جموں//قانون سا ز کونسل میں بجٹ سے متعلق عام بحث اختتام پذیر ہوئی ۔ آج بھی کئی ارکان نے بحث میں حصہ لیا۔ غلام نبی مونگا نے آج بحث کی شروعا ت کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت بجٹ توقعات کے مطابق نہیں ہے ۔انہوں نے پنچایتوں سے اختیارات لینے کا حکومت کو الزام لگایا۔ انہوںنے کہاکہ بجٹ میں زراعت ، تعمیرات عامہ اور دیگر شعبوں کے مد اطمینان بخش نہیں ہے ۔قیصر جمشید لون نے اپنے خیالا ت کا اظہا ر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی ذہانت کی تعریف کی۔انہوں نے تاہم ایک تھیورٹیکل بجٹ پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی نکتہ چینی کی۔انہوں نے ریاست کے اہم شعبوں کے لئے مزید رقومات مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ محمد مظفر پرے نے اس موقعہ پر کہا کہ ساٹھ ہزار کیجول ورکروں کی توقعات و سنجیدگی کے ساتھ پورا نہیں کیا گیا ہے ۔انہوںنے زرعی سیکٹر کو ریاستی اقتصادیات کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سیکٹر کے لئے مزید رقومات مختص کئے جانے چاہیئے۔سیف الدین بٹ نے وزیر خزانہ کی طرف سے ایک عوام دوست اور شفاف بجٹ پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کئی پبلک سیکٹر کارپوریشنوں کے کام کاج میں معقولیت لانے کے لئے نائب چیئرمین نامزد کرنے کے فیصلے کی سراہنا کی۔شوکت حسین گنائی نے بجٹ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں رواں سال کے دوران کوئی خاص چیز شامل نہیں کی گئی ہے ۔انہوںنے الزام لگایا کہ حکومت عام لوگوں کو راحت دلانے میں ناکام ہوئی ہے ۔نریش کما ر گپتا نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ چناب وادی کے دور افتادہ علاقوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے اضافی رقومات مختص کئے جانے چاہیئے۔رومیش اروڑہ ایک شفاف اور واضح بجٹ پیش کرنے کے لئے موجودہ سرکار کی تعریف کی۔ انہوں نے ریاستی ملازمین کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کی ادائیگی کا معاملہ واضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔شیام لال بھگت نے پنچایت بجٹ شامل کرنے کی ستائش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دیہی علاقوںمیں مزید بینک شاخیں کھولی جانی چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ زرعی سیکٹر کو دوام بخشنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ظفر اقبال منہاس نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے اسے عوام دوست قرار دیا اور کہاکہ بجٹ میں خساروں میں کمی کا رجحان دکھایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ زعفران اور ریشم صنعت کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے مزدور طبقے کے یومیہ اجرتوں میں اضافے کا معاملہ بھی اُجاگر کیا۔