فکرو ادراک
مسعود محبوب خان
رمضان المبارک کی پرنور ساعتیں جب اپنے عروج پر پہنچتی ہیں تو آخری عشرہ اپنے دامن میں ایک ایسی بابرکت رات کو سمیٹے ہوتا ہے، جس کے بارے میں قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے ،’’ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ یہ وہ رات ہے جو صرف ایک عبادت کی رات نہیں بلکہ انسان کی تقدیر بدل دینے والی رات ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے یہ رات ایک عظیم موقع ہے کہ وہ اپنے ماضی کا محاسبہ کریں، حال کو سنواریں اور مستقبل کے لیے ایک روشن راستہ اختیار کریں۔ قرآن میں سورۃ القدر کے علاوہ سورۃ الدخان میں بھی شبِ قدر کا اشارہ ملتا ہے: ’’اِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ‘‘ (الدخان۔ 3) مفسرین کے مطابق اس سے مراد شبِ قدر ہے۔ اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ اس رات میں فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور سلامتی کا پیغام لاتے ہیں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں عبادت کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔(بخاری ،مسلم)
شبِ قدر کی عظمت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اسی مبارک رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام، قرآنِ حکیم کو نازل فرمایا۔ یہ رات گویا ہدایت کے سورج کے طلوع ہونے کی رات ہے۔ جب زمین پر ظلمتیں گہری ہو چکی تھیں، جب انسانیت فکری و اخلاقی بحران کا شکار تھی، تب اسی رات آسمانِ ہدایت سے قرآن کا نور اترا اور اس نے دنیا کو نئی سمت عطاء کی۔ نوجوان نسل اگر قرآن کے اس پیغام کو سمجھ لے تو ان کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ قرآن دراصل انسان کے فکر و کردار کی تعمیر کا منشور ہے، اور شبِ قدر اس منشور کے نزول کی یادگار رات ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم رات کا پیغام خصوصاً نوجوان نسل کے لیے کیا ہے؟ جب قرآن ہدایت کا سر چشمہ ہے اور شبِ قدر اس کے نزول کی یادگار، تو لازمی طور پر اس کا سب سے زیادہ اثر اس طبقے پر ہونا چاہیے جو مستقبل کی تعمیر کا ذمّہ دار ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے انسان کی فکر، کردار اور زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے۔
نوجوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں قوت، جوش، امنگ اور خواب اپنی انتہاء پر ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جس میں انسان بڑے فیصلے کرتا ہے اور اس کے اثرات پوری زندگی پر پڑتے ہیں۔ لیکن یہی عمر آزمائشوں سے بھی بھری ہوتی ہے۔ جدید دور میں نوجوان کو جس فکری انتشار، اخلاقی الجھن اور تہذیبی کشمکش کا سامنا ہے، اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ سوشل میڈیا، مادّی دوڑ اور بے مقصد تفریحات نے نوجوان کی توجہ کو منتشر کر دیا ہے اور اس کی توانائی کو غیر ضروری سمتوں میں بکھیر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں شبِ قدر نوجوان کے لیے روحانی بیداری کا ایک سنہری موقع بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ رات اسے اپنی زندگی پر غور کرنے، اپنے مقصد کو پہچاننے اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ گویا شبِ قدر نوجوان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ:زندگی محض لذتوں کا نام نہیں۔وقت محض گزر جانے والی شے نہیں بلکہ ایک قیمتی امانت ہےاور انسان کا اصل مقصد اللہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت بھی ہے۔
اسی شعور کے ساتھ اگر نوجوان شبِ قدر کی حقیقت کو سمجھ لیں تو یہ رات ان کی زندگی میں محض ایک عبادت کی رات نہیں رہتی، بلکہ ایک فکری اور روحانی انقلاب کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق اس رات میں آنے والے سال کے اہم امور کا فیصلہ ہوتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: ’’ اس رات میں ہر حکمت والا فیصلہ طے کیا جاتا ہے۔‘‘(الدخان۔ 4) اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شبِ قدر صرف عبادت کی رات نہیں بلکہ کائناتی فیصلوں کی رات بھی ہے۔
اسی طرح شبِ قدر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ محض عبادت کی ایک مقدّس رات نہیں بلکہ انسان کے باطنی بیدار ہونے اور اپنے آپ کو پرکھنے کا ایک نادر موقع بھی ہے۔ دراصل یہ رات انسان کو زندگی کے ہنگاموں سے ہٹ کر چند لمحوں کے لیے رکنے، سوچنے اور اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شبِ قدر کو بجا طور پر خود احتسابی کی ساعت کہا جا سکتا ہے۔ یہ رات دراصل انسان کے اندرونی سفر کی رات ہے۔ نوجوان جب تنہائی میں اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، سجدے میں جھکتا ہے اور دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کا موقع ملتا ہے۔ اس لمحے وہ اپنے آپ سے چند بنیادی سوالات کر سکتا ہے:میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟میں اپنی صلاحیتوں کو کس سمت میں استعمال کر رہا ہوں؟کیا میری زندگی اللہ کی رضا کے مطابق ہے؟
یہ سوالات محض فکری سوالات نہیں بلکہ انقلابی سوالات ہیں۔ اگر انسان دیانت داری کے ساتھ ان پر غور کرے تو یہ اس کی سوچ، اس کے فیصلوں اور اس کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ دراصل شبِ قدر انسان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ماضی کا جائزہ لے، حال کو سنوارے اور مستقبل کے لیے ایک بہتر راستہ اختیار کرنے کا عزم کرے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ شبِ قدر صرف عبادت کی رات نہیں بلکہ شعور کی بیداری اور کردار کی تعمیر کی رات بھی ہے۔ جب نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں تو ان کے لیے یہ رات محض ایک رسم نہیں رہتی بلکہ ان کی زندگی میں ایک نئے آغاز کا پیغام بن جاتی ہے۔
شبِ قدر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دعا اور امید کی رات ہے۔ جب انسان اپنے ربّ کے حضور جھکتا ہے تو اس کے دل کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ پوری عاجزی کے ساتھ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مغفرت اور رحمت کا طلبگار بنتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ اپنے ربّ کے قریب ترین ہوتا ہے اور اس کی دعا قبولیت کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اسی لیے شبِ قدر کی سب سے بڑی نعمت دعا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے رسول اللّٰہؐ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ‘‘اے اللّٰہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔
یہ دعا دراصل انسان کی عاجزی، انکساری اور امید کا حسین اظہار ہے۔ اس میں بندہ اپنے ربّ کے سامنے اپنی کمزوریوں کا اعتراف بھی کرتا ہے اور اس کی رحمت سے امید بھی باندھتا ہے۔ درحقیقت دعا انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے اللہکے قریب لے آتی ہے۔
نوجوان اگر اس مبارک رات میں اخلاص کے ساتھ، دل کی گہرائیوں سے دعا کریں تو ان کے اندر ایک نئی روحانی قوت پیدا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ دعا انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، اور یہی تعلق انسان کو زندگی کی مشکلات، آزمائشوں اور فکری انتشار کے درمیان ثابت قدم رہنے کی طاقت عطاء کرتا ہے۔ اسی لیے شبِ قدر کو امید کی رات بھی کہا جا سکتا ہے؛ ایک ایسی رات جس میں انسان ماضی کی لغزشوں پر نادم ہو کر مستقبل کے لیے نئی امید اور نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔نبی کریم ؐ نے شبِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین کی ۔ اسی لیے صحابہؓ آخری عشرے میں عبادت میں غیر معمولی اضافہ کر دیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمؐ آخری عشرے میں:راتوں کو زیادہ عبادت کرتے،گھر والوں کو بھی جگاتے،عبادت میں خصوصی اہتمام فرماتے۔
جب شبِ قدر کی حقیقت، اس کی روحانیت اور اس کے پیغام کو سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ رات صرف عبادت کا ایک موقع نہیں بلکہ انسان کی زندگی کو نئی سمت دینے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ رات ایک بیداری کی صدا رکھتی ہے، کیونکہ نوجوانی ہی وہ دور ہے جس میں انسان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر نوجوان اس رات کی معنویت کو شعوری طور پر سمجھ لیں تو ان کے اندر کئی مثبت تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ شبِ قدر دراصل انہیں زندگی کے چند بنیادی اسباق سکھاتی ہے:
شبِ قدر یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ایک رات بھی انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ جب ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہو سکتی ہے تو اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ رات عبادت، دعا اور ذکر کے ذریعے دل کو سکون اور روح کو تازگی عطاء کرتی ہے۔ جب نوجوان عبادت کے اس لطف کو محسوس کرتے ہیں تو ان کے اندر اللّٰہ سے تعلق مضبوط ہونے لگتا ہے۔ شبِ قدر انسان کو اپنے کردار اور رویّوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان اپنے اخلاق کو بہتر بنانے اور دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس رات کی روحانیت انسان کو یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ یوں نوجوان اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد، یعنی اللّٰہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت سے جوڑ سکتے ہیں۔گویا شبِ قدر صرف ایک عبادت کی رات نہیں بلکہ ایک ایسی رات ہے جو نوجوان کو وقت کی قدر، کردار کی اصلاح اور مقصدِ حیات کے شعور سے آشنا کرتی ہے۔ اگر نوجوان اس پیغام کو اپنی زندگی میں جگہ دے دیں تو یہی رات ان کے لیے ایک روشن اور بامقصد مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
جب ہم شبِ قدر کے پیغام پر غور کرتے ہیں تو یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف نظری تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ اس نے عملی نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ تاریخِ اسلام کے اوراق ہمیں ایسے بے شمار نوجوانوں کی مثالیں دکھاتے ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کو ایمان، اخلاص اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی زندگیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر انسان کے اندر مقصدیت اور یقین پیدا ہو جائے تو کم عمری بھی عظیم کارناموں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں ایسے نوجوانوں کی روشن مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اللّٰہ کی رضا کے لیے وقف کر دیا۔ حضرت علیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ اور حضرت اسامہ بن زیدؓ جیسے نوجوانوں نے کم عمری میں ایسی خدمات انجام دیں جو تاریخ کا ایک روشن باب بن گئیں۔ کسی نے علم و شجاعت کے میدان میں اپنی مثال قائم کی، کسی نے دعوتِ دین کے لیے اپنی آسائشیں قربان کر دیں، اور کسی نے قیادت و ذمّہ داری کا ایسا معیار قائم کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
ان کی زندگیوں میں عبادت، اخلاص اور مقصدیت کا جو جذبہ نظر آتا ہے وہ دراصل اسی روحانی پیغام سے ہم آہنگ ہے جس کی یاد شبِ قدر دلاتی ہے۔ شبِ قدر انسان کو اللّٰہ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے مقصد کو واضح کرنے اور زندگی کو ایک اعلیٰ نصب العین کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتی ہے، اور یہی صفات ہمیں ان نوجوان صحابہؓ کی زندگیوں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ یہ مثالیں آج کے نوجوانوں کے لیے نہایت معنی خیز ہیں۔ وہ ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ عظمت کا تعلق عمر کی طوالت سے نہیں بلکہ اخلاص، عزم اور مقصد کے ساتھ وابستگی سے ہوتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے اندر یہ روح پیدا کر لیں تو وہ بھی اپنے زمانے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو ایک بامعنی اور روشن راستے پر گامزن کر سکتے ہیں۔
شبِ قدر دراصل امید کی رات ہے، تبدیلی کی رات ہے اور قربِ الٰہی کی رات ہے۔ یہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی مال و دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللّٰہ کی رضا میں ہے۔ اگر نوجوان اس رات کو صرف ایک رسم یا روایت کے طور پر نہ گزاریں بلکہ اسے خود سازی اور روحانی بیداری کا موقع بنا لیں تو یقیناً ان کی زندگی میں ایک نئی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔ اور شاید یہی شبِ قدر کا اصل پیغام ہے کہ ایک سچی دعا، ایک مخلص توبہ اور ایک پختہ ارادہ انسان کی پوری زندگی کو بدل سکتا ہے۔
’’وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُم‘‘ (النساء: 27)۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور تمہاری توبہ قبول کرے۔
رابطہ۔ 09422724040
[email protected]