روبینہ میر
کیا کہوں ؟ کیسے کہوں؟ کس سے کہوں ؟ کیونکر کہوں ؟
قدغنیں سی آلگی ہیں اب میری گُفتار پر
ہاں تو مجھے بات کرنی ہےاس کتاب کی جس کتاب کا ٹائیٹل ہے ” باتیں ہیں باتوں کا کیا” اس کتاب کے مصنف کی جس کی باتیں ہی اب ادب نواز ساتھیوں اور ادبی دُنیا کا سرمایہ ہیں،جو باتیں اب یادیں بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔مجھے بات کرنی ہے اُن باتوں کی جن باتوں کی بدولت باتوں کا یہ مجموعہ وجود میں آیا۔ مجھے بات کرنی ہے،اس خوبصورت کتاب کے مصنف نذیر جوہر کی جسے مرحوم لکھتے آج بھی میرے ہاتھ کانپتے ہیں، آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ ۔ موصوف میری فیس بُک فہرست میں کب داخل ہوئے کُچھ یاد نہیں۔۔۔۔۔ ہاں اُن سے پہلی بار کب اور کس موضوع پر بات ہوئی تھی۔یہ بہت اچھے سے یاد ہے۔یہ غالباً سال 2019کے اختتام کی بات ہے جب پنچائیتی الیکشن وجود میں آئے تھے۔وہ ایک سیاسی ایشو تھا۔ جس پر بات ہوئی تھی۔وہ ایک بات ایسے پھیلی کہ آگے چل کر وقتاً فوقتاًہر موضوع پر بات ہوتی رہی۔دراصل باتیں ہی ہر انسان کے خیالات ،نظریات ،احساساسا و جذبات کا آئینہ ہوتی ہیں۔ ہر انسان اپنے خیال کا اظہار بات سے ہی کرتا ہے۔انہی باتوں کو جب عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔تو وہ اس انسان کا کردار بنتا ہے۔ آگے چل کر وہی کردار انسان کی پہچان بنتی ہے۔ باتیں جب یادوں میں بدل جائیںتو یہی باتیں جینے کا سہارا یعنی قیمتی سرمایہ ء حیات بن جاتی ہیں۔باتوں کے حوالے سے میرا یہ ایک شعر ہے ؎
بات پیدا ہو گی کیسے بات میں
سوچتی ہوں بس یہی دن رات میں
باتوں کے حوالے سے ان تمہیدی کلمات کا اظہار اس لئے ضروری تھاکہ مجھے نذیر جوہر صاحب کی اس زیرِ نظر کتاب “باتیں ہیں باتوں کا کیا ” کا تعارف کروانا ہے۔اس کتاب کو اُردو ادب میں خوش آمدید کہنا ہے۔جیسا کہ باتوں کے حوالے سے حرفِ آغاز میں موصوف یوں رقم طراز ہیں۔ “باتیں ہیں باتوں کا کیا ? ” نہ جانے ماضی بعید کے کس باب سے شُروع ہوئی ہیں،جو اب تک جاری وساری ہیںاور نہ جانے کب باتوں کے اس دراز سِلسلے کے ابواب کا تِتمّہَ ہو گا۔وہ لکھتے ہیں۔
سخنِ بسیار کا یہ پیہم مُسلسل دراز اور نہ رُکنے والا عمل و سِلسِلہ شاید دُنیائے ناپائیدار کے قائم ہونے تک جاری رہےبلکہ نقلِ دُنیا کے بعد بھی یہ سِلسِلہ قبر میں سوال و جواب کے عمل سے سرِ نو شُروع ہو اور ایمان و اعمال کی پوچھ تاچھ کے سوالات و جوابات کے مراحل سے پھر سے گُزرنا پڑے یعنی باتیں قیامت اور فنائے دُنیا کے بعد بھی ہونگی اور بڑے تسلسل سے ہونگی۔موصوف کا یہ قول کس قدر سچا ہے کہ “آپ غم و الم میں ہوں تو باتیں ، شاد و شادماں ہوں تو باتیں، عروج پر ہوں تو باتیں اور زوال پذیر ہوں تو باتیں ” باتیں نہ ہوں تو ایک دوسرے سے تعلق کیساء ربط کیساء بات سے بات بنتی ہے۔بات سے تعلق بڑھتا ہے۔ بات سے آپسی رشتے استوار ہوتے ہیں۔بقول شاعر
“بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی ”
