عذراء زمرود
اولاد کے لیے اگرچہ والد اور والدہ دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں ہی ان کے حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن بچے کی پیدائش اور پرورش میں ماں کی مشقت اور ذمہ داری چونکