حسیب درابو
اگرچہ محکمہ مال کی انتظامیہ کے عہدیداروں کے لئے اردو زبان کی لازمی شرط کو ختم کرنے کے خلاف غم و غصہ مکمل طور پر بجا ہے، تاہم یہ ردِعمل کسی حد تک قبل از وقت محسوس ہوتا ہے کیونکہ ابھی تک اس تبدیلی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ لیکن متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے لئے نوٹس جاری ہونا ہی شکوک و شبہات اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دینے کے لئے کافی ہے۔خاص طور پر اُس وقت جب جموں و کشمیر آفیشل لینگویجز بل 2020کے ذریعے اردو کی واحد سرکاری زبان کی حیثیت ختم کرتے ہوئے کشمیری، ڈوگری، ہندی اور انگریزی کو بھی اس کے ساتھ سرکاری زبانوں میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مرکزی انتظامی ٹریبونل کی جانب سے سروس سلیکشن بورڈ کو یہ ہدایت دینا کہ پانچوں سرکاری زبانوں میں سے کسی ایک میں مہارت رکھنے والے امیدواروں کو اہل مانا جائے، اس تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کر چکا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک ملازمت تک محدود نہیں بلکہ انتظامی امور کی مشترکہ زبان کو حکمرانی کے ایک نہایت اہم شعبے یعنی اراضی کی ملکیت کے نظام میں غیر مؤثر بنانے کا معاملہ ہے۔ جب اس مسئلے کو شناخت پر حملے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو یہ جذباتی رنگ اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ ریونیو انتظامیہ کی ملازمتوں کےلئے اردو کو لازمی اہلیت کے طور پر برقرار رکھنے کے مضبوط انتظامی جواز موجود ہیں۔جموں و کشمیر کے تمام خطوں، خواہ وہ جموں ہو، پیر پنچال، چناب یا وادی کشمیر، میں زمین کے تمام سرکاری ریکارڈ آج بھی اردو نستعلیق رسم الخط میں محفوظ ہیں۔ پورا محکمہ مال کا نظام، بشمول ریکارڈ آف رائٹس (جمع بندی)،گرداوری اورانتقال اردو زبان میں ہی مستعمل ہے۔
تاہم گزشتہ برسوں کے دوران تکنیکی ترقی اور کارکردگی پر مبنی اصلاحات نے ایسے گہرے ساختی اثرات مرتب کیے ہیں جو اردو زبان کےلئے دور رس نتائج رکھتے ہیں۔ وہ بنیادی تبدیلی جس نے اردو کو پہلے ہی حاشیے پر دھکیل دیا ہے، زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن ہے۔اگرچہ ڈیجیٹائزیشن کے فوائد سے انکار ممکن نہیں، اس سے شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے، بدعنوانی میں کمی آتی ہے، انتقالات کی کارروائی تیز ہوتی ہے اور آن لائن رسائی ممکن بنتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اردو روزمرہ انتظامی استعمال سے عملاً خارج ہوتی جا رہی ہے۔
1996میں قومی سطح پر شروع کی گئی ڈیجیٹائزیشن مہم کو جموں و کشمیر میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ہی تیزی حاصل ہوئی۔ 2025کے اوائل تک 6,850میں سے 6,838ریونیو دیہات کی جمع بندی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی تھی۔نیا نظام اور سافٹ ویئر بنیادی طور پر انگریزی (اور کسی حد تک ہندی) میں ہے، جبکہ نستعلیق رسم الخط کے لئے نہایت محدود یا تقریباً کوئی سہولت موجود نہیں۔ پرانے ہاتھ سے لکھے گئے اردو ریکارڈز کو صرف تصویری شکل میں سکین کیا گیا ہے، لیکن نئے اندراجات، تلاش، انتقالات اور نقول اب انگریزی میں تیار کی جاتی ہیں۔
