود کسی ناگہانی خطا کی یاد دہانی ہو۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس رویے کا پہلا نشانہ ماں بنتی ہے، جسے بیٹی کی پیدائش پر طعنے دیے جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اولاد کا عطا ہونا یا نہ ہونا سراسر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مشیت ہے، کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔
قرآنِ کریم نہایت وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹے، جسے چاہتا ہے دونوں، اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارا معاشرہ الٰہی فیصلے پر راضی ہونے کے بجائے انسانی ترجیحات کو معیار بنا لیتا ہے، جو فکری اور اخلاقی انحطاط کی واضح علامت ہے۔
بیٹی کی آمد کے ساتھ ہی والدین کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ماں اس کی پرورش، اخلاق سازی اور کردار سازی میں دن رات ایک کر دیتی ہے، جبکہ باپ اپنی جوانی اور توانائی رزقِ حلال کی جدوجہد میں صرف کر دیتا ہے۔ بیٹی کی تعلیم، صحت اور ضروریات پوری کرنا بظاہر والدین کے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک مستقل آزمائش بھی بن جاتا ہے، کیونکہ معاشرہ ہر مرحلے پر سوال کھڑا کر دیتا ہے۔
وقت گزرتا ہے، بیٹی جوان ہوتی ہے، اور پھر والدین کے دل میں نکاح کی فکر گھر کر لیتی ہے۔ یہ فکر صرف بیٹی کے بہتر مستقبل کی نہیں ہوتی بلکہ ان غیر ضروری سماجی دباؤ کا نتیجہ بھی ہوتی ہے جو والدین پر مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ شادی کے موقع پر جہیز کو آج بھی ایک لازمی رسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ دینِ اسلام نے اس کی کوئی شرط عائد نہیں کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب دلہن کی سہولت کے لیے ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک بھاری بوجھ ہے جو بیٹی کے والدین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک گھر دلہن کی آمد سے پہلے اپنی ضروریات پوری کر رہا تھا تو اچانک اضافی سامان کی حاجت کیوں پیش آتی ہے؟ دراصل یہ حاجت نہیں بلکہ رواج ہے، اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے رواج کو دین، اخلاق اور انصاف پر فوقیت دے دی ہے۔
شادی کے بعد بیٹی ایک نئے گھر میں قدم رکھتی ہے، جہاں اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوراً سب کچھ سمجھ جائے، سب کو اپنا بنا لے اور اپنی ذات کو پس منظر میں دھکیل دے۔ وہ اپنی شناخت، عادات اور خواہشات کو خاموشی سے محدود کر لیتی ہے تاکہ نئے رشتوں میں توازن قائم رہے۔ اگر اس مرحلے پر اسے عزت، تعاون اور محبت ملے تو یہی بیٹی اس گھر کو امن، سکون اور محبت کا گہوارہ بنا دیتی ہے، لیکن بدقسمتی سے اکثر اوقات اس کی قربانی کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔
وقت کا پہیہ آگے بڑھتا ہے اور جب والد کی وراثت کی بات آتی ہے تو بیٹی کا حق ایک بار پھر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شریعت نے اسے واضح، متعین اور غیر متنازع حق دیا ہے، مگر معاشرہ اسے خاموشی کا درس دیتا ہے۔ اپنے حق کی بات کرنا اکثر رشتوں میں تلخی اور دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، اسی لیے بہت سی بیٹیاں تعلقات بچانے کی خاطر اپنے شرعی حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر نہ صرف خاندان بلکہ پورے معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بیٹی جب ماں بنتی ہے تو اس کی زندگی کا مرکز مکمل طور پر اس کی اولاد بن جاتی ہے۔ وہ اپنی نیند، آرام، خواہشات اور حتیٰ کہ صحت تک بچوں کے نام کر دیتی ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کو وہ اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ایک باشعور، بااخلاق اور باکردار نسل ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ماں کی یہ خاموش محنت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک پھیلتے ہیں۔
وقت کے ساتھ بچے بڑے ہو جاتے ہیں، اپنی تعلیم، روزگار اور مصروفیات میں گم ہو جاتے ہیں۔ کوئی دور دراز شہروں یا ملکوں کا رخ کر لیتا ہے، اور ماں آہستہ آہستہ زندگی کے مرکزی منظر سے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اس کے لبوں پر شکوہ نہیں آتا، کیونکہ وہ اپنی اولاد کی خوشی اور کامیابی کو ہی اپنی اصل کامیابی سمجھتی ہے۔لیکن جب یہی اولاد زندگی کے دباؤ میں ماں کو نظر انداز کرنے لگے، اس کی باتوں کو بوجھ سمجھے یا اس پر غصہ نکالے، تو یہ لمحہ نہایت تکلیف دہ اور لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔ ماں کا دل ٹوٹنا محض ایک جذباتی واقعہ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ ایسی بے حسی نہ صرف دنیا میں رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے بلکہ آخرت کی جواب دہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بنتِ حوا کی زندگی دراصل ذمہ داریوں کا ایک طویل، صبر آزما اور خاموش سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں وہ بیٹی، بیوی اور ماں کے مختلف روپ دھار کر خود کو دوسروں کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اس خاموش قربانی کو پہچاننے، اس کی قدر کرنے اور اسے وہ عزت دینے کے لیے تیار ہے جس کی وہ حقیقی طور پر مستحق ہے ۔
[email protected]