ہاں تو میں بات کرنا چاہوں گی اُن باتوں پر، جن کا تذ کرہ اکثر اس کتاب کے مصنف نذیر جویر صاحب ماضی کے جھروکوں سے کرتے ہیں۔ جن میں بچپن سے جڑی چھوٹی بڑی یادیں اور وہ کھٹی میٹھی کہانیاں ہیں جن سے وہ گزر آئے تھے اور ان کے ذہن میں ابھی تک تازہ تھیں ۔ جن کو وہ اس طرح سناتے گویا کل ہی کی بات ہو اور کبھی کبھی میں ان واقعات کو سُن کر بہت ہنستی اور محظوظ بھی ہوتی۔ موصوف چونکہ خود بھی بہت ہنس مُکھ اور خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے۔جو بات بات پر کوئی نہ کوئی ایسا جوک ۔محاورہ یا مزاحیہ لطیفہ سُناتےکہ سُننے والا ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مندرجہ ذیل ابواب میں بھی کچھ ایسے ہی واقعات ہیں جن کو مصنف نے یہ عنوان دے کر کتاب میں شامل کیا ہے۔
اسکول اور بچپنا ص 55
ٹیکے اور ٹیکے بابو ص 88
ہائی اسکول داخلہ اور تعلیم ص 124
ڈاکٹر زاہد سوگامی ص 143
تھیٹر اور ڈرامے ص 156
چلتا پھرتا کُتب خانہ ص 162
ٹیلی ویژن کی آمد ص 200
ابا حضور ایک ہمہ رخی شخصیت ص 213
ماں تُجھے سلام ص 220
چٹ منگنی پَٹ بیاہ ص 226
آگے چل کر اُنھوں نے بچپن کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کو عنوان دے کر ایک خوبصورت کہانی تشکیل دی جو اردو ادب میں بہترین اضافہ ثابت ہو گا ان شاءاللہ۔
نذیر جوہر صاحب ایک بہترین افسانہ نگار اور منجھے ہوئے کہانی کار تھے۔ موصوف کی نگارشات کا اپنا ایک منفرد اور خوبصورت اسلوب تھا جو قاری کو بہت متاثر کر کے سوچ کی دعوت دیتا تھا۔ موصوف سرزمینِ کشمیر کے اُن افسانہ نگاروں میں ہیں جن کا نام سرِ فہرست ہے۔ بڑی بات یہ کہ ان کی یاداشت کا یہ کمال تھا کہ انھیں بچپن کے یہ چھوٹے چھوٹے قِصے ایسے یاد تھے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ ان کے افسانے حقیقت کے بہت قریب مانے جاتے ہیں۔ تو ان کے لئے بچپن کے کسی سچے واقعے کو خوبصورت کہانی کی شکل میں پیش کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔اسی چیز کو بھانپتے ہوئے میں نے موصوف کو مشورہ دیا کہ آپ اگر چاہیں تو اپنی تہذیب ،کلچر اور ثقافت کو ان قصے کہانیوں کے ذریعے سے محفوظ کر سکتے ہیں۔دوسری بات یہ کہ ان تمام واقعات میں نئی نسل کے لئے کوئی نہ کوئی پیغام موجود تھا۔میرے خیال سے بچپن کی ان یادوں کو موضوع دے کر کتابی شکل دینے کے دو اہم فائدے تھے۔ ایک تو اس دور کے عام انسان کی سادگی ,سچائی اور بھولے پن کی اصلی تصویر کھینچی گئی تھی۔ دوسرا ہر واقعے میں کوئی نہ کوئی پیغام چُھپا تھا،جو ادبی خزانے میں بیش قیمت اضافہ ثابت ہوگا۔ اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے جب میں نے جوہر صاحب کو یہ مشورہ دیاتو انھوں نے یہ مشورہ قبول کرتے ہوئے ان تمام واقعات کو قلمبند کیا جو ان کے ماضی کے نگار خانوں میں ابھی تک محفوظ تھے۔ باتوں ہی باتوں میں کتاب پر کام بھی شروع کر دیااور کتاب کے ٹائیٹل کا انتخاب بھی۔
وہ ا اپنی نگارشات کے حوالے سے اکثر فرماتے تھے کہ محترمہ آپ کے تبصرے کا مجھے شِدت سے انتظار رہتا ہےکیونکہ تُم اتنی خوبصورتی سے حاصلِ تحریر لکھتی ہوکہ مجھے مزید لکھنے کی تحریک ملتی ہے۔
اس کتاب کا ٹائیٹل ” باتیں ہیں باتوں کا کیا ” جب میری نظروں سے گزرا تو مجھے یہ ٹائیٹل قارئین کے لئے کوئی خاص دلچسپی یا کشش کا سبب نہیں لگا بلکہ بہت ہلکا ,پُھلکا سا عُنوان محسوس ہوامیں نے جوہر صاحب کو ٹائیٹل بدلنے کا مشورہ دیامگر اس بار موصوف نے اس مشورے پر کوئی خاص توجہ نہ دے کر یہ کہہ کر ٹال دیاکہ” محترمہ ٹائیٹل کا کیا ہوتا ہے کُچھ بھی رکھ دیجئے” لیکن اس کتاب کا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے کیونکہ ان واقعات کو کتابی شکل دینے کی تحرِیک آپ نے ہی دی ہے۔ اس احسان کے بدلے میں اس کتاب کا انتساب آپ کے نام کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے موصوف کی اس خواہش کا احترام کرتے شُکریہ ادا کیا لیکن انتساب اپنے نام کروانے سے منع فرمایا۔
