جموں//نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدردویندرسنگھ رانانے گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ پاکستان زیرقبضہ کشمیرسے ہجرت کرکے آئے رفیوجیوں کی یک مشت بازآبادکاری سے متعلق لئے گئے فیصلے پرنظرثانی کامطالبہ کیاہے ۔واضح رہے کہ پی اوکے رفیوجیوں کے حق میں ریاستی حکومت نے 5.50لاکھ روپے فی کنبہ یک مشت بازآبادکاری کیلئے واگزارکرنے کااعلان کیاہے جبکہ سابق عمرعبداللہ حکومت نے مرکزکو25لاکھ روپے فی کنبہ بازآبادکاری پیکیج کی سفارش کی تھی۔دویندرسنگھ رانانے اپنی مانگوں کے حق میںایس اوایس انٹرنیشنل کے بینرتلے بخشی نگرمیںاحتجاج کررہے پی اوکے رفیوجیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کی مانگ کوجائزٹھہرایا۔ رانانے کہاکہ 2014 میں اُس وقت کی عمرعبداللہ کی سربراہی میں حکومت نے کابینہ میں فیصلہ لیاتھاکہ مرکزکو1947,1965 اور1971 کے پاکستانی زیرقبضہ کشمیرسے آئے رفیوجیوں کی یک مشت بازآبادکاری کیلئے 9025کروڑروپے کاپیکیج منظورکرنے کیلئے سفارشات بھیجی جائیں لیکن مرکزی حکومت نے صرف 2ہزارروپے کے پیکیج کااعلان کیااوراس کوبھی من وعن عملی جامہ نہیں پہنایاگیا۔رانانے کہاکہ نیشنل کانفرنس پی اوکے رفیوجیوں کی بازآبادکاری کیلئے وعدہ بندہے ۔انہوں نے مانگ کی کہ رفیوجیوں کے ساتھ انصاف ہوناچاہیئے اورنیشنل کانفرنس کی سفارشات کے مطابق رفیوجیوں کوبازآبادکاری پیکیج دیاجاناچاہیئے ۔اس دوران ایس اوایس انٹرنیشنل کے صدرراجیوچنی نے راناکومطالبات پرمبنی ایک یادداشت بھی پیش کی۔ رانانے کہاکہ 2014 میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے جوسفارشات مرکزکوبھیجی تھیں وہ ہی رفیوجیوں کی بازآبادکاری کے مفادمیں ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایسانہیں کیاگیا۔اس موقعہ پر ایس اوایس انٹرنیشنل کے عہدیداران، نیشنل کانفرنس کے ریاستی سیکریٹری رتن لال گپتا، شریک چیئرمین اوبی سی سیل عبدالغنی تیلی اورشریک چیئرمین ایس سی سیل وجے لوچن بھی موجودتھے۔