سرینگر// جموں کشمیر میں سیاسی دل بدلی کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کوسجاد لون کی زیرقیادت پیپلز کانفرنس میں 3سنیئر سیاسی لیڈر سید بشارت بخاری ، پیرزادہ منصور اور خورشید عالم نے شمولیت کا اعلان کیا۔سجاد لون نے تینوں سابق قانون سازیہ کی پیپلز کانفرنس میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ370 کو یا تو عدلیہ یا پارلیمنٹ کے ذریعہ بحال کیا جاسکتا ہے،اور یہ مشن بہت مشکل ہے ، لیکن ناممکن نہیں۔ سرکاری رہائش گاہ واقع چرچ لین میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ وہ پارٹی میں موجود تینوں سینئر سیاسی لیڈروں کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ سجاد لون نے کہا ’’میں پیپلز کانفرنس ،جو تبدیلی کا کارواں ہے،میں تینوں سیاسی لیڈروں کا خیرمقدم کرتا ہوں ، اوریہ تینوں جن کے پاس بہت سارے سیاسی تجربے ہیں وہ جموں کشمیر میں پیپلز کانفرنس کو مزید متحرک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘‘سجاد نے کہا کہ بخاری ، منصور اور عالم کی شمولیت سے پیپلز کانفرنس کو موجودہ ’’ غیر معمولی صورتحال‘‘سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور سخت ترین صورتحال سے چھٹکارا پانے میں تعمیری کردار ادا کریں گے۔ان کا کہنا تھا’’وہ وزراء ، ممبران اسمبلی اور ایم ایل سی رہ چکے ہیں،مجھے امید ہے کہ پیپلز کانفرنس ان کے تجربات سے بہت کچھ حاصل کرلے گا۔ دفعہ 370 کی بحالی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سجاد غنی لون نے کہا کہ وہ جھوٹ پرنہیں بلکہ صاف گوئی پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا’’میں آپ کو ایمانداری کے ساتھ یہ بتادوں کہ دفعہ 370 کو واپس لینے کے صرف دو طریقے ہیں ، عدلیہ یا پارلیمنٹ، فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی ہم پہلی جماعت تھی، یہ ایک طویل جنگ ہے،اور اس سے قبل ، ہم اسے واپس لینے کا خواب بھی نہیں سوچ سکتے، دوسری طرف ، ہمیں بد اعتمادی کی تمام رکاوٹوں کو ختم کرکے ہندوستانی عوام کے ساتھ مشغول ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ ہمیں اپوزیشن ، حکومت اور سول سوسائٹی کے لوگوں سے ملنے کی ضرورت ہے تاہم اگر مشن مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے‘‘۔سوپور حملے کے بارے میں جہاں ایک میونسپل کونسلر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ، سجاد نے کہا ’’ایسی حرکتیں صرف کشمیر کے دشمن ہی کرسکتے ہیں، ہم نے ہمیشہ ایسے حملوں کی مذمت کی ہے۔اس موقع پر بشارت بخاری اور پیر منصور حسین نے کہا کہ وہ پیپلز کانفرنس میں شامل ہونے پر خوش ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ پارٹی میں شامل ہوکر وہ لوگوں کی بہترطور پر خدمت کرسکتے ہیں۔ بشارت بخاری نے کہا’’میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے تقریبا دو سالوں سے نیشنل کانفرنس کا حصہ بننے کا زبردست تجربہ ملا، میں وہاں خوش تھا ، لیکن بعض اوقات آپ اپنے ہی کنبہ کے ممبروں کے سامنے بھی جوابدہ بن رہے ہیں۔ ترقی کے لئے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جانے میں کوئی غلط بات نہیں ہے‘‘۔منصور نے سجاد کو با اصول شخص قرار دیتے ہوئے کہا ، انکے پاس’’ روایت سے ہٹ کرخیالات ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا’’میں جیل میں سجاد صاحب سے ملا اور ان کو سمجھنے کے لئے بہت اچھا وقت ملا‘‘۔منصور نے کہا ، شاید میں پہلا شخص ہوں جو جنوبی کشمیر سے پیپلز کانفرنس میں شامل ہوا ہوں، خورشید عالم نے اس موقع پر بات نہ کرنے کو ترجیح دی۔ منصور کو پی ڈی پی سربراہ محبوبہ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا ، جبکہ عالم بھی پی ڈی پی چیف کے قابل اعتماد لیڈروں میں سے ایک تھے۔