شفیع نقیب
صبح کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب اودھمپور کے قریب کگورٹ گاؤں کے پہاڑی راستے پر ایک مسافر بس، جو پہلے ہی اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافروں سے بھری ہوئی تھی، اچانک بے قابو ہو کر تقریباً سو میٹر گہری کھائی میں جا گری۔ گرنے سے قبل اس نے ایک آٹو رکشہ کو بھی کچل ڈالااور جب نیچے سڑک پر آ کر اُلٹی پڑی تو وہ لوہے کے ایک مڑے تڑے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں اکیس قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ باسٹھ سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت نازک بتائی گئی۔ سترہ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے اور چار نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار دی۔ یہ حادثہ نہ صرف اعداد و شمار کا ایک حصہ ہے بلکہ یہ ان گھروں کی کہانی ہے جہاں آج بھی صف ماتم بچھا ہے، جہاں مائیں بیٹوں کو پکار رہی ہیں اور بچے اپنے باپ کے انتظار میں دروازے تک رہے ہیں۔
اس دلخراش واقعے سے متعلق ایک مفصل رپورٹ میں حادثے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن کی مشکلات اور انتظامیہ کے ردعمل کولکھتے ہوئے ہر سطر کے ساتھ دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہ محض خبر نہیں بلکہ انسانیت کا نوحہ تھا۔ فوجی قافلے نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، مقامی افراد اور پولیس اہلکار بھی موقع پر پہنچے، مگر بس کی حالت ایسی تھی کہ زخمیوں کو نکالنا بھی ایک چیلنج بن چکا تھا۔ کرین کے ذریعے گاڑی کو سیدھا کیا گیا اور بڑی مشکل سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔ یہ منظر کسی قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے اور بدقسمتی سے شاید آخری بھی نہیں۔ جموں و کشمیر میں ٹریفک حادثات اب ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی المناک خبر سننے کو ملتی ہے اور ہر خبر کے ساتھ ایک نئی کہانی جڑ جاتی ہے،دکھ، محرومی اور بے بسی کی کہانی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں میں ٹریفک حادثات کی صورتحال انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ ان آٹھ برسوں میں بیس ہزار سے زائد ٹریفک حادثات پیش آئے جن میں تقریباً چار ہزار چار سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ پچیس ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں بلکہ ہر نمبر ایک زندگی، ایک خاندان، ایک خواب کی نمائندگی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں ہی سات سو اڑسٹھ حادثات اور ایک سو بہتر اموات درج کی گئی ہیں۔ اگر ہم پچھلے برسوں کا جائزہ لیں تو 2024 میں بھی ہزاروں حادثات رپورٹ ہوئے اور اموات کی تعداد سینکڑوں میں رہی۔ 2018 سے لے کر 2025 تک کا یہ تسلسل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم نے اب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہ المیہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان حادثات کی وجوہات پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو چند بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم وجہ سڑکوں کی خستہ حالی اور تنگی ہے۔ جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں نہ صرف تنگ ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ پہاڑی علاقوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے جہاں ایک معمولی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ دورویہ سڑکوں کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے اور حادثات کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی ہے۔ تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ڈرائیونگ کے دوران احتیاط کا فقدان ایسے عوامل ہیں جو اکثر حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اودھمپور کے حالیہ حادثے میں بھی بس اوورلوڈ تھی اور تیز رفتاری کا شکار تھی، جس کے نتیجے میں ایک ٹائر پھٹنے کے بعد ڈرائیور قابو نہ رکھ سکا۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ معمولی سی لاپرواہی کس طرح درجنوں جانیں لے سکتی ہے۔ٹریفک پولیس کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، اگرچہ موجودہ عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باعث وہ ہر جگہ موثر نگرانی نہیں کر پاتے۔ اس کے علاوہ ٹریفک سگنلز کا فقدان یا ان کا غیر موثر ہونا بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اگر ہم چنڈی گڑھ جیسے شہر کی مثال لیں تو وہاں کا ٹریفک نظام ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ کشادہ سڑکیں، منظم ٹریفک سگنلز، سخت قوانین اور ان پر مکمل عمل درآمد نے وہاں حادثات کی شرح کو کافی حد تک کم کیا ہے۔ یہی ماڈل جموں و کشمیر میں بھی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سرکار ی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ دیگر ترقی یافتہ ریاستوں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے یہاں کے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے۔
اس ضمن میں چند اہم تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں۔ سب سے پہلے سڑکوں کی کشادگی اور ان کی مرمت پر فوری توجہ دی جائے اور موسم گرما کے دوران ہی میکڈم بچھانے کا کام مکمل کیا جائے تاکہ بارشوں اور برفباری سے پہلے سڑکیں بہتر حالت میں ہوں۔ ٹریفک سگنلز کو جدید بنایا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں نئے سگنلز نصب کئے جائیں۔عوام میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں وقتاً فوقتاً آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نئی نسل کو شروع سے ہی ذمہ دار شہری بنایا جا سکے۔ رضاکارانہ تنظیموں کو اس عمل میں شامل کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف ٹریفک میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ حادثات کا سبب بھی بنتے ہیں۔ پلوں اور فلائی اوورز کے قریب غیر ضروری بھیڑ بھاڑ کو ختم کیا جائے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ صرف اہل افراد کو ہی گاڑی چلانے کی اجازت ملے۔اس کے علاوہ سڑکوں پر اسٹنٹ کرنے والوں اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کنڈم گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور دن کے اوقات میں شہری علاقوں میں مال بردار ٹرکوں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔ چرواہوں کو بھی دن کے وقت سڑکوں پر مویشی لانے سے روکا جائے تاکہ ٹریفک میں خلل نہ پڑے۔ایک اور اہم مسئلہ اسکول اور کالج کی گاڑیوں کا ہے، جو اکثر تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان پر کڑی نگرانی ہونی چاہئے اور ایسے ڈرائیوروں کو فوری طور پر ہٹایا جائے جو حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ریٹائرڈ یا غیر مستند ڈرائیوروں کو اسکول گاڑیاں چلانے کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو یہ حادثات اسی طرح ہماری زندگیوں کا حصہ بنتے رہیں گے۔ ہر روز ایک نئی خبر، ایک نیا ماتم، ایک نئی کہانی اور ہم صرف افسوس کرتے رہ جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، حکومت، انتظامیہ اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ کیونکہ سڑکوں پر بکھرتی یہ زندگیاں ہم سب سے سوال کر رہی ہیں۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم بدل جائیں؟
رابطہ۔9622555263
[email protected]