جموں و کشمیر کے محکمہ مال کے انتظامی’’آپریٹنگ سسٹم‘‘ میں، جہاں اردو گہرائی کے ساتھ رچی بسی ہوئی تھی، اب ایسی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں جن کے نتیجے میں اردو کا حاشیے پر چلے جانا جدیدیت کا ایک ناگزیر اثر بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹائزیشن ثقافتی طور پر غیر جانب دار عمل نہیں ہوتی۔ایسی بنیادی تبدیلیوں کے تناظر میں کشمیر کے سامنے اب اصل اور کہیں زیادہ گہرا سوال یہ ہے کہ وادی میں اردو ایک زندہ زبان کے طور پر کس طرح اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔
زبانیں سرکاری احکامات، نوٹیفکیشنز یا بھرتی کے سرکیولروں سے نہ زندہ رہتی ہیں اور نہ ختم ہوتی ہیں۔ وہ معاشروں کے روزمرہ انتخاب اور بازار کی افادیتی سوچ کے ذریعے زندہ رہتی یا مٹ جاتی ہیں۔ کسی زبان کی اصل زندگی سرکاری سرکیولروں میں نہیں بلکہ سول سوسائٹی اور تجارت کے بازار میں ہوتی ہے۔
تاریخ اس حوالے سے ایک واضح سبق پیش کرتی ہے۔ مغلوں، افغانوں اور ابتدائی ڈوگرہ دورِ حکومت میں صدیوں تک فارسی کشمیر کی درباری زبان رہی۔ اس نے انتظامیہ، شاعری اور اشرافیہ کے علمی و ادبی مکالمے کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ لیکن انیسویں صدی کے اواخر میں جب اردو نے ایک عملی رابطے کی زبان کے طور پر اس کی جگہ لی تو فارسی تیزی سے منظر سے غائب ہو گئی۔آج فارسی صرف کلاسیکی علمی حلقوں، درگاہوں میں صوفیانہ تلاوتوں اور کشمیری زبان میں بکھرے ہوئے چند مستعار الفاظ تک محدود رہ گئی ہے۔ کوئی شاہی یا انتظامی فرمان اسے زندہ نہیں رکھ سکا، کیونکہ معاشرے نے اسے گھروں اور بازاروں میں استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیری سول سوسائٹی نے ایک عجیب تضاد کے تحت کشمیری زبان کی قیمت پر اردو کو فروغ دیا۔ بے شمار شہری اور نیم شہری گھروں میں والدین نے شعوری طور پر کشمیری کے بجائے اردو اختیار کی، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس سے ان کا سماجی مقام بلند ہوگا اور ان کے بچوں کےلئے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔
اس کا نتیجہ دردناک مگر بالکل واضح ہے:کشمیری زبان بزرگوں اور دیہات تک محدود ہو کر رہ گئی، جبکہ اردو گھریلو استعمال میں عام ہوتی چلی گئی۔ اردو نے تو جگہ بنا لی، مگر اس کی قیمت وادی کی اپنی لسانی روح کو چکانا پڑی۔ یہی دراصل اصل ثقافتی صدمہ ہے۔
بازار کا سوال اس سے بھی زیادہ بے رحم ہے۔ ایک زمانے میں کشمیر میں اردو تجارت کی زبان ہوا کرتی تھی۔ تمام تجارتی حساب کتاب اردو میں رکھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر سیب کی تجارت اور باغبانی کی معیشت کو چلانے والے’’وٹک‘‘یعنی بل اور حسابی نوٹس حالیہ عرصے تک اردو میں تحریر کئے جاتے تھے۔ مقامی منڈیاں، کمیشن ایجنٹ اور برآمد کنندگان اپنا کاروبار اردو ہی میں انجام دیتے تھے۔
