سائرہ الفت
استاد کو اسلام میں بلند مرتبہ ملا تھا،کہا گیا ہے کہ استاد کا پیشہ پیغمبرانہ پیشہ ہوتا ہےاستاد شاگرد کا روحانی باپ ہوتا ہے،اس کی رہبری سے یہ بچہ شاہین بن کر آسمان کو چھو سکتا ہے،
اور استاد کی مثال ایک عمارت کی مانند ہے، اگر بنیاد مضبوط ہو تو پوری عمارت مضبوط ہے۔اسی طرح اگر استاد مضبوط ہوگا تو قوم کی بنیاد جو کہ بچے ہیں وہ بھی مضبوط ہوں گے۔آج کے دور میں علم حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں، ہم آسائیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن استاد اس علم میں عملی پہلو سے اضافہ کرتا ہے ۔
استاد کے لئے ادب علم و شعور، رحم دلی و پاک نظری، ہمت و جزبہ، محنت و لگن، سیرت و کردار، پاک اخلاق اور صاف دل ہونا بے حد ضروری ہے۔استاد کے لیے یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ مجھ سے پڑھنے والا بڑا ہے یا چھوٹا بلکہ یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ ایک استاد کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔
ہمارے گھر میں آج بھی ہمارے بزرگ کہا کرتے ہیں کہ پہلا زمانہ بہت اچھا تھا کیونکہ اس زمانے میں حیا و شرم باقی تو تھی۔ آج دیکھو تو چاروں طرف بے حیائی عام ہے ،
کہیں نہ کہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ استاد اپنے مقام سے نیچے گر چکا ہے۔جب استاد اپنے پیشے کو حق و فرض نہیں سمجھے گا تو شاگرد کو کون سا سبق ملے گا جب خود استاد وقت کا پابند نہیں ہوگا، اس میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہوگا یا شرم و حیا باقی نہ ہوگی تو شاگردوں میں تو بے حیائی اور بدنظمی پھیلنی ہی ہے ۔
بچہ استاد سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو با ادب بنانے کے لیے حطی الامکان کوشش کرتا تھا اور جب اسی بچے کی اچھی تربیت اسی بلند کردار کے ساتھ ہوتی تھی تو یہ بھی اپنی زندگی کے فرائض کو حق کے ساتھ انجام دیتا تھا۔علم سے بہتر ہے ادب اگر انسان میں علم ہے اور ادب نہیں تو ایسے علم کا کوئی مطلب نہیں۔
ہر ایک انسان میں خامیاں ہوتی ہیں کوئی انسان افضل یا فرشتہ نہیں ہے لیکن استاد کو چاہیے کہ اپنی خامیوں کو یا اپنی کمزوریوں کو اپنے شاگردوں کے سامنے نمایاں نہ کرے کیونکہ بچے ہمیشہ اپنے استاد کو دیکھ کر ان چیزوں کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہماری قوم اسی لیے آج زوال کا شکار نظر آرہی ہے کیونکہ ہماری اس قوم میں آج کل حقیقی رہبریاں ،حقیقی استاد کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جو اپنے آپ کی مثال آپ ہو،
استاد ایک ایسا درخت ہوا کرتا تھا جس کی ہر شاخ ہر جانب سایہ دار ہوا کرتی تھی، وہ بھی بنا کسی فرق کے اور ہر شاخ گویا نئے نئے پھول کھلانے کی ذمہ دار ہوا کرتی تھی لیکن آج رنگ ہی دوسرا ہے ۔آج ہمارے معاشرے میں جیسی حرکتیں آئی ہیں، ویسے ہی برکتیں آئی ہیں ہم اپنے زوال کے ذمہ دار خود ہیں یا یوں کہیے کہ ہم نے آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور خود کو خود ہی برباد کیا ہے۔جو ادارے کبھی علم و عرفان اور ادب کا مرکز ہوا کرتے تھے دیکھنے پر آج انہی کی حالت بے حیائی کے مراکز جیسی ہے۔آج انہی اداروں میں انجوائمنٹ کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور شاگرد بھی ہر برائی انہی اداروں سے سیکھ رہا ہے۔اس سر مستی میں ہم اس قدر کھو چکے ہیں کہ ہمیں خود بھی اندازہ نہیں کہ ہم کتنے مغرب زدہ ہو چکے ہیں ۔جس کو علامہ اقبال نے یوں کہا تھا کہ ؎
نظر کو خیرا کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ سنائی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کا بچہ ماڈرن بنے تو یاد رکھیں کہ آپ اسے علم دے رہے ہیں اور ادب سے محروم کر رہے ہیں۔ ہم خود اسے اپنے ہاتھوں سے برباد کرتے ہیں اور پھر وقت کو کوستے ہیں کہ بے حیائی عام ہو گئی ہے۔ اس کی مثال اسی طرح ہے کہ اگر چشمہ کا پانی ہی گندہ ہے اور ہم ندیوں کا پانی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہے تو یہ کون سی عقل مندی ہے ،کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم گندگی کہ تہداری تک جانے کی کوشش کرے ،تاکہ ہم اس چیز کی بہبودی کے لیے اقدامات اٹھا سکے۔
قابل غور بات ہے کہ جس بچے کو ماڈرنائزیشن کے نام پر بے حیائی سکھائی جائے یا کچھ ایسا سکھایا جائے تو وہ بحیثیت استاد کیا فروخت ہو گا اور خود سوچیے کہ اس قوم کی پھر کیا حالت ہوگی، جس کا استاد اس کی جڑیں یوں ہو جیسے مغرب زدہ تیزاب سے کھوکھلی ہو چکی ہو ۔اس لیے کہ ضروری ہے کہ استاد بہترین بنائے جائیں ، ایک معاشرہ بہترین استاد تشکیل دیں تاکہ تب جا کے ایک بہترین بچے اور پھر بہترین استاد کی تشکیل ہوگی۔مثلا اگر ہاتھ میں درد ہو تو انگلیوں کا علاج کرنا نادانی ہوگی جبکہ اصولی طور پر یہ ہونا چاہیے کہ پورے ہاتھ کا علاج کیا جائے تاکہ انگلیاں خود بخود ٹھیک ہو جائے کیونکہ انگلیاں بھی ہاتھ کا ایک حصہ ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ پر غور کریں، اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کریں، جب استاد انصاف پرست ہوگا تو بچے بھی آگے جا کر اسی طرح انصاف پرست بن جائیں گے اور یوں قوم کی حالت سدھر سکتی ہے اور ہر ایک شعبے میں سدھار آنا بھی ضروری ہو جائے گا۔
[email protected]