ہاں تو بات ہو رہی ہے ” باتیں ہیں باتوں کا کیا ” کے متعلق تو بات سے بات نکل رہی ہے۔ باتوں کے پس منظر میں میرے بھی بہت سے اشعار ہیں۔
چند ایک نمونے کے طور پر پیش کرنا چاہوں گی۔
کُچھ لب و رُخسار کی باتیں کریں
اور کُچھ کردار کی باتیں کریں
بِک رہے تھے حضرتِ یوسف جہاں
مِصر کے بازار کی باتیں کریں
جو غمِ دل کا مداوا کر سکے
کیوں نہ اُس غمخوار کی باتیں کریں
جس ٹائیٹل کو میں بہت ہلکا سمجھ رہی تھی، جو بظاہر پڑھنے اور سُننے میں ایک عام سا جُملہ لگتا ہے، کے بارے میں آج مجھے معلوم ہوا،کہ اس آدھے ادھورے عام سے جُملے کے اندر کتنی گہرائی ہے، کتنی وُسعت ہے،جو اپنے آپ میں ایک خزینہ ہے۔ایک ایسا خزینہ جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔
بقول شاعر
پھیل جائے تو اک کتاب بنے
بات کہنے میں جو ذرا سی ہے
اس ہلکے پُھلکے ٹائیٹل کے اندر تو کُل کائینات ہے۔ موصوف حُسنِ اخلاق کا پیکر تھے۔ جس انسان میں اخلاق کا حُسن آجائے وہ خالق و مخلوق دونوں کا محبوب بن جاتا ہے اچھے انسان اُن پھولوں کی مانند ہوتے ہیں جو خوشبو کے لئے عِطر کے محتاج نہیں ہوتے۔اچھے انسان کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ احسان فراموش نہیں ہوتا۔وہ آپ سے ناراضگی کے باوجود بھی آپ کا خیال رکھتا ہے۔نذیر جوہر ایسی ہی نایاب شخصیات میں سے ایک تھے،جن کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا۔وہ میری بہت عزت کرتے تھے۔چند سال پہلے میں نے ایف بی پہ ایک تصویر شیئر کی تھی،جس کو دیکھ کر جوہر صاحب کہنے لگے کہ اس تصویر میں آپ کی شکل میری اماں سے بہت ملتی جُلتی ہے۔ اس کے بعد مجھے اکثر اماں کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اس بات کا ذکر انہوں نے اس کتاب کے آخری صفحے پر بھی کیا ہے۔
موصوف ماں کی رحلت کے حوالے سے یوں لکھتے ہیں۔ ” ہمیں آگے جاکر اللہ نے بڑی بڑی مہربانیوں سے نوازا،عزت عطا کی شہرت دی،ہر اُس چیز سے نوازا جس کی کہ لوگ تمنا کرتے ہیںمگر اس بات کی خِلش ہمیشہ دل میں رہی کہ ہماری اماں نے بچپن میں ہی ہمارا ساتھ چھوڑ دیااور ہمارے پاس سب کُچھ ہوتے ہوے بھی ماں جیسا انمول سرمایہ نہیں ہے۔ میں آج بھی کہیں بھی یا کسی دوست کے گھر میں کسی ماں کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھیں اچانک ڈبڈبا جاتی ہیں اور مجھے اپنے آنسو چُھپانے میں بڑی دقت پیش آتی ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ
’’میری ایک علمی و ادبی دوست اور ایک سرکردہ ادیبہ کی شکل میری اماں سے بہت مِلتی جُلتی ہے۔ میں اکثر اُس ادیبہ محترمہ کو، جو عُمر میں مُجھ سے چھوٹی ہیں،کو اماں کہہ کر ایسے تنگ کرتا ہوں کہ جیسے اپنے بچپن میں اپنی اماں جی کو کیا کرتا تھا۔مگر انہیں اتنی عزت و احترم بھی دیتا ہوں کہ جیسے حقیقتاً میری اماں ہوںاور میں ان کے روبرو ان کی تعظیم و تکریم میں ہاتھ جوڑے استادہ ہوں۔ ”
جاری ۔۔۔۔
���
راجوری، جموں کشمیر
” باتیں ہیں باتوں کا کیا “