بیسویں صدی کے عظیم قائدو رہنما اور سب سے بڑھ کر بانی انقلابِ ایران ل محرک اول مرحوم و مغفور حضرت آیت اللہ سید روح اللہ خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلاب ایرا ن فروری۱۹۷۹ء کو سر زمین ایران میں رونما ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔آپؒ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشایت کے نام سے مطلق العنان حکومت قائم تھی ۔ اس آمرانہ، ظالمانہ،جابرانہ اور وغیر جمہوری حکومت کا خاتمہ امام خمینیؒ کی والہانہ سر براہی اور روحانی قیادت میں۱۹۷۹ء میں تکمیل کو پہنچا۔اپنی مثالی انقلاب آفرین قیادت اور تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں موصوف اپنی ایک خود نوشتہ کتاب میں مرحوم امام خمینیؒ رقم طراز ہیں:’’ ہم تمام اسلامی ملکوں کو اپنا سمجھتے ہیں، تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ملکوں میں ایسا ہی انقلاب اسلامی بر پا ہو جائے اور قرآن و سنت رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق حکومتیں قائم ہو جائیں۔ہمارے انقلاب صادر کرنے کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ تمام قومیں بالخصوص اُمت مسلمہ بیدار ہوجائیں اور خود کو مشکلات اور غلامی سے نجات دلائیں۔ امام خمینیؒ آگے رقم طراز ہیں
’’ مادی نظریات کے حامیوں نے جو حساب کتاب کر رکھا تھا، اس کی بناء پر ممکن ہی نہیں کہ ایک اتنی بڑی طاقت جس کی پشت پنا ہی تمام طاغوتی طاقتیں کر رہی تھیں‘‘ مگر یہ سب بفضل تعالیٰ ہوکر رہا۔ آج بھی یہ طاغوتی اور صہیونی طاقتیں امریکہ، اسرائیل بشمول بعض اسلام دشمن حکومتیں اس تاریخ ساز انقلاب ایران کو درہم برہم کر نے کی نا پاک گہری سازشیں کر رہی ہیں، ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔بقول امام خمینیؒ اگر تم لوگ صحیح و نیک نشان ہوتے اور خدا کے حکم پر قیام کر تے تو دیکھتے کہ امور و معاملات کا عمل دخل تم سے متعلق ہو جاتا ،اگر وہ حکومت و جود میں آتی جو اسلام چاہتا ہے تو دنیا کی موجودہ حکومتیں اس کے آگے ٹک نہیں سکتی اور یہ کسی کے سامنے نہیں جھکتی۔ اسلامی دنیا سے وابستہ ممالک کو ایک ہو کر نیک نیتی سے طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ جب فروری ۱۹۷۹ ء میں انقلاب ایران کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا تو امام خمینیؒ نے اپنی اولین فرصت میں عوام سے رجوع کر کے ایران میں ریفرنڈم کر وایا کہ ملک ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام ہو۔۹۸؍ فیصد رائے یا ووٹ اسلامی جمہوری نظام حکومت قائم کر نے کے حق میں آئے۔ اس طرح مملکت ایران ملوکیت و بادشاہت کے چنگل سے نکل کر جمہوری اسلامی ایران قرار پایا۔ اس کے فوراًبعد صدارتی اور پارلیمنٹ ( مجلس) کے انتخابات شیڈول کے مطابق عمل میں لائے گئے۔ واضح رہے کہ ۱۹۷۹ء کی تاریخ ساز انقلاب ایران کے فوراً بعد ستمبر۱۹۷۱ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایماء پر عراق کی جانب سے جمہوریہ ایران پر جنگ مسلط کر دی گئی جو پورے آٹھ سال تک اپنی خون آشامیوں سمیت جاری رہی۔افسوس صدافسوس اس بات پر ہے کہ اس آٹھ سالہ تبا ہ کن اور خون ریز جنگ میں دونوں مسلم ممالک ایران و عراق میں لاکھوں افراد جان بحق ہو گئے اور اربوں کھربوں ڈالروں کا نقصان ہوا۔ اس ضیاع ِ اُمت پر جتنا رویا جائے کم ہوگا۔
بانی انقلاب ایران امام خمینیؒ عالمی صہیونیت اور طاغوتی قوتوں کے خلاف مسلم اتحاد وا اتفاق اور یکجہتی پر ہمیشہ زور اور اس جانب آنے کی دعوت دہتے رہے۔ آج بھی ایران دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو ڈنکے کی چوٹ پو عالمی صہیونیت یعنی اسرائیل کی فلسطین کے تئیں جارحیت کے خلاف اپنی دینی حمیت و غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلو مینِ جہاں اور مستضعفین کے حق میں ضمیر کی آواز بلند کرتا ہے۔ مملکت ایران کا اصولی موقف ہے کہ کلمہ توحید کا برملا اور پورے یقین و اعتماد کے ساتھ اظہار کرنا اور رسول اللہ ؐکے بتائے ہوئے راستہ پر پوری طرح مخلصانہ عمل کرنا، اتحاد اُمت کی شاہراہ پراستقامت اور خلوص کے ساتھ گامزن ہونا،عقل سلیم، حلم و علم،پامردی وبردباری سے دشمنانِ اسلام کا بھر پور مقابلہ کرنا اور ان کے خلاف سیسہ پلاییء ہوئی دیوار کی طرح صف آراء ہونا، یہ سب ملت اسلامیہ کے واسطے وقت کی اہم ضرورتیں ہیں ۔ مجھ نا چیز کے خیال میں سب سے بڑھ کرآج بانی ٔانقلابِ ایران امام اخمینیؒ کے ۲۷؍ویں برسی کے موقع پراس عظیم شخصیت کے تئیں عقیدت کا خراج یہی ہوگا اگر مذکورہ بالا اہدا ف کو حاصل کیا جائے۔امام خمینیؒ نے جو بیش بہااورگرانقدر سرمایہ فکر اسلامی کی صورت میں ہمارے لئے چھوڑا ہے ،اللہ کرے ہم سب اس پر نیک نیتی اور صدق دلی سے عمل کریں۔دنیا ایک دن ضرور دیکھے گی جب عالم انسانیت کے دشمن اور دشمنانِ اسلام چھو ٹے بڑے شیطانوں کے تمام نا پاک عزائم ، ناجائز و بزدلانہ منصوبے ، جار حانہ سازشیںخداوندعالم کی بیش بہا عنایات وایمان کے زور پر ناکام اور نامراد ہو جائیں گی ۔ ایک دن ضرور آئے گا جب اسلام کا پرچم سارے دنیا میں نور خداوندی بن کر لہرائے گا بشرطیکہ ہم صحیح معنوں میں وحدت اسلامی،اخوت اسلامی اوریکجہتی ویکسوئی کے اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق استقامت کے ساتھ عمل کریں۔واقعی اس وقت جو عوارض و امراض امت مسلمہ کو دنیا بھر میں لاحق ہیں ان کیلئے موثر دوا صرف وحدت بین المسلمین میں مضمر ہے۔ آج مسلمانوں کی ذلت وپستی کی بڑی وجہ قرآن اور اسلامی تعلیمات سے ہماری دوری ہے، ہم آج مغربی تہذیب وتمدن کے گرویدہ ہو گئے ہیں ،بڑے دُکھ اور افسوس کے ساتھ لکھناپڑتا ہے کہ ہماری نوخیز نسل دینی احکامات اور اسلامی اقدار سے نا واقف رہ کر مغربیت کے رنگ میں بآسانی رنگ جاتی ہے۔اس بارے میں ہمیں باطل کی تمام حدبندیوں اور تقسیموںسے بالاتر ہوکر کار گراصلاحی اقدمات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نیزآج بھی اگر مسلمانانِ جہاں بہ صمیم قلب خدا ند تعالیٰ کے اساسی حکم’’ پکڑو اللہ کی رسی سب مل کر اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ پر صدق دلی اور نیک نیتی سے عمل کریں گے تو ہماری تمام سیاسی،اجتماعی،سماجی،اقتصادی و معاشی مشکلات کا ایک ایک کر کے ازالہ ہوگا، پھر دنیا کی کوئی طاقت اُمت ِواحدہ مقابلہ نہیں کر پائے گی۔
آخر پر رسول اکرمﷺ کے اس حدیث مبارک و دعا کے ساتھ ان چند معروضات کا اختتام کررہا ہوں۔حدیث مبارک کا اردوترجمہ پیش خدمت ہے :’’تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مومن کے دل میں اخلاص کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا ہے یعنی محال ہے کہ یہ مومن ان تین چیزوں کے بارے میں خیانت کا مرتکب ہو۔ان میں ایک چیز اللہ رب العزت کے عمل میں اخلاص ہے،مومن اپنے عمل میں رہا نہیں کرتا ، دوسری چیز مسلمانوں کے حقیقی رہنمائوں کے لئے مومن خیر خواہی رکھتا ہو ، مسلمانوں کی بھلائی کے امور میں خیر خواہی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد وا اتفاق کی موجودگی ہے یعنی ہم نفاق کے مرتکب نہ ہوں ، مسلمانوں کی صفوں میں شگاف نہ ڈالیں، مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ اندازی نہ کریں۔ ان چیزوں سے مزین ہو کر ہم دنیا وآخرت کی سرخ روئی پاسکتے ہیں ۔آخر پر اللہ تبارک و تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ خوب پور ا ہو جائے اور امت مسلمہ کو عقل سلیم، حلم و علم اور بردباری سے اللہ جل شانہ سر فراز کرے۔ علامہ اقبالؒ کا خوب یہ تھا ؎
تہران گر ہو عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
امام خمینیؒ کی چالیسوی برسی پر ہم ایران کے سب سے بڑے روحانی پیشوا ء اور رہنما آیت اللہ عظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ ای مدظلہ اعلیٰ ، اُمت اسلامیہ اور ملتِ غیور ایران کو دل کی گہرائیوں سے تسلیت و تہنیت پیش کر تے ہیں۔
فون نمبر:9906574725