محمد مکرم
تاریخ عالم میں بیسویں صدی اہمیت کی حامل ہے، جس کے وسط میں دنیا کے نقشے پر بڑ ی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔برطانوی سامراج کے زوال اور ہندوستان سے اُس کے اخراج میں عالمی حالات کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تحریکِ آزادی کا بنیادی کردار ہے،اور پھر یہی تحریک ۱۴ اور ۱۵ ؍اگست کے درمیانی شب ایک ایسی نوید لیکر آئی کہ ۱۵ ؍اگست کا سور ج آزادی کے ساتھ طلوع ہوا، لیکن کیا ہندوستان واقعی 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا،یا یہ آزادی دل کو بہلانے کا کوئی خیال ہے جس نے گزشتہ ۷ دہائیوں سے ہمیں جھوٹی ریت کے مکان کا مکین بنایا ہوا ہے۔
ہر سال ۱۵ اگست کو ہندوستان کے الگ الگ شعبوں اور گلیوں میں بڑے ہی دھوم دھام سے جشن آزادی ہند منایا جاتا ہے، کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ جس خوشی میں ہم مدہوش ہیں، وہ اصل میں ہندوستانیوں کو حاصل ہوئی ہے؟، کیا یہ وہی ہندوستان ہے جس کو ہمارے مختلف مذہب اور ریت و رواج کے لوگوں نے انگریزوں جیسے لٹیروں سے آزاد کروایا گیا؟۔اگر ہے تو پھر کیسی آزادی ہے جہاںاپنے عوام کو اپنا ہی عوام منافرانہ نظام کے بوجھ سے دبانے میں مصروف ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے جس میں حکومت اپنا خزانہ بھرنے کے لیے عام آدمی کا گلا بھی کاٹ رہی ہے، جس سے عام آدمی کا روٹی سے کفن تک مہنگا ہوگیا ہے۔ یہ کیسی آزادی جس میں غربت، فاقہ کشی، بے روزگاری، اقلیتوں کو دیش دروہی کا خطاب دیا جاتا ہے، گائے کے نام پر انسانیت کا قتل ہوتا ہے،پُرتشدد بھیڑ کے ذریعہ لہو ٹپکتا ہے، آکسیجن کے بغیر بچےمرتےہیں، ظالم سیاسی کرسی پر براجماں ہوتے ہیں۔کیا واقعی کسی آزاد ملک میں ایسا ہونا ممکن ہے؟
ہمیں ایسا آزاد ملک چاہیے، جہاں ہم اپنے مذہب و ریتی رواج کے مطابق زندگی گزار سکیں، جہاں ہر طبقہ کے لوگ خوش حال زندگی بسرکر سکیں، جہاں ہر کوئی طبقہ اپنےاپنےدینی عقاید کے تحت عبادت کرسکیںاور اپنی معاشی،معاشرتی ، سیاسی اور تعلیمی معاملات نپٹا سکیںاور امن و سلامتی کے ساتھ اپنے حقوق اور عزت و آبرو کی حفاظت کرسکیں۔ہم جانتے ہیں کہ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کتنی بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ آزادی کی سخت جد و جہد کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمت ِعظمیٰ حاصل ہوئی ،لیکن کڑواسچ یہی ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں آزادی کا منتظر ہے۔آج کل تو ایسے حالات ہو گئے ہیں کہ انسان محفوظ نہیں ہے، انسان کی جان سے زیادہ اہمیت جانور کی ہوگئی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی آزاد ہند کا خواب پورا ہوا ہے؟ آزاد ہندوستان کا خواب اُسی وقت پورا ہوگا جب پورا ہندوستان ترقی کرے گا،جب ملک کو اس کے اصلی طرز و قوانین کے مطابق چلایا جائے گا ، جب سب کو اپنے اپنے حقوق ادا کئے جائیں گے۔ اورحقوق ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ملک کے قوانین و ضوابط، بغیر کسی تفریق و ،رنگ و نسل ،ذات پات، بٹوارے،یکسان ہوں۔بظاہر تو اب آزادی کے سفر سے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے نصب العین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن منزل کے حصول میں اِسے غربت، بے روزگاری اور ایسے ہی کئی اہم مسائل سے آزادی حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔مذہب کے نام پر منافرت، فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔اقلیتی طبقہ کو ہر معاملےمیں تکلیف پہنچائی جارہی ہے۔ مسلمانوں کی حب الوطنی کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والوں کو قید کرلیا جاتا ہے۔
اِن ساری باتوں کو ذہن میں رکھ کر سوچیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان آج بھی آزادی کا منتظر ہے۔
وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے
مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
( پی جی اسکالر،جامعہ دار الہدی اسلامیہ )