فہم و فراست
قیصر محمود عراقی
آ ج کل ہمارے یہاں کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اولاد والدین کا گلا دبارہی ہے، ماں باپ کو اپنی ترقی کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے، ان کے خیالات اُنہیں پرانے لگتے ہیںاور بڑھاپے میں وہ بوجھ محسوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں، حالانکہ دنیا میں اگر کوئی شناخت اور وجود ہے تو یہ والدین کی وجہ سے ہی ہے، جنہوںنے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ۔ آج ہم لوٹ کھسوٹ کے تو عادی ہیں ہی، ساتھ ہی ساتھ ہم ذہنی طور پر بھی فارغ ہوچکے ہیں، ہم صرف پیسوںمیںدیوالیہ ہونے نہیں جارہے بلکہ تمیز ، کردار، حلال ، انصاف ، اخلاقیات، برداشت اور انسانیت میں دیوالیہ ہوچکے ہیں، اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آج بچے والدین کے آگے سر اٹھا کر انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ والد کو ہم نے پیسے کمانے والی مشین سمجھ رکھا ہے اور والدہ کو گھر کی نوکرانی۔ ہماری ذہنی پستی کا یہ حال ہے کہ جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوںیاضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا، کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کردیتے ہیں کہ اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی، کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی فلاں کی طرح عالیشان گھر میں رہتے اور گاڑی میں گھوم رہے ہوتے ۔ کہاں ہوں، کب آئوگے، زیادہ دیر نہ کرناجیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتوسے لگتے ہیں، سوئیٹر تو پہنا کچھ اور بھی پہن لو، سردی بہت ہے، انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں، اکثر اولادیںاپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی ، پلاٹ، بینک بیلنس ، کاروباراور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سر خروہوجاتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے ، کاروبار کرتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ میں نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے، جلد سے جلد سب کچھ پانی کی جستجومیں ہم کچھ کھوبھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔ بہت سی اولادیںوقتی محرومیوںکا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دیکر ہر چیز سے بری الذمہ ہوجاتی ہیں، وقت گذرجاتا ہے اچھا بھی اور برا بھی، اور اتنی تیزی سے گذرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے اردگرد منڈلاتے دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ جوانی، پڑھائی، نوکری، شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج، وہی کردار جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آآکر باپ کی ہر سوچ ، احساس ، فکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کر رکھ دیتا ہے۔ باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی بھی پرانے دوستوںمیں بے وجہ قہقہے ، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے ، پرانے کپڑوںکو فخر سے پہننا ، کھانوںمیں اپنی سادگی پر فخر، کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سرِ شام بتی بجھاکر لیٹ جانا، نظریں جھکائے انتہائی محویت سے ڈوب کر قرآن کی تلاوت کرنا سمجھ تو آنا شروع ہوجاتا ہے لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر دوسرے شہروںمیںگئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں، جب ہم سردی میںوضوکرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں، پوچھ ہی لیں بیٹا آپ کے ہاںگرم پانی آتا ہے، جب قہر کی گرمی میں اے سی یا روم کالر کی خشک ہوا بدن کو چھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل وماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے کہ کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی، جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر ، ہزارتانے بانے جوڑنا باپ تھک ہار کر اللہ اور اس کی کلام پاک میں پناہ ڈھونڈتا ہے تب یاد آتا ہے۔ اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے ، محسوس کرنے اس کی ہر تلخی، اذیت اور اور ان کی ہر فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہے جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بے چین ضرور کرتا ہے لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پہ عیاں ہوجائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔ اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھونا ، پیار کرنا ، دل سے لگانا یہ تو بچپن کی باتیں ہیںاور پھر باپ میں کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازوں کھولے ہونگے، پیار کیلئے اس کے ہونٹ تڑپیں ہونگے اور ہماری بے باک جوانیوںنے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا۔ ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش ، ہر دعا ، ہر تمنا اولاد سے شروع ہوکر اولاد پر ہی ختم ہوجاتی ہے لیکن کم باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلاسکے ہوں۔ یہ ایک چھپا ہوا میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اولاد کیلئے بہت کچھ کرکے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں اور بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں، تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوںمیں منتقل کردیتی ہے، اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہوجائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا مخلص، خوبصورت اور بہترین دوست کوئی اور ہوہی نہیں سکتا،اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہر اولاد اپنے باپ کو اپنا دوست بنائے۔
رابطہ۔6291697668