ماجد مجید
حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی ہونے سے پہلے حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ،ابو ہالہ بن مالک کےپاس تھیں، ان سے آپؓ کی دو اولاد ہند بن ابو ہالہ اور زینب بنت ابی ہالہ پیدا ہوئے۔ ابو ہالہ سے پہلے آپؓ عتیق بن عابد بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے پاس تھیں، عتیق سے ان کے ہاں عبداللہ اور جاریہ پیدا ہوئے۔ جاریہ کی شادی صفی بن ابی رفاء سے ہوئی۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دونوں شوہر انتقال کرگئے، ان کی تمام دولت حضرت خدیجہؓ کو مل گئی۔ اس کے بعد آپؓ اپنی تجارت اور دولت کے انتظام میں لگ گئی ۔یہ مکہ کے بہت اُونچے خاندان کی عورت تھیں، اس قدر پاکباز اورنیک تھیں کہ لوگ اُن کو طاہرہ’’پاکباز‘‘کے لقب سے پکارتے تھے ۔ وہ ہر سال کچھ لوگوں کو اپنا مال دے کر تجارت کے لئے شام وغیرہ بھیجا کرتی تھیں ۔نفع کماکر اُن کو ان کا حصہ دےدیتی تھیں ۔جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا، ابو طالب کو معلوم پڑا کہ خدیجہ ؓ اپنا مال دے کر لوگوں کو تجارت کی غرض سے شام بھیجنا چاہتی ہے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خدیجہؓ کا مال لینے شہر ِ شام جانے کی رائے پوچھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ مجھےبُلائے تو میں مل لوں گا ۔خدیجہ الکبریٰ کو کسی نے اطلاع دی۔ آپؓ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی، امانت داری اورنیکی کی شہرت سُن چکی تھی، اس لئے آپؐ کو دوگنا نفع دینے پر رضامند کرکے اپنا مالِ تجارت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں شام بھیجا ۔جانے سے پہلے خدیجہ ؓ نے اپنے غلام میسرہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر چلنے کی تاکید کی ۔روانگی پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب چچا دور تک آپؐ کے ساتھ آئے اور قافلہ والوں کو آپؐ کی حفاظت کی تاکید کی۔ اکثر روایات ہیں کہ دھوپ کی سختی سے محفوظ رہنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بدلی نے سایہ کرلیا ۔ شہر ِشام میں داخل بصری کے بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے آرام فرمانے بیٹھ گئے، تو راہب نامی نسطور اپنے گرجا سے باہر آکر میسرہ کے پاس آیا اور درخت کے نیچے بیٹھے شخص کے متعلق پوچھا ؟میسرہ نے کہاقریشی نوجوان۔ راہب بول اٹھا (اس درخت کے نیچے نبی کے سوا کوئی نہیں بیٹھا)، پھر راہب نے کچھ نشانیاں پوچھیں ،میسرہ نے اقرار کیا تو راہب نے کہا (یہی پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) ۔پھر راہب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مہر ِنبوت دیکھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی نبی آخرالزمان ؐ ہیں جن کا ذکر تورات میں ہے ۔ واپسی پر میسرہ نے سفر اور نسطور راہب کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق باتیں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سُنائیں تو خدیجہؓ کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حد محبت اور عزت پیدا ہوگئی، یہاں تک کہ وہ خود کو حضور ؐ کی ادنیٰ کنیز تصور کرنے لگی ۔(سیرت حلبیہ)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سارے حالات و واقعات اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کوسُنائے،سُن کر وہ خود بھی حیران ہوئے اور کہا ’’خدیجہ رضی اللہ عنہا! اگر یہ باتیں سچ ہیں تو سمجھ لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمت کے نبی آخرالزمانؐ ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ ایک نبی آنے والا ہے اور لوگ ان کا انتظار کررہے ہیں ۔‘‘ ورقہ کے چند اشعار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں (ترجمہ)’’خدیجہ سے میں نے ایک کے بعد ایک وصف سُنا، اے خدیجہ! میرا انتظار بہت دراز ہوگیا ہے ۔ اے خدیجہ! میں سمجھتا اور امید رکھتا ہوں کہ تمہاری بات کا ظہور مکہ کے دونوں بطنوں کے درمیان ہوگیا۔میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ راہبوں میں سے قس نامی راہب کی جس بات کی تم نے ہمیں خبر دی، ٹیڑھی یا غلط ہوجائے ۔کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں عنقریب سردار ہوجائیں گے اور ان کی جانب سے جو شخص کسی سے بحث کرے گا ،وہی غالب رہے گا اور تمام شہروں میں اس نور کی روشنی پھیل جائے گی جو خلق خدا کو سیدھا چلائے گی اور منتشر ہونے سے بچائے گی ۔کاش! میں بھی اُس وقت رہوں، جب تمہارے آگے ان واقعات کا ظہور ہو اور کاش اس میں داخل ہونے والوں میں سب سے زیادہ حصے دار ہوں۔اس دین میں داخل ہوجاؤں جس سے قریش کو کراہت رہے گی ،اگر چہ وہ اپنے مکہ میں بہت کچھ چیخ و پکار کریں گے اور لبیک لبیک پکاریں۔ ‘‘بہر حال حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبردست احترام پیدا ہوگیا اور آرزو کرنے لگیں کہ یہ امانت دار اُن کے شوہر بن جائیں۔ ایک ارادہ کرکے خدیجہؓ نے ایک روز اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھیجا ،جب نفیسہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو یوں کہنے لگی ،’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ شادی کیوں نہیں کرتے ۔‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگدستی کی وجہ بتائی ۔نفیسہ نے کہا کہ ’’اگر اس کے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن و جمال اور عزت و دولت مل جائے تو کیا کہئے ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ،وہ کون ہے؟نفیسہ نے کہا کہ وہ خدیجہ ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں اپنے چچاوئوں سے مشورہ کرکے بتاؤں گا ۔اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچاوئوں کے پاس گئے اور بِلا دھڑک اُن سے کہا ،’’خدیجہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے، چچاوئوں کو یقین ہی نہیں آیا، پھر آپؐ کے چچا ابو طالب اور حمزہ رضی اللہ عنہ نکلے اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا سے بات کی۔ اس کے بعد شادی ہوگئی ۔نکاح میں بنی ہاشم اور روسائے مضر شریک ہوئے، نکاح کے موقعہ پر ابو طالب نے خطبہ نکاح دیا ہے۔وہ پہلی اُم المومنین ہیں ،جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور اُنؓ کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی ۔روایات میں آیا ہے کہ ایک روز بازار عکاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ گھر واپس تشریف لائے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس قدر دل ملول ہونے کی وجہ پوچھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بازار عکاز میں مفلس بچوں کو دیکھ کر دل بر آیا، اگر میرے پاس کچھ ہوتا میں ان کو دے دیتا ۔غور کریں تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ساری دولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی لیکن حضور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رفیقہ حیات رضامندی چاہتے تھے ۔خدیجہ ؓ نے کہا ’’یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ ذرا مکہ کے سرداروں کو بلائے میں ان سے کوئی بات کرنا چاہتی ہوں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرداروں کو بلانے نکلے ،اس دوران خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری دولت ایک جگہ جمع کرکے ایک دیوار کی طرح بنائی مکہ کے سردار جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے، خدیجہ دولت کے دیوار کے پیچھے بیٹھی رہی اور مکہ کےسرداروں سے کہنے لگی ،’’ آپ سب گواہ رہو ،میں اپنی یہ ساری دولت اپنے شوہر جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نچھاور کرتی ہوں۔ وہ جیسے بھی چاہیں، ساری دولت کو اپنے استعمال میں لائیں ۔یہ ہے وہ عظیم شخصیت ہماری ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری جو اسلام کی پہلی خاتون ہیں، جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر)