پیار کرنے کو ہے بیتاب بہت من اپنا
خوف بھی ہے کوئی بن جا ئے نہ رہزن اپنا
سوزِ دل اب مری آنکھوں میں اُتر آیا ہے
یا الٰہی بھلا کیسے چُھپے شیون اپنا
بستیاں دل کی تھیں آباد مگر ایسی تھیں
عمر بھر ڈھونڈتا پھرتا رہا مسکن اپنا
رازِ ہستی کو چھپاؤں بھی تو کب تک آخر
کھول دیتا ہے کوئی آن میں مدفن اپنا
عشق بےگانۂ آدابِ جنوں ہوتا اگر
چاک کرنا نہ تھا آسان یہ دامن اپنا
دشتِ امکاں میں بھٹکنے کا یہ نکلا حاصل
اپنی نظروں سے ہی اوجھل ہوا گلشن اپنا
فہم کے رستے بھی حیرت کی طرف جاتے رہے
اور اِدھر کھیل رچاتی رہی اُلجھن اپنا
تجربے اور ہنر پر مرے کیسا ہے زوال
رنگ کے ساتھ بکھرتا ہی گیا فن اپنا
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی
بے وجہہ خیالوں میں زندگی نہیں کرتے
راستے کسی کی بھی رہبری نہیں کرتے
وقت زخم بھر دے گا ظلم خود پہ نہ کرنا
زندگی امانت ہے خودکشی نہیں کرتے
عیب ڈھونڈتے ہیں کچھ اور کچھ چُھپاتے ہیں
جس کی جیسی فطرت ہے کیا وہی نہیں کرتے
جھوٹ کو سلیقے سے سچ بنا دیا اُس نے
لوگ ایسی باتوں کو اَن سُنی نہیں کرتے
مشکلیں ہزاروں ہیں ہر کسی کے جیون میں
آپ کی طرح کوئی خامشی نہیں کرتے
ایک دو رفیقوں کا ساتھ جن کو حاصل ہے
وہ کہیں کسی سے بھی دشمنی نہیں کرتے
اس وطن کے خاطر ہم سرکٹا بھی سکتے ہیں
ہم ایمان والے ہیں مسخری نہیں کرتے
لوگ علم والوں کا مرتبہ سمجھتے ہیں
پر غلط بیانی کی پیروی نہیں کرتے
ہار ہوگئی لیکن حوصلہ نہیں ٹوٹا
وہ غلط سمجھ بیٹھے واپسی نہیں کرتے
موت اک حقیقت ہے بے خبر نہیں کوئی
کیا پتہ کہاں ہوگی یاد بھی نہیں کرتے
مشکورؔ تماپوری
تماپور،کرناٹک
خاکِ منزل میں چھپی اب وہ مسافت ہے کہاں
دل کے آنگن میں سجی پہلی سی راحت ہے کہاں
راستے اب اجنبی سے لگ رہے ہیں شہر میں
پہلے جیسی اِن چراغوں میں وہ رنگت ہے کہاں
گفتگو میں اب رعایت ڈھونڈتے ہیں سب یہاں
لفظ کے پیچھے چُھپی سچی عقیدت ہے کہاں
تم بھی بدلے ،ہم بھی بدلے اور بدلا وقت بھی
پر پرانی دوستی کی وہ طہارت ہے کہاں
عشق کی بازی لگی ہو، جان کی پرواہ نہ ہو
اب محبت میں کسی کی ایسی جرأت ہے کہاں
گوشہِ تنہائی اب عرفاتؔ بہتر ہے یہاں
بھیڑ میں اب وہ پرانی سی رفاقت ہے کہاں
وانی عرفات ؔ
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
مجھ کو میرے بدن سے بہت جوجھنا پڑا
توڑا ہے یہ کبھی تو کبھی جوڑنا پڑا
بچوں کو پالنا ہے کہ جب سوچنا پڑا
بیوہ کو آنسوؤں کو یہاں پونچھنا پڑا
