معلومات
محمد امین میر
جموں و کشمیر میں زمین کبھی محض ایک معاشی وسیلہ نہیں رہی، یہ ہمیشہ ایک گہرا جذباتی، سماجی اور سیاسی موضوع رہی ہے۔ ڈوگرہ دورِ حکومت سے لے کر آزادی کے بعد کے انقلابی زرعی اصلاحات تک، اور اب ڈیجیٹائزڈ جمع بندیوں اور آن لائن انتقالات کے عہد میں، زمین شناخت، وقار اور ذریعہ معاش کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔ یونین ٹیریٹری کی زرعی تاریخ میں مختلف زمینی اقسام نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں دو اقسام خاص طور پر نمایاں اور متنازعہ ہیں — ایل بی۔6 زمین اور سیکشن 432 زمین (جسے ریونیو اصطلاح میں عام طور پر S-432 زمین کہا جاتا ہے)۔اگرچہ عملی طور پر ان زمینوں کو کئی پہلوؤں سے ملکیتی تصور کیا جاتا ہے، تاہم ان پر قانونی پابندیاں عائد ہیں، خصوصاً بیع نامہ اور رہن (مارگیج) کے حوالے سے۔ یہ پابندیاں ابتدا میں کمزور کاشتکاروں کے تحفظ اور زرعی مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی تھیں، مگر موجودہ معاشی حالات میں یہ قدغنیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر نہیں آتیں۔ جموں و کشمیر میں تیز رفتار سماجی و معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ سوال سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔
ایل بی۔6 اور S-432 زمین کو سمجھنے کے لیے جموں و کشمیر کے زرعی ارتقا کو سمجھنا ضروری ہے۔ڈوگرہ دور میں وسیع رقبہ بڑے زمینداروں اور درمیانی طبقوں کی ملکیت میں تھا۔ کاشتکار اکثر’’کرایہ دار بہ مرضی مالک‘‘ (Tenant-at-Will) کی حیثیت رکھتے تھے، جنہیں نہ مستقل حقِ ملکیت حاصل تھا اور نہ ہی تحفظ۔ 1947 کے بعد حکومت جموں و کشمیر نے 1950 میں بگ لینڈڈ اسٹیٹس ابولیشن ایکٹ نافذ کیا، جس نے زرعی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ اس قانون کے تحت اراضی کی حد مقرر کی گئی اور زمین کاشتکاروں کے نام منتقل کی گئی۔یہ قانون جنوبی ایشیا کی سب سے انقلابی زرعی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے غیر حاضر زمینداری نظام کا خاتمہ کیا اور زمین ان لوگوں کو دی جو اسے عملاً کاشت کرتے تھے، تاہم تمام انتقالات سادہ نہیں تھے۔ کچھ زمینوں کے لیے انتظامی منظوری، باضابطہ انتقال اور ملکیتی حیثیت کی توثیق درکار تھی۔ اسی پیچیدہ پس منظر میں ایل بی۔6اور S-432 زمین کا تصور سامنے آیا۔ریونیو اصطلاح میں’’LB‘‘ سے مراد’’لینڈ بک‘‘ یا’’لیجر بک‘‘ ہے۔ ایل بی۔6 زمین اس مخصوص زمرے کو کہا جاتا ہے جو ریونیو ریکارڈ میں ایک خاص لیجر اندراج کے تحت درج ہوتی ہے۔ عموماً یہ وہ زمین ہوتی ہے جو پہلے سرکاری زمین تھی یا زرعی اصلاحات کے تحت ریاست میں منتقل ہوئی اور بعد میں مخصوص شرائط کے ساتھ قابضین یا کاشتکاروں کے نام کی گئی۔ ایل بی۔6 اندراجات ان صورتوں میں کیے گئے جہاں ملکیتی حقوق دیے گئے مگر کچھ پابندیوں کے ساتھ۔ ان پابندیوں میں عام طور پر شامل تھا:مخصوص مدت تک فروخت پر پابندی،رہن رکھنے پر پابندی،منتقلی کے لیے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت،زمین کی ٹکڑہ بندی یا قیاس آرائی پر مبنی خریداری کی ممانعت،ان پابندیوں کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ تحفظ فراہم کرنا تھا تاکہ نئے مالکان سودخوروں، تاجروں یا سابق زمینداروں کے ہاتھوں اپنی زمین نہ گنوا بیٹھیں۔
ایل بی۔6 زمین کو درج ذیل پہلوؤں سے ملکیتی زمین تصور کیا جاتا ہے:وراثتی حقوق،قانونی وارثین کے نام انتقال،جمابندی میں بطور’’مالک قابض‘‘ اندراج،لگان کی ادائیگی کی ذمہ داری،تاہم یہ ملکیت مکمل آزاد نہیں بلکہ قانونی شرائط کے تابع ہے۔ زمین دراصل جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ، سموَت 1996 کے سیکشن 432 کے تحت باقاعدہ کی گئی زمین کو کہا جاتا ہے۔ یہ دفعہ حکومت کو اختیار دیتی تھی کہ مخصوص سرکاری زمین پر ملکیتی حقوق عطا کرے،غیر مجاز کاشت کو باقاعدہ کرے،منتقلی یا فروخت پر شرائط عائد کرے،اس دفعہ کے تحت سرکاری زمین یا غیر مجاز قبضہ شدہ زمین کو مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد قابضین کے نام کیا جاتا تھا۔
سیکشن 432 کے تحت دی گئی ملکیت اکثر درج ذیل شرائط کے ساتھ ہوتی تھی:’’ناقابلِ انتقال‘‘،’’منتقلی مجاز اتھارٹی کی اجازت سے مشروط‘‘،’’رہن ممنوع‘‘،’’بیع نامہ ناقابلِ رجسٹریشن‘‘،یہ شرائط انتقالی حکم میں درج ہوتیں اور بعد میں جمابندی میں نوٹ کے طور پر شامل کی جاتیں۔یوں S-432 زمین بھی بظاہر ملکیتی مگر منتقلی کے اعتبار سے محدود زمین ہے۔ جب یہ زمینیں دی گئیں، تب جموں و کشمیر بنیادی طور پر زرعی معاشرہ تھا۔ غربت عام تھی، بینکاری نظام کمزور تھا اور غیر رسمی قرضہ نظام استحصالی تھا۔ اگر پابندیاں نہ ہوتیں تو نئے مالکان آسانی سے اپنی زمین کھو سکتے تھے۔ان پابندیوں کے مقاصد تھے:چھوٹے کسانوں کا تحفظ،زرعی اصلاحات کا تحفظ،سماجی انصاف کا قیام،زمین کی دوبارہ مرکزیت کو روکنا،اس وقت یہ اقدام ترقی پسندانہ سمجھا جاتا تھا۔بدلتے ہوئے معاشی حالات آج جموں و کشمیر کا معاشی منظرنامہ بدل چکاہے۔بینکاری نظام کا پھیلاؤ،شرح خواندگی میں اضافہ،شہری ترقی،زمین کی بڑھتی قیمت،کاروباری مواقع۔آج زمین صرف گزارہ کا ذریعہ نہیں بلکہ سرمایہ، ضمانت اور سرمایہ کاری کا وسیلہ ہے۔ مگر ایل بی۔6 اور S-432 زمین کے مالکان:زرعی قرض کے لیے زمین رہن نہیں رکھ سکتے،ہاؤسنگ لون حاصل نہیں کر سکتے،باقاعدہ بیع نامہ رجسٹر نہیں کروا سکتے،کاروبار کے لیے زمین بطور ضمانت استعمال نہیں کر سکتے،یہ ایک تضاد ہے — ملکیت مگر معاشی آزادی کے بغیر۔
آئین ہند کے آرٹیکل 300A کے تحت حقِ ملکیت ایک آئینی حق ہے۔ کسی بھی پابندی کو معقول اور عوامی مفاد پر مبنی ہونا چاہیے۔اگر ایل بی۔6 اور S-432 زمین کو ملکیتی تسلیم کیا جاتا ہے تو مستقل پابندیوں پر سوال اٹھتا ہے:کیا دائمی پابندی متناسب ہے؟کیا یہ بالواسطہ محرومی نہیں؟کیا یہ مساوات کے اصول کے خلاف نہیں؟ ان پابندیوں سے عملی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔عدالتی تنازعات،غیر رجسٹر شدہ لین دین،بدعنوانی کے امکانات،ڈیجیٹل جمابندیوں میں ابہام،بینکوں کی ہچکچاہٹ،یوں تحفظ کے لیے لگائی گئی قدغنیں بعض اوقات غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہیں۔پابندی ختم کرنے کے حق میں دلائل،دیہی معیشت کا فروغ،زمین کو بطور سرمایہ استعمال کیا جا سکے گا۔مالی شمولیت میں اضافہ،بینک واضح عنوان اور رہن کے قابل جائیداد چاہتے ہیں۔غیر رسمی لین دین کا خاتمہ،رجسٹرڈ بیع نامے شفافیت کو بڑھاتے ہیں۔جدید زمینی پالیسی سے ہم آہنگی،دیگر ریاستوں میں مکمل پابندیاں نہیں۔ غیر مشروط ملکیت ریکارڈ کو واضح بنائے گی،مکمل آزادی کے بجائے حفاظتی اقدامات،پابندی ہٹانے کا مطلب بے لگام آزادی نہیں۔ خاندان کو حقِ شفعہ،لازمی رجسٹریشن،دوبارہ فروخت پر مخصوص مدت،رقبے کی حد،آگاہی مہمات،اخلاقی اور سماجی دلیل: جو شخص اپنی زمین فروخت یا رہن نہیں رکھ سکتا، وہ مکمل مالک نہیں۔ اگر ریاست نے کاشتکار پر اعتماد کیا تھا تو اب اسے مکمل ملکیتی اختیار بھی دینا چاہیے۔آئندہ کا لائحہ عمل،قانون سازی میں ترمیم،واضح نوٹیفکیشن،ڈیجیٹل جمابندیوں کی اصلاح،عوامی آگاہی،کمزور کسانوں کے لیے قانونی معاونت۔جموں و کشمیر کی زرعی اصلاحات سماجی انصاف کی مثال ہیں۔ ایل بی۔6 اور S-432 زمین انہی اصلاحات کی پیداوار ہیں۔ مگر قوانین کو وقت کے ساتھ بدلنا ضروری ہے۔جو کبھی ڈھال تھی، آج شاید رکاوٹ بن چکی ہے۔ایل بی۔6 اور S-432 زمین کی فروخت اور رہن پر پابندی ختم کرنا زرعی اصلاحات سے انحراف نہیں بلکہ ان کی تکمیل ہے۔ یہ مشروط ملکیت کو مکمل ملکیت میں بدل دے گا، غیر فعال اثاثوں کو فعال سرمایہ بنائے گا اور محدود مالکان کو بااختیار شہری بنائے گا۔جمابندی کے محض اندراج سے آگے بڑھ کر، زمین کو وقار، ترقی اور جمہوری اختیار کا حقیقی ذریعہ بنانا ہی وقت کی ضرورت ہے۔