اختر معراج
’’ارے بھائی صاحب، ذرا سنیے تو!‘‘
آواز میں جھنجھلاہٹ بھی تھی اور بے بسی بھی۔
’’یہ عذاب حد سے بڑھ گیا ہے۔ بس میں سگریٹ پینا منع ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے کتنی خطرناک بیماریاں پھیلتی ہیں۔ مہربانی ہوگی، آپ بس سے اتر جائیے۔‘‘
وہ آدمی بے نیازی سے مسکرایا، جیسے یہ بات اس سے پہلی بار نہ کہی گئی ہو۔
’’کیا مسئلہ ہے بھائی؟ میرے سگریٹ پینے سے آپ کو کیا خرابی ہو رہی ہے؟‘‘
’’یہاں بیٹھے سبھی افراد کو اسکی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘
وہ ذرا اکڑ گیا۔
’’تو آپ اتر جائیے نا، میں کیوں اتروں؟ جسے عذاب ہو رہا ہے، وہ اترے۔‘‘
بس میں اچانک خاموشی پھیل گئی۔ کچھ لوگ کھڑکیوں کی طرف منہ موڑنے لگے، کسی نے رومال سے ناک ڈھانپ لی، کسی نے نظریں چرا لیں۔
تب گاڑی میں سوار ایک پڑھے لکھے شخص نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
’’چھوڑیں بھائی صاحب، کیوں منہ لگتے ہو؟ اسے نشے کی عادت ہو چکی ہے، بدلنے والا نہیں۔‘‘
پھر اس نے میری طرف دیکھا۔
’’ویسے آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
’’قریب ہی ایک اسکول ہے۔ نوکری کی تلاش میں ہوں۔‘‘
وہ مسکرایا۔
’’میں بھی وہیں جارہا ہوں، اسکول میں استاد ہوں۔‘‘
اسٹاپ آیا تو میں اُترنے لگا۔ اس نے جیب سے کاغذ نکالا، میرا ہاتھ تھام کر اپنا نمبر دیا۔
’’کچھ دن بعد اخبار میں اشتہار آئے گا، فون کر لیجیے گا۔‘‘
پہلے تو سب کچھ عجیب سا لگا، پھر دل میں ایک ہلکی سی امید جاگ اٹھی۔ شاید قسمت نے پہلی بار دستک دی تھی۔
اسکول کے قریب پہنچا تو وہی سگریٹ پینے والا آدمی ایک ڈھابے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہی سلگتی ہوئی سگریٹ تھی، جیسے وقت وہیں ٹھہر گیا ہو۔
میں نے دکاندار سے پوچھا:
’’یہ شخص کون ہے؟‘‘
دکاندار نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی بھاری سوال کر دیا ہو۔
’’بھائی، اس پر نہ جاؤ۔‘‘
میں خاموش کھڑا خود کو ٹوٹتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اندر سے انسان کتنا ختم ہو جاتا ہے، یہ وہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے۔
’’میں نے بھی اس سے بدتمیزی کی تھی…‘‘
میں خود سے شرمندہ سا بولا۔
چائے کے پیسے دینا بھول گیا تھا۔ واپس پلٹا مگر ذہن بار بار اسی آدمی میں اٹکا رہا۔ دل میں خیال آیا پہلے نوکری کا کچھ ہو جائے، پھر اس کے لئے بھی کچھ کروں گا۔
گھر پہنچا تو بیگم دروازے پر ہی مل گئیں۔
’’کچھ بنا؟‘‘
’’ایک اسکول ماسٹر سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس نے نمبر دیا ہے، کہا ہے اشتہار آئے گا۔‘‘
وہ مسکرائیں۔
’’اللہ کرے نوکری مل جائے، رضوان۔‘‘
اگلے دن اخبار کھولا مگر کچھ نہیں۔
فون ملایا.نمبر بند۔
دل بیٹھ سا گیا، جیسے کسی نے اندر سے آخری سہارا بھی کھینچ لیا ہو۔
کیا واقعی وہ استاد تھا؟ آخر ایک پڑھا لکھا آدمی ایسا کیوں کرے گا؟
اگلے دن اسی راستے سے گزرا تو اسکول کے پاس عجیب ہجوم تھا۔ دکاندار نے بتایا:
’’وہ اسکول ماسٹر گرفتار ہو گیا ہے۔ نشے میں گاڑی چلا کر دس لوگوں کو زخمی کر دیا۔ سب اسپتال میں ہیں۔‘‘
میرے قدم لڑکھڑا گئے۔
راستے میں وہی سگریٹ پینے والا آدمی ملا۔ وہ مجھے دیکھ کر ہنسا. ایسی ہنسی جس میں طنز بھی تھا اور ترس بھی۔
جس تلاش میں نکلا تھا، وہ وہیں کی وہیں رہ گئی۔
مگر کچھ دن بعد وہی شخص میرے کام آیا۔ اس نے اپنی دکان کی چابی میرے ہاتھ پر رکھ دی۔
’’یہ سنبھالو، یہاں کام کر لینا۔‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا:
’’تم خود کیا کرو گے؟’’
وہ مسکرایا۔
’’نشے میں جینا… یا ہوش میں جلنا، کیا فرق ہے؟‘‘
کچھ دن گزر گئے۔ ایک رات میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا:
’’تم نے سب کچھ مجھے کیوں دے دیا؟‘‘
وہ دیر تک مجھے دیکھتا رہا، پھر بولا:
’’نشہ صرف سگریٹ کا نہیں ہوتا، رضوان۔ کچھ لوگ عزت کے نشے میں گرتے ہیں، کچھ علم کے، اور کچھ امید کے۔‘‘
میں خاموش رہا۔
وہ آہستہ بولا:
’’جس اسکول ماسٹر کی تم بات کرتے تھے نا… وہ میں ہی تھا۔ اس دن میں نے سچ نہیں بتایا تھا۔‘‘
میرے ہاتھ سے چابی گر گئی۔
وہ کہنے لگا:
’’میں نے سگریٹ پینے والا بن کر وہ سنا جو لوگ دل میں رکھتے ہیں اور استاد بن کر وہ دیکھا جو لوگ مان لیتے ہیں۔ حادثہ نہیں ہوا تھا… گاڑی میں نے خود موڑی تھی۔‘‘
میرا جسم سن ہو گیا۔
’’کیوں؟‘‘
وہ دھیرے سے بولا:
’’یہ جاننے کے لیے کہ لوگ آگ سے ڈرتے ہیں یا دھویں سے۔ اور سچ یہ ہے۔بنا دھویں کے آگ کسی کو نظر نہیں آتی۔‘‘
وہ اٹھا اور بغیر پیچھے دیکھے چلا گیا۔
میں نے پہلی بار سگریٹ جلائی.
اور فوراً بجھا دی۔
دکان میں دھواں نہیں تھا،
مگر میں جان گیا تھا
کہ اصل آگ میرے اندر لگ چکی تھی۔
اور اصل حقیقت…
کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں ہوتی۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819606