میں خود تو اس جگہ پہ نہیں جا سکا ابھی
پر دوسرے کسی کو وہاں بھیجنا پڑا
خود کو تلاش کرنے وہ نکلا تھا اج تب
کتنوں سے اس کو اپنا پتا پوچھنا پڑا
کوئی خزانہ گاڑ کے وہ بھول گیا ہے
کتنی ہی دھرتیوں کو اسے کھودنا پڑا
مجھ کو کوئی خوشی جو میسر نہیں ہوئی
انبار میں غموں کے اسے کھوجنا پڑا
بھر پائی کرنے نکلا تھا نقصان کی مگر
کچھ اور آج کھو کے مجھے لوٹنا پڑا
بیساکھیوں کے ساتھ بھی میں چین سے نہ تھا
چلنا پڑا ہے تیز کبھی دوڑنا پڑا
رکھے ہیں کچھ کھلونے بڑھاپے میں بھی ابھی
دنیا سے چھپ کے اُن سے مجھے کھیلنا پڑہا
نقصان کہنے کو تھا کسی اور کا مگر
اپنے حساب میں ہی اسے جو ڑنا پڑا
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
دل کے صحرا میں کئی خواب جلا بیٹھا ہوں
میں زمانے کی حقیقت سے گِلا بیٹھا ہوں
میرے لفظوں میں ابھی درد کی خوشبو ہے بہت
اپنی خاموشی میں اک شہر بسا بیٹھا ہوں
وہ جو کہتے تھے کبھی ساتھ نہ چھوڑیں گے مرا
آج اُن لوگوں سے ہی فاصلہ رکھا بیٹھا ہوں
اب تو ہر شخص یہاں اپنی اَنا کا قیدی
میں بھی اس شہر میں اک زخم اٹھا بیٹھا ہوں
عمر گزری ہے تعلق کی حفاظت کرتے
اب تھکن ایسی ہے سب رشتے بُھلا بیٹھا ہوں
ایک امید ابھی دل میں کہیں زندہ ہے
ورنہ سبدر ؔمیں یہ دنیا بھی لُٹا بیٹھا ہوں
سبدر شبیر
[email protected]
گرے ہیں بار ہا ہم بھی مگر اُٹھ کر دکھایا ہے
کڑی محنت نے ہی اپنی ہمیں ماہر بنایا ہے
تھے خاکِ راہ لیکن تو نے سر آنکھوں بٹھایا ہے
کہاں ہم خاص تھے تیری محبت نے بنایا ہے
نہیں چھوڑا ہے ہم نے بھی کبھی تدبیر کا دامن
مقدر نے بہت گو آزمایا ہے، گرایا ہے
بہت مشکل ہے تیری یاد کو دِل سے مٹانا اب
یہی تو ہے متاع اپنی، یہی دِل میں نمایاں ہے
تقاضہ وقت کا ہے اب نہ اوروں کی طرح جئیں
وہی رستہ چُنیں جو دِل نے خود ہم کو دکھایا ہے
یہ رستہ دِل کا ہے صورتؔ ذرا سنبھل کے چلئے گا
کبھی ایسابھی رستہ کیا عجب اِس جگ کو بھایا ہے
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
جہاں میں عقل کو جس سے نہ آشنائی تھی
میرے وجود میں بس اس کی رہنمائی تھی
اسی کے دم سے بہاراں تھی زندگی میری
وہ خوش مزاج تھا پر اس میں بے وفائی تھی
وہ ابتدا سے ہی شامل تھا میری ہستی میں
وہ نا خدا تھا میرا اس کی نا خدائی تھی
تھا لفظ لفظ متانت سے آشنا اُن کا
میرے کلام میں اُن سے ہی روشنائی تھی
وہ ساتھ ساتھ چلا تھا قدم قدم میرے
مگر کہیں پہ بھی اس سے نہ ہم نوائی تھی
ساریہ سکینہ
حضرتبل سرینگر، کشمیر