شیخ ولی محمد
گزشتہ دنوں کشمیر کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم دسویں جماعت کے طالب علم اور مشہور فٹبال کھلاڑی کے حوالے سے دل خراش واقعہ پیش آیا ۔اطلاعات کے مطابق اس ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی نے ذہنی دباؤ کے نتیجے میں اپنی جان گنوائی ۔ اس طرح کے واقعات کا پیش آ نا اب معمول بن چکا ہے ۔کشمیر میں اس قسم کے دل دہلانے والے واقعات کے وجوہات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح طور پر عیاں ہو جاتی ہے کہ امتحانات میں بچوں کے کم نمبرات لانااورکسی دوسرے بچے سے پیچھے رہ جانا ،مسابقتی امتحان جیسے NEET,JEE,JKAS,IASوغیرہ میں نا کام ہو نا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے ۔ والدین اپنے بچوں کا دوسروں کے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں ۔ان کے اخلاق سے لے کر ان کے امتحانات تک ہر ایک چیز اور پہلو کا آ پسی مقابلہ کیاجاتا ہے ۔اپنے بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں کا بچہ دیکھو کتنا اچھا ہے ؟ کتنے اچھے نمبر حاصل کئے! اس نے اپنے خاندان کا نام روشن کیا جبکہ آ پ نے مجھے شرمندہ کیا ۔اس قسم کی کمزوریوں پر ڈانٹنے سے بچے کے اندر بہت سے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ذہنی دباؤ ،پریشانی،ڈپریشن کی وجہ سے بچے کے ذہن میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔وہ لوگوں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے ۔وہ ہر لمحہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نالائق ہوں۔وہ خود کو دوسروں سے کم ترسمجھتا ہے ۔اس کے اندر آ گے بڑھنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہےبچہ اپنی ذاتی میں گم رہتا ہے ۔اپنی پریشانی اور مسائل کسی سے شیر نہیں کرتا ۔ یہ سب مسائل بچے کو مایوسی کی ایسی اندھی کھائی میں پھینکتے ہیں کہ بالآخر وہ اپنی جان لینے کا فیصلہ کرلیتا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر ایک بچہ منفرد صلاحیت رکھتا ہے ۔رب العالمین نے مختلف افراد کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔کسی میں سائنس کی طرف دلچسپی ہےتو کسی میں آ رٹس کا رجحان پایا جاتا ہے ۔کوئی کھیل کود میں آ گے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو کسی کو انجینئرنگ شعبے کی طرف دلچسپی ہے۔کسی بچے کو تقریر میں مہارت ہےتو دوسرا تحریری مہارت رکھتاہے ۔کسی بچے کو فطری طور پر شعرو شاعری کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے تو دیگر بچوں کو مضمون نویسی پر دسترس ہوتی ہے ۔الغرض اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی صلاحیت عطا کی ہے ۔
اب اساتذہ کرام اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی دلچسپی اور جھکاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اپنے من پسند فیلڈ کیطرف رہنمائی کریں ۔بچے کی صلاحیتوں کو امتحان میں لئے گئے نمبرات سے نہ ناپے۔NEET کے علاؤہ یہاں دوسرے فیلڈ بھی ہیں جن میں آ پ کا بچہ نام کما سکتا ہے ۔ڈاکٹری شعبے کے بغیر بھی بچے دوسرے سٹریمز میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔یاد رکھیے کہ تعلیم حاصل کرنا اہم ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی سے رزق حاصل ہو۔والدین کو سمجھنا چاہیے کہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔وہ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں کو رزق عطا کرتا ہے ۔تعلیم کا مقصد سمجھداری حاصل کرنا اور صحیح اور غلط کی پہچان کرنا ہے ۔
یہ حقیقت ریسرچ سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ دباؤ کے بجائے اگر بچے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اس کی کارکردگی میں اضافہ پوتا ہے ۔میڈیکل سائنس کے مطابق جب شیر خوار بچہ ابتدائی مرحلے پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتاہے تو اس کی معصوم جان میں اس وقت بھرپور طاقت آ جاتی ہے جب والدین اس کو شاباشی کے دو بول بوکراس کی ہمت بڑھاتے ہیں ۔BBC کی ایک رپورٹ کے مطابق Cambridge University نے انگلینڈ کے 600 تعلیمی اداروں کے 4300 طلباء پر ایک تحقیق کی۔سوالنامہ کے ذریعے طلباء سے پوچھا گیا کہ اساتذہ کی طرف سے کی گئی حوصلہ افزائی اور شاباشی ان کے تعلیمی کیرئر پر کیسے کیسے اثر انداز ہوئی۔7 سال پر محیط اس تحقیقی اسٹیڈی کے اعداد و شمار کا جب تجزیہ کیا گیا تو یہ نتائج سامنے آ گئے کہ جن طلباء کو اساتذہ کی طرف سے حوصلہ افزائی اور شاباشی دی گئی تھی ان میں سے 74 فیصد طلباء نے 16 سال کی عمر کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھی ۔جبکہ اُن طلباء جن کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی تھی، ان میں سے فقط 66 فیصد ہی نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔تعلیم و تربیت کے دوران والدین کی طرف سے بچے کو حوصلہ اور ہمت دینا اس کی کا یا ہی پلٹ دیتی ہے ۔تھامس الوا ایڈیسن Thomas Elva Edison مشہور سائنس دان گزرا ہے جس نے اولین برقی واٹ شمار کرنے والی مشین 21 سال کی عمر میں ایجاد کی ۔یہ عظیم سائنسدان جب ابتدائی تعلیم کے زمانے میں ایک دن سکول سے واپس آ یا،ایک بند لفافہ اپنی ماں کے ہاتھ میں دیا اور بتایا کہ استاد نے لفافہ آ پکو کو دینے کے لیے کہا۔ماں نے جب لفافہ کھولا اور اس کو دیکھنے لگی تو اس کی آ نکھوں سے آ نسوں رواں ہوگئے ۔پھر اس نے خود کو سنبھالا اور بلند آواز سے اپنے بیٹے کو پڑھ کر سنایا:’’تمہارا بیٹا ایکس جیننیس X Geneous ہے،یہ سکول اس کے لیے بہت چھوٹا ہے ،یہاں اتنے اچھے استاد نہیں ہیں کہ اسے پڑھا سکیں۔اس لئے آ پ اسے خود ہی پڑھائیں ۔‘‘ برسوں بعد جب تھامس ایڈیسن ایک سائنسدان کے طور پر مشہور ہوچکا تھا اور اس کی والدہ وفات پاچکی تھی۔وہ اپنے خاندان کے پرانے کاغذات میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا،اس کو وہی لفافہ ملاجو اس کے استاد نے دیا تھا ۔وہ کھول کر پڑھنے لگا ۔اس میں لکھا:’’ آ پ کا بیٹا انتہائی غبی Dullاور ذہنی طور ناکارہ ہے۔ہم اسے سکول میں مزید نہیں رکھ سکتے ۔‘‘پہلی بار اس خط کو پڑھ کر ماں کی آ نکھوں میں آنسوں اُمنڈ پڑے تھے ۔آج اسی خط کو پڑھ کر بیٹے کی آ نکھوں سے آ نسوں کی بارش ہو رہی تھی۔اُسی دن تھامس ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا ۔’’ تھامس ایڈیسن ایک ذہنی ناکارہ بچہ تھا،پر ایک ماں نے اسے صدی کا بڑا سائنسدان بنا دیا ۔‘‘
بچے کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے ،اس میں اتنا ہی کچھ نیا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے ۔اگر والدین اس پہلو کو اہمیت نہ دیں تو بچہ بس کتابی کیڑا بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے ۔والدین کو چا ہیے کہ وہ اپنی محبت اور حفاظت کو سمجھیں اور بچوں کو خودمختاری دیں تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کریں تاکہ وہ ان کے جذبات کو سمجھ سکیں ۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں ،ان کی باتیں سنیں اور ان کے جذبات اور احساسات کا احترام کریں ۔تعلیمی فیلڈ میں ان کی پسند کا خیال رکھیں ۔جبر کا نظام ان کا بچپن چھین ہی لیتا ہے اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتاہے ۔ان میں سیکھنے کی چاہ ختم ہو کر رہ جاتی ہے ۔جبکہ ان کے دل میں خوف اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔تعلیمی عمل کے دوران والدین اور اساتذہ کے شاباشی کے دو بول بچے کے تعلیمی سفر کو مثبت رخ دے سکتے ہیں ۔بچے کے کندھے پر خالی ہاتھ رکھنا ہی اس کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے اور معمولی کام کرنے کے عوض انعام اور ایوارڈ ملنے پر بچہ بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دینے کے لیے تیار ہو سکتا ہے ۔اگر بچہ کبھی امتحان میں کم نمبرات بھی حاصل کرے تو بھی بچے کو ڈانٹنے سے پرہیز کیا جائے ۔یہاں تک کہ بچہ اگر ناکام بھی ہوسکے تو اس صورت میں بھی اسکی حوصلہ شکنی نہ کی جائے ۔بقول سابق صدر ہند ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام ’’ FAIL کے معنی ہیں First Attempt In Learning‘‘یعنی ناکامیوں سے ہی سیکھا جاتا ہے ۔والدین اور اساتذہ کرام کی خدمت میں یہی مؤدبانہ اور مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ہر مرحلے پر بچے کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