جمال الدین قادری
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےاہل قرابت اور اہل بیت اطہار سے محبت و مؤدت اور عقیدت و احترام سعادت مندی اور خوش نصیبی کی پہچان ہے،تمام امت مسلمہ پر ان پاکیزہ حضرات کی محبت و تعظیم ضروری ہے اور ان سے بغض و عداوت، نفرت و عناد ، بد نصیبی ، دنیا و آخرت میں خسارہ کا سبب اور اللہ کے غضب و قہر کے نازل ہونے کا باعث ہے۔ رسول پاکؐ نے ہمیں ایمان جیسی دولت سرمدی، خدا وند ِقدوس کی معرفت اور دوسری تمام نعمتوں کو پانے کی راہیں بتائی ہیں،آپ ؐاپنے اہل ِبیت سے بے حد محبت فرماتے اور بارگاہ الٰہی میں یوں عرض کرتے ،’’مولیٰ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی انہیں اپنا محبوب بنا اور ان سے بھی محبت فرما۔‘‘
حضرت زید بن عکرمہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ میں تم میں دو چیز چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہوگے تو میرے بعد ہر گز گمراہ نہ ہو گے ،ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ عظمت والی ہے ،پہلی کتاب اللہ،اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی گئی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت و میری عترت ہیں اور یہ دونوں ہر گز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے، تم غور کرو میرے بعد تم کس طرح ان میں میری نیابت کرتےہو ‘‘۔(ترمذی ج/۲ ص/۲۲۰ )۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اس کی نعمتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ،مجھ سے محبت کرو اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری وجہ سے‘‘۔(ترمذی ج/۲ ص/ ۲۲۰ ،در منثور ج/۵ص/ ۷۰۲)۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’ میری شفاعت میرے امتیوں کے لئے جو میرے اہل بیت سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔(تاریخ بغداد ج/۲ ص/ ۱۴۶)۔ حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی اولاد کو تین چیزوں پر ادب سکھاؤ (۱) نبی کی محبت (۲) اہل ِبیت سے محبت (۳) تلاوت ِقرآن پر ۔کیونکہ حافظ قرآن اللہ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے سایۂ رحمت کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا‘‘۔(کنز العمال ج/۱۶ ص /۴۵۶ ،کشف الخفا ء، ج/۱ ص/ ۷۴) ۔حضرت علی ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’سب سے پہلے جو میرے پاس حوض کوثر پر آئے گا، وہ میرے اہل بیت ہیں‘‘۔ (کنز العمال ج/۱۲ ص /۱۰۰)۔
حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے حضرت علی ،فاطمہ اور حسنین کریمین کے متعلق فرمایا : ’’جو اِن سے جنگ کرے گا، میں اُن سے جنگ کروں گا اور جو ان سے صلح کرے گا، میں اُس سے صلح رکھوں گا‘‘۔(ترمذی ،مستدرک ج/۳ ص/۱۴۹)۔ امام احمد نے روایت کیا کہ حضور اقد سؐ نے حضرت امام حسن ؓو حسینؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’جو شخص مجھ سے ،اِن دونوں سےاور اِن کے والدین سے محبت رکھے گا، وہ قیامت کے دن (جنت میں )میرے درجے میں ہوگا‘‘۔(صواعق محرقہ، ص /۲۳۵ ،کنز العمال ج/۱۳ ص/۲۷۵)۔
(نوٹ :اس حدیث میں بیان ہوا کہ محبان اہل بیت سرکار ؐکے ساتھ جنت میں آپ کے درجے میں ہوں گے تو اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں آپؐ جس درجہ اور منزل میں تشریف فرماہوں گے، محبان اہل بیت کا درجہ آپ کے درجے کے قریب ہوگا۔ )
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ؐ نے حضرت علی ،حضرت فاطمہ اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے، اے اللہ! یہ میری اہل ہیں‘‘‘۔ (ایضا ً،ص /۱۸۷)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت میں ایک درجہ جسے وسیلہ کہا جاتا ہے ،جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو میرے لیے وسیلہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا :یا رسول اللہؐ!آپ کے ساتھ اس درجے میں کون رہے گا ؟ آپؐ نے فرمایا :علیؓ ،فاطمہؓ اور حسنؓ و حسینؓ۔ (کنز العمال ،ج/۱۳ ص/۲۷۵)۔
بارگاہ مولیٰ تعالیٰ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سبھی مسلمانوں کو حضور نبی کریم ؐ اور آپؐ کے اہلِ بیت ِاطہار سے محبت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔ آمین
[email protected]>