بلاشبہ اردو ایک زندہ و توانا زبان ہے۔ہندوستان میں پیدا ہونے والی یہ زبان اب صرف ہندوستان کی سرحد تک قید نہیں ہے بلکہ دنیا کی مضبوط اور طاقتور زبان کے طور پر اُردو کا نام لیا جاتا ہے۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش ،سبھی مسلم ممالک باالخصوص گلف(خلیجی ممالک )سمیت یوروپین ممالک جیسے ریشیا، امریکہ وغیرہ میں بھی اس زبان کے چرچے عام ہیں۔اُردو دنیاکی ساتویںمقبول زبان بن گئی ہے۔ حال ہی میں یواین او نے بھی عرابک ، چائنیز،انگلش ،فرینچ، ریشین،اسپانش کی طرح اُردو،ہندی اور بنگالی کو بھی انٹرنیشنل زبان قرار دے دیاہے اور یواین او نے اپنی دفتری زبان میں شامل کیا ہے۔ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت،جمہوری اقدار کی بحالی،گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اس زبان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اُردو زبان،شعر و ادب کے شانہ بہ شانہ اُردو صحافت نے ملک کی یکجہتی،سلامتی،عوامی بیداری اور تحریک آزادی میں جو کردار پیش کیا ہے وہ نہ صرف بے مثل ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ُاردو صحافت کی روشن تاریخ کے ذکر کے بغیر ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ نا مکمل ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ جس طرح سے ملک کی آزادی ہماری ساجھی وراثت کا حصہ ہے اسی طرح سے اُردو صحافت کی روشن تاریخ بھی ہماری ساجھی وراثت کا حصہ ہے۔ سال دو ہزاربائیس اُردو صحافت کے حوالے سے ایک سنگ میل کا سال ہے۔ 27مارچ 2022 میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہوگئے۔اُردو صحافت نے اپنے دو سو سالہ سفر میں ملک میں سنگ میل کا کردار ادا کیا ہے۔ اردو صحافت کل بھی اہمیت کی حامل تھی اور آج بھی اردو صحافت اپنی با مقصد صحافت کے لئے عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔
اُردو کا پہلا اخبار (جام جہاں نما) اٹھارہ سو بائیس میں کلکتہ سے شائع کیاگیا تھا۔جام جہاں نما کے ناشر ہری ہر دت اور ایڈیٹر سدا سکھ لال تھے۔اس کے بعدکئی ایک اُردو اخبار جس میں 1849ء میں اندور سے ’’مالوہ اخبار‘‘ دھرم نارائن جیسے اہم اخبار جاری ہوئے۔’’جام جہاں نما‘‘ اور ’’مالوہ اخبار‘‘ کی اشاعت کے بعد کلکتہ، دہلی،آگرہ،گوالیار اور دوسرے شہروں سے بڑی تعداد میں اُردو اخبارات شائع ہوئے ہیں اور انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف بھارت واسیوں میں جوش و ولولہ بھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اٹھارہ ستاون کی تحریک آزادی جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیا تھا۔جس کو ہم جدوجہد آزادی کی پہلی جنگ کے نام سے جانتے ہیں اور دنیا کے تمام تاریخ داں بھارت کی پہلی جنگ آزادی مانتی ہیں۔ اس کے خلاف اُردو اخبار بالخصوص مولوی محمد باقر کے (دہلی اُردو اخبار)میں انگریزوںکے ظلم و ستم کے خلاف جو تحریریں شائع ہوتی تھیں اس نے انگریزی حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ جس کے نتیجہ میں مولوی محمد باقر کو سولہ ستمبر 1857ء کو توپ کے گولے سے شہید کر دیا گیا۔ اس طرح اردو کے پہلے صحافی نے جام شہادت نوش کیا۔مولوی محمد باقر کا تعلق قلعے سے تھا اور قلعے والوں میں محترم بھی تھے۔ غالب،مومن،ذوق وشیفتہ بھی اس اخبار کے قدر دانوں میں تھے۔
پورے ہندوستان میں آزادی کا امرت مہتسومنایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میںبے نظیرانصار ایجوکیشنلاینڈسوشل ویلفیئرسو سائٹی بھوپال نے اپیل کی ہے کہ اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں میں اس موقع پر تقاریب کا انعقاد کرکے بچوں کومجاہدین آزادی بالخصوص اُردو صحافی کی خدمات اور وطن پر مر مٹنے کے ان کے جذبات کو یاد کیا جائے اور ان کی حیات وخدمات (جیونی) پربھی روشنی ڈالی جائے۔آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے ادارے کے زیر اہتمام سمینار،جلسہ،سمپوزیم کا اہتمام کریں اور مجاہدین آزادی کے بارے میں مختصر رسالے ،پمفلیٹ چھپواکر بچوں میں تقسیم کریں،مجاہدین آزادی کی حیات وخدمات کے موضوع پرانعامی مقابلوں کا انعقاد کریں تاکہ بچوں کے دلوں میں آزادی کی اہمیت ،وطن سے محبت اور مجاہدین آزادی کی اقدار کو پہچانے اور ہندوستان کی جنگ آزادی کی روشن تاریخ سے نئی نسل کو واقف کرایا جا سکے۔
(آئی۔پی۔ایس)ڈی۔جی(ریٹائرڈ)
[email protected]