لیکن معاشی آزاد کاری، کمپیوٹرائزیشن، بینکاری اصلاحات اور قومی سپلائی چین کے نظام نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ معاہدے، فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹس، ادائیگی اور برآمدی انوائسز، حتیٰ کہ بینکاری ایپس بھی اب انگریزی میں کام کرتی ہیں۔یوں اردو نے اسی شعبے میں اپنی افادیت کھو دی جو آج بھی دیہی کشمیر کی معیشت اور روزگار کی بنیاد ہے۔ مزید یہ کہ سماجی میل جول بھی اب اردو میں نہیں ہوتا۔
آج اردو کا ’’بازار‘‘ زیادہ تر ثقافتی اور جزوی طور پر انتظامی نوعیت کا رہ گیا ہے، جو بنیادی طور پر محکمہ مال کے ریکارڈ تک محدود ہو چکا ہے۔ وہاں بھی زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے بعد اردو اپنی بالادستی کھو بیٹھی ہے، اگرچہ ایک رابطے کی زبان کے طور پر اس کی کچھ اہمیت اب بھی باقی ہے۔اردو اب زیادہ تر ایک آرکائیوی یا ریکارڈی زبان کے طور پر کام کرتی ہے اور ایک رابطہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے، نہ کہ ترقی اور وسعت پانے والی زبان کے طور پر۔
اردو کو یقیناً اس کا جائز مقام اور اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہ ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن اس کی بحالی اور ترویج کی ذمہ داری صرف سیکریٹریٹ یا سرکاری اداروں کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔سب سے اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ سرکاری حیثیت اور بھرتی کے قواعد کبھی بھی اُس زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتے، اور نہ ہی ماضی میں رکھ سکے ہیں، جسے لوگ خود اپنے گھروں میں بولنا چھوڑ دیں یا بازار میں اس کی ضرورت محسوس نہ کریں۔
وادی کی قربت اور روزمرہ احساسات کی زبان کشمیری اور دنیا سے رابطے کی زبان انگریزی کے درمیان اردو ایک فطری درمیانی مقام حاصل کر سکتی ہے، یعنی ایک علمی و تحقیقی زبان کے طور پر۔کشمیر سے متعلق تاریخی مواد کا ایک بڑا ذخیرہ، خصوصاً انیسویں صدی کے اواخر کے بعد کا، بنیادی طور پر اور بعض اوقات مکمل طور پر اردو ہی میں موجود ہے۔
1889میں ڈوگرہ دور کے اُس تاریخی فیصلے نے، جب مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے فارسی کی جگہ اردو کو درباری زبان بنایا، اردو تاریخ نگاری، صحافت اور علمی تحقیق میں ایک غیر معمولی وسعت پیدا کی۔مولوی شاد اور ہرگوپال کول خستہ جیسے مصنفین کی تصانیف تاریخِ کشمیر اورتاریخ نگارستانِ کشمیر اور اس نوعیت کی دیگر کتابوں نے مقامی تاریخ اور بیانیوں کو محفوظ کیا، جنہیں بعد کی انگریزی تاریخوں میں اکثر صرف خلاصے یا نئی تعبیرات کی صورت میں پیش کیا گیا۔
1920کی دہائی سے لے کر 1970کی دہائی تک کی سیاسی بیداری کو اردو اخبارات کے ذریعے نہ صرف دستاویزی شکل دی گئی بلکہ اسی زبان نے اس شعور کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔آزادی کی تحریک کا مطالعہ کرنے والے مؤرخین بڑی حد تک انہی بنیادی ماخذات پر انحصار کرتے ہیں۔ انگریزی کی ثانوی علمی تحریریں اکثر ان حوالوں کا ذکر تو کرتی ہیں، لیکن اصل متن اور اس میں موجود باریک معنویت اردو ہی میں محفوظ ہے۔
یہ نقطۂ نظر زبان کو محض علامتی شناختی سیاست تک محدود کر دینے کے عام رجحان سے بچاتا ہے۔ اگر اسے درست انداز میں اپنایا جائے تو یہ نہ صرف اردو کے بقا کو مضبوط بناتا ہے بلکہ کشمیر کی اپنی تاریخی خود فہمی کو بھی گہرائی عطا کرتا ہے۔اصل خطرہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس عمل کو سنجیدہ علمی تحقیق کے بجائے محض رسمی روایت بنا دیا جائے۔ یہ دائرہ متعلقہ علمی شعبوں تک مفید انداز میں وسیع ہو سکتا ہے، لیکن اس کی فکری ساکھ اور معاشی منطق برقرار رکھنے کے لئے اسے تاریخ نگاری کے مضبوط بنیادوں سے جڑا رہنا ضروری ہے۔
خالصتاً انتظامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو لسانی مٹاؤ کو روکنے کے لئے مکمل اردو ڈیجیٹل معاونت سمیت متعدد جوابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو دو لسانی ریکارڈز اور نستعلیق رسم الخط کے انضمام جیسے حفاظتی انتظامات قائم کرنے ہوں گے تاکہ پورا نظام ناقابلِ واپسی طور پر انگریزی کی طرف نہ جھک جائے۔قومی ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام بھی مقامی زبانوں کی معاونت کو لازمی قرار دیتا ہے۔
منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو جموں و کشمیر حکومت نے 2021-2022میں سہ لسانی ڈیجیٹل لینڈ پاس بکس متعارف کرا کے ایک مثبت قدم اٹھایا تھا۔ ہر زمین مالک اب اپنی اراضی کی تفصیلات، جیسے ملکیت، انتقالات وغیرہ، اردو، ہندی اور انگریزی میں مشتمل ڈیجیٹل پاس بک حاصل کر سکتا ہے۔یہ اقدام خاص طور پر اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ ریکارڈز عوام کے لئے قابلِ رسائی بنائے جائیں اور ساتھ ہی محکمہ مال کی دستاویزات میں اردو کے تاریخی کردار کو بھی محفوظ رکھا جائے۔ایک اہم خصوصیت، جسے فعال طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے، ریکارڈ آف رائٹس کی کشمیری زبان میں خودکار رسم الخط منتقلی (ٹرانسلٹریشن) ہے۔ کشمیری زبان ہندوستانی آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل 22 زبانوں میں سے ایک ہے۔
بالآخر کشمیر میں اردو کا مستقبل محکمہ مال یا سیکریٹریٹ کے محکمہ اطلاعات میں طے نہیں ہوگا۔ اس کا فیصلہ اُن گھروں میں ہوگا جہاں یہ طے کیا جاتا ہے کہ بچے کھانے کی میز پر کون سی زبان بولیں گے، اُن ناشروں کے ذریعے ہوگا جو نئی کشمیری،اردو ادبی تخلیقات شائع کریں گے اور لوگ انہیں خریدیں گے،اُن ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے ذریعے ہوگا جو ایسا مواد تیار کریں گے جسے کشمیری نوجوان شوق سے دیکھیں اور اپنائیں،اور اُن مقامی بازاروں میں ہوگا جہاں اردو کے استعمال کےلئے نئے معاشی جواز اور ضرورتیں پیدا کی جائیں گی۔
لہٰذا اصل مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی بھرتی کے ضابطے میں اردو لازمی شرط ہو یا نہ ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطورِ معاشرہ اردو کو اُس منفرد اہمیت کے ساتھ اب بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو وہ ہمیں فراہم کرتی ہے:ہماری جدید تاریخ اور ادب کا ایک بے حد قیمتی اور ناقابلِ بدل ذخیرہ۔اگر ہم سنجیدگی اور بغیر کسی معذرت خواہانہ رویّے کے اردو کو یہ مقام دیں، تو یہ زبان صرف زندہ ہی نہیں رہے گی بلکہ کشمیر کی فکری اور علمی زندگی میں بامعنی کردار بھی ادا کرے گی۔ لیکن اگر اس دائرے کو نظرانداز کر دیا گیا، تو کوئی سرکاری سرکیولر اسے نہیں بچا سکے گا۔
آخرکار فیصلہ وزارت نہیں بلکہ محلہ اور بازار سنائیں گے۔