راقف مخدومی
ہر انسان گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف کر دیتا ہے سوائے شرک کے۔ شرک وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا جب تک اس کے لئے توبہ نہ کی جائے۔ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر افسوس کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے گناہوں کو علانیہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے گناہوں پر فخر کرتے ہیں اور انہیں ایسے بیان کرتے ہیں جیسے کوئی کارنامہ ہو۔ صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے، جس میں علانیہ گناہ کرنے والوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے سنا،’’میری اُمّت کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے سوائے مُجاہرین (علانیہ گناہ کرنے والوں یا اپنے گناہوں کو لوگوں کو بتانے والوں) کے۔ ایسا شخص جو رات کو گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُسے لوگوں سے چھپا دیتا ہے، پھر صبح ہوتے ہی کہتا ہے، ‘اے فلاں! کل رات میں نے فلاں بُرا کام کیا، حالانکہ اللہ نے اسے رات بھر چھپا رکھا تھااور صبح وہ خود اللہ کی پردہ پوشی کو ہٹا دیتا ہے۔‘‘ گناہوں پر فخر کرنے والے نہیں جانتے کہ وہ خود کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔
کیونکہ جن لوگوں کو وہ اپنے گناہ بتاتے ہیں، وہی قیامت کے دن اُن کے گناہ کے گواہ بن جائیں گے۔اسلامی روایات میں علانیہ گناہ (مجاہرہ) کو شدید سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بدکاری کو پھیلاتا ہے،بُرائی کو معمول بنا دیتا ہے اور اللہ کے سامنے شرم کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چھپے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے، لیکن جو لوگ اپنے گناہوں کو فخر سے بیان کرتے ہیں یا چھپے گناہوں کو ظاہر کرتے ہیں، وہ فوری معافی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے گناہ کو علانیہ کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے لگایا گیا پردہ ہٹ جاتا ہے اور جب ایسا شخص توبہ کر کے ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو لوگ اُسے، اُسی گناہ کی یاد دلا کر تنگ کرتے ہیں ۔ اس لیے بہتر ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے کئے گئے گناہوں کو چھپا کر رکھا جائے۔جبکہ نجی گناہوں کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا بھی اِسے مزید سنگین بنا دیتا ہے۔لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ قرآن بھرپور طریقے سے گناہ سے روکتا ہے۔ تمام گناہوں کی سزائیں ہیں تاہم اللہ تعالیٰ توبہ کرنے پر گناہ معاف کر دیتا ہے۔ جب کوئی گناہ پر فخر کرتا ہے تو سب سنتے اور ہنستے ہیں۔ جب وہ توبہ کر کے سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اوراُس کے بیان کردہ گناہ یاد دلاتے ہیں۔ہم سب گناہگار ہیں، ہم دوسروں کو اُن گناہوں پر جج کرتے ہیں لیکن خود کو نہیں کرتے۔ ہم اپنے گناہوں کو جائز ٹھہراتے ہیں اور دوسروں کو اُن کے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہم دوسروں کو وہی نصیحت کرتے ہیں جو خود نہیں کرتے اور اسلام اسے ’’منافقت‘‘ کہتا ہے۔قرآن اس مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے، فرماتا ہے کہ ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم خود نہیں کرتے۔‘‘ (سورۃ الصف۔ 61:2-3) میں ایسے لوگوں سے سوال کیا گیا ہے جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں اور سورۃ البقرہ (2:44) میں پوچھا گیا ہے کہ کیا تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو؟نبی کریمؐ کے ارشادات اور اعمال کے مطابق، جو لوگ دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے، اُن کے لیے شدید سزا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جہنم میں ایک شخص کو سزا دی جائے گی اور وہ کہے گا،’’میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اوربُرائی سے روکتا تھا لیکن خود کرتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری 3094
، صحیح مسلم)
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہم انسان ہیں اور گناہ کر سکتے ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ تم گناہ نہیں کرو گے بلکہ یہ کہتا ہے کہ گناہ کرنے پر سزا ہو گی۔ یہ تمہیں روکتا ہے اس سے جو تم کر سکتے ہو۔ پھر توبہ کرنے پر معافی کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن صورتحال اس وقت خراب ہو جاتی ہے جب تم گناہ پر فخر کرو اور لوگوں کو بتاتے پھرو۔ جب گناہ اللہ اور تمہارے درمیان رہے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ لیکن جب تیسرے شخص کا دخل ہو جائے تو پوری صورتحال بدل جاتی ہے۔ ہم سب گناہگار ہیں لیکن ہمیں خود کو بہتر بنانے اور معافی مانگنے پر توجہ دینی چاہیے۔
[email protected]