=i8u8را اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ یہ اضطراب محض ریاستی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی سطح پر ایک ’’تصوراتی بحران ‘‘کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں مذہب، سیاست اور شناخت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے ان کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔جیسا اوپر ذکر کیاگیا کہ برصغیر،یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش یہاں تک کہ جموں و کشمیربھی اس بحران کا ایک حساس مرکز بن چکے ہیں۔ یہاں کے مسلمان تاریخی طور پر مختلف مسالک، صوفی روایات اور فکری تنوع کے حامل رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ تنوع بتدریج تصادم میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ علمی کمزوری، اجتہادی شعور کا فقدان اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی سطحی اور اشتعال انگیز معلومات ہیں۔آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عام مسلمان اپنی مذہبی شناخت کو عالمی سیاسی طاقتوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے لگا ہے۔ ایک سنی فرد عرب دنیا کی سیاست کو’’اپنا‘‘مسئلہ سمجھتا ہے، جبکہ ایک شیعہ فرد ایران کی پالیسیوں کو اپنے مسلکی تشخص کا حصہ تصور کرتا ہے۔ اس طرزِ فکر نے مذہب کو ایک روحانی و اخلاقی نظام کے بجائے ایک سیاسی وفاداری میں تبدیل کر دیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تصوراتی بحران جنم لیتا ہے۔یعنی وہ کیفیت جس میں انسان اپنی بنیادی شناخت (دین) اور ثانوی وابستگیوں (ریاست، قوم، سیاست) کے درمیان فرق کھو دیتا ہے۔
اثنا عشری شیعہ مکتبِ فکر میں’’اصولی‘‘اور’’غیر اصولی‘‘تقسیم کو سمجھے بغیر موجودہ صورتِ حال کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔اصولی فکر کی بنیاد تین عناصر پر ہے، جوعقل ، اجتہاد اور مرجعیت ہیں۔اس فکر کے مطابق ہر دور میں مجتہدین کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں دینی احکام کی نئی تعبیر پیش کریں۔ یہی لچک اس فکر کو ایک زندہ اور متحرک نظام بناتی ہے۔اس کے برعکس، غیر اصولی رجحانات نصوص کی جامد تعبیر پر زور دیتے ہیں، جس میں اجتہاد کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شدت پسندی یا فکری جمود جنم لے سکتا ہے۔اس تقسیم کی تفہیم اس لیے ضروری ہے کہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ شیعہ فکر کے اندر بھی تنوع موجود ہے اور تمام شیعہ افراد یا گروہ ایک ہی طرزِ فکر کے حامل نہیں ہوتے۔ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ سیاسی فکر میں ایک نمایاں تبدیلی آئی جس نے’’انقلابی اسلام ‘‘کو فروغ دیا۔ اس کے تین بڑے رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ایک اعتدالی انقلابی فکر،جو ریاستی مفادات، سفارت کاری اور عالمی توازن کو مدنظر رکھتی ہے۔دوسری سخت گیرانقلابی فکر،جو ہر مسئلے کو مزاحمت کے تناظر میں دیکھتی ہےاور تیسری سپر انقلابی رجحان،جو جذباتی اور متشددبیانیے پر مبنی ہوتا ہے۔یہ رجحان اس وقت بڑے بڑے علماء کے نزدیک ایران میں ولایت فقیہہ کے نظام کی صورت میں موجود ہے، جبکہ عراق وغیرہ میں شعیہ مرجعیت جیسے علامہ سیستانی ایک معتدل فکر کے حامی ہیں۔اسی طرح سلفی مکتبِ فکر کو اکثر یکساں سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے اندر بھی گہرا تنوع پایا جاتا ہے۔ایک اصلاحی یا دعوتی سلفیت ہے جو فرد کی اصلاح، تعلیم اور دعوت پر زور دیتی ہے۔دوسری سیاسی سلفیت جو ریاستی نظام میں تبدیلی کی خواہاں ہوتی ہے اور تیسری جہادی سلفیت جو مسلح جدوجہد کو ایک جائز ذریعہ سمجھتی ہے۔داعش اور القاعدہ اسی جہادی سلفیت کی انتہا پسند شکلیں ہیں، لیکن یہ پورے سلفی مکتب کی نمائندگی نہیں کرتے۔اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی نے’’سیاسی اسلام ‘‘کو اگرچہ ایک منظم نظریے کی شکل دی۔ ان کا مقصد جمہوری ذرائع سے اسلامی اقدار کو ریاستی سطح پر نافذ کرنا ہے۔یہ فکر نہ تو مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اور نہ ہی شدت پسند، بلکہ یہ ایک درمیانی راستہ اختیار کرتی ہے، جس میں سیاسی عمل، سماجی اصلاح اور فکری جدوجہد شامل ہیں۔مگر دیکھا جا رہا ہے کہ ایسی فکروں سے منسلک افراد بھی کہیں نہ کہیں دوسری فکروں سے متصادم ہیں اورکئی مواقع پہ اس فکر کے لوگ بھی متشدد تصواراتی انقلاب کا حصہ بن سکتے ہیں اور ایک ملی ٹینٹ اسلام کی تعبیر پیش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح طالبان کو ایک یکساں اکائی سمجھنا درست نہیں۔ افغانستان کے طالبان ایک حد تک قومی مزاحمتی تحریک کے طور پر سامنے آئے اور پھر ایک قاہرانہ اور جابرانہ حکومتی پالیسی کا حصہ بن گئے ہیں، جبکہ پڑوسی ریاست کے طالبان نے ریاست ہی کے خلاف مسلح جدوجہد اختیار کی ہے۔یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک ہی نام کے تحت بھی مختلف فکری اور عملی رجحانات موجود ہو سکتے ہیں۔
عرب دنیا میں مذہبی بیانیہ اکثر ریاستی پالیسیوں کے تابع ہوتا ہے، جبکہ ہمارے بر صغیر میں مذہب ایک زیادہ آزاد اور متنوع شکل میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں ردعمل زیادہ جذباتی اور غیر منظم ہوتا ہے۔اس رجحان کو بھی سیاسی اسلام بمقابلہ غیر سیاسی اسلام سمجھنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ تقسیم بھی موجودہ بحران کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔سیاسی اسلام دین کو ریاستی نظام کے طور پر دیکھتا ہے۔جبکہ غیر سیاسی اسلام دین کو فرد کی اصلاح اور روحانیت تک محدود رکھتا ہے۔ ان دونوں نقطہ نظر کے درمیان توازن قائم نہ ہونے کی صورت میں معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔چونکہ یہ ایک بہت بڑا موضوع ہے اور یہاں اس کی تعبیر و تفسیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوشل میڈیا نے اس فرقہ وارانہ بحران کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ غیر مستند معلومات، جذباتی ویڈیوز اور نفرت انگیز بیانات چند لمحوں میں لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ تحقیق کے بجائے ردعمل پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے اس وقت بری طرح محسوس ہو رہا ہے کہ سنی اور شیعہ تقسیم اب صرف ایک فقہی اختلاف نہیں رہی بلکہ ایک سماجی اور سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ لوگ اپنے مسلک کو اپنی مکمل شناخت بنا لیتے ہیں اور دوسرے مسالک کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہےاور سب سے بڑا خطرہ یہ بن رہا ہے کہ کثیر المذاہب اور کثیر المکاتب فکر یا کثیر الفرقہ ممالک ، جیسے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ میں جو کروڑوں لوگ رہ رہے ہیں ، وہ دوسرے ممالک سے مذہب، مسلک، یا فرقوں کی بنیاد پر اپنے آبائی وطن سےزیادہ محبت کرنے لگتے ہیں یا ایسے اقدامات کرنے لگتے ہیں جو یا تو ان ممالک کے قوانین سے متصادم ہیں یا ان ممالک میں کسی بھی فرقے یا مذہب یا لوگوں کی طرف سے کی گئی کاروائیوں کے نتیجے میں انتہائی ملک مخالف ہیں۔ اس سے بڑے ہی بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔چونکہ یہ ایک انتہائی نازک مگر اہم موضوع ہے ، اس طور یہ ضروری بنتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ عالمی اور مقامی امن کی بحالی کے لئے کسی بھی فرقہ وارانہ تقسیم یا مسلکی اختلاف میں نہ پڑتے ہوئے ہوش و حواس سے کام لیں اور جو شخص بھی جس ملک میں رہ رہا ہے، اُس ملک کے قوانین کی مکمل پاسداری کرے ۔ اس بحران کا حل سیاسی اقدامات میں نہیں (کم از کم اس وقت) بلکہ فکری اور تعلیمی اصلاح میں مضمر ہے۔ بہت ذیادہ ضروری ہے کہ اجتہادی شعور کی بحالی کی جائے اور لوگوں کو سکھایا جائے کہ وہ مذہبی مسائل کو تنقیدی اور معقول انداز میں سمجھیں۔ مکالمے کو فروغ دیں۔مختلف مسالک کے درمیان علمی اور باوقار مکالمہ ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر مواد ڈالنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ مستند معلومات کو فروغ دیا جائے اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسی طرح مذہب اور سیاست کی تفریق کو ایک بڑے کینوس پر اُتارکر سمجھا جائے اور مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے ممکنہ حد تک دور رکھا جائے تاکہ جس بھی ملک میں لوگ رہ رہیں ہوں، اُس ملک کے نظام، اُس ملک کے قوانین اور سیاسی طرز عمل کو سمجھیں تاکہ ایک ٹکرائو کی صورت پیدا نہ ہو۔ اگر ہم نے اس تصوراتی بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو یہ محض ایک وقتی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے فکری اور سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کرے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال خطرناک ہے۔امن، رواداری اور باہمی احترام ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک صحت مند معاشرہ قائم ہو سکتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فرقہ واریت کے اندھیروں سے نکال کر ایک روشن اور متوازن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کے جنون سے پیدا ہونے والی نسلیں ناپاک نسلیں ہونگی ا ور کسی بھی انسانی ڈسکورس کے لئے ایک خطرہ ہونگی۔ ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کسی گناہ سے کم نہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہزاروں کلو میٹر دور کسی گھر سے نمودار ہونے والے شعلوں کو اپنے گھر تک لانے سے اپنے ہی نسلیں بھسم ہوسکتی ہیں۔ پھر چاہے وہ شعلے برآمد کرنے والے سُنی ہوں یا شیعہ یا دونوں۔
�����������������