فکر انگیز
ملک توفیق حسین
ہم برسوں سے سیکولر سوچ کو آزاد فکر کہہ کر اس پر فخر کرتے رہے، مذہبی اقدار کو قدامت اور اخلاقی پابندیوں کو آزادی کی دشمن سمجھتے رہے، مگر اب جب فائلیں کھل رہی ہیں اور راز فاش ہو رہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے، ہم کس آزادی پر نازاں تھے؟جفری اپسٹین کا معاملہ کسی ایک فرد کی لغزش نہیںبلکہ اس تہذیب کا اخلاقی آئینہ ہے جہاں نجی کمروں میں جنسی زیادتی پر شور تو بہت ہے،مگر جب یہی استحصال ڈیولپمنٹ، ماڈلنگ، انٹرٹینمنٹ اور ٹیلنٹ کے نام پر ہو تو اسے’’پرسنل چوائس‘‘ کہہ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔
ہم کسی فرد یا قوم کو بدنام نہیں کرتےمگر حقیقت یہ ہے کہ عدالتی دستاویزات، فلائٹ لاگز اور گواہیاں اب خود بول رہی ہیں جنہیں برسوں’’سازشی نظریہ‘‘ کہا گیا ،وہ آج قانونی ریکارڈ بن چکا ہے،انصاف جو طاقت اور دباؤ کے نیچے دبایا گیا تھا، اب آہستہ آہستہ سانس لینے لگا ہے۔آج جو ایران کی سرحدوں کو تنگ کیا گیا ،تمام طاقتور ممالک ایران پر جھپٹنے کے لئے تیار ہیں اور وہاں کی آزاد خواہ عوام کو ڈیولپمنٹ کا جھانسہ دیکر اسلامی حکومت کے خلاف ہونے پر اُکسایا گیا، یہ بھی کسی بہتری کے لئے نہیں بلکہ مکمل پلاننگ کے تحت وہاں مغربی طرزِ حیات نافذ کرنا چاہتےہیں۔اصل نزاع سیاست کا نہیں،اخلاقی اجازت نامے کا ہے، یہ لوگ انہیں وہ آزادی دینا چاہتے ہیں جہاں کوئی حد، کوئی جواب دہی نہ ہو جہاں خواہش ہی قانون ہو۔لیکن حالیہ واقعہ سے ہمیں معلوم ہوا زندہ ضمیری کے بغیر طاقت درندگی بن جاتی ہے۔ اپسٹین صرف ایک جھلک ہے۔کتنے ایسے اڈّے ہوں گےجو آج بھی برانڈ ناموں اور فلاحی پردوں میں چل رہے ہوں گے ۔سوال یہ نہیں کہ اپسٹین نے کیا کیا ،سوال یہ ہے کہ ہم کس تہذیب کو آزاد کہہ کر سراہتے رہے؟یہ بحث اگر صرف مغرب یا عالمی ایلیٹ تک محدود رکھی جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی نام نہاد آزاد فکر کی لہر ہمارے کشمیری سماج کے دروازے پر دستک نہیں دے رہی بلکہ اندر داخل ہو چکی ہے، میڈیکل تعلیم، سیاحت اور تفریح کے نام پر۔حالیہ برسوں میں جو کچھ دیکھنے میں آیا،اسے معمولی یا وقتی لغزش سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔تعلیم اگر اخلاق سے کٹ جائےتو وہ تربیت نہیں،صرف مہارت پیدا کرتی ہےاور مہارت جب ضمیر سے خالی ہو تو وہ استحصال کا آلہ بن جاتی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کا طالب علم رہنے کا ناطے کشمیر میں میڈیکل تعلیم کے نام پرجس بے حیائی کو فروغ ملا،یا پہلگام اور گلمرگ جیسے مقدس اور فطری حسن کے مراکز پرHappy New Year کی آڑ میںجو کچھ کھلے عام ہونے لگا، اسی طرح فرن ڈے اور دیگر ناموں سےجو غیر محسوس مگر منظم تبدیلی لائی جا رہی ہے، یہ سب کسی تہذیبی فخر کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی پسپائی کا اعلان ہے۔یہ کہنا کہ’’یہ چھوٹی باتیں ہیں‘‘یا’’زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے‘‘درحقیقت اُسی سوچ کی پیداوار ہےجو بے حیائی کو آہستہ آہستہ معمول اور پھرقابلِ فخر بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔اصل خطرہ شور میں نہیں،خاموش قبولیت میں ہے۔
یہ رجحان ایک دن میں ہماری تہذیب نہیں بدلتابلکہ رفتہ رفتہ ہمارے ضمیر کو بے حیائی کے لبادے میں لپیٹ دیتا ہےاور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اپسٹین جیسے واقعات محض بیرونی کہانیاں نہیں رہتیں بلکہ انتباہ بن جاتی ہیں۔اگر ہم نے آج تعلیم، سیاحت اور تفریح کے نام پر اخلاقی سرحدوں کی حفاظت نہ کی تو کل ہمیں بھی فائلیں کھلنے کا انتظار کرنا پڑے گا مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ یہ تحریر کسی خوشی،کسی تہواریا کسی سرگرمی کے خلاف نہیں بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہےجو آزادی کوبے لگامی اور ترقی کو بے حیائی کا مترادف بنا رہی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر بیدار رہیں، اپنی نسل، اپنی بیٹیوں اور اپنے سماجی وقار کی حفاظت کریں اور یہ سمجھیں کہ ہر وہ چیز جو جدید کہلائے، ضروری نہیں کہ انسانی بھی ہو، کیونکہ تاریخ گواہ ہے،جب معاشرے نے بے حیائی پر سمجھوتہ کیاتو زوال نے کبھی دیر نہیں کی۔
[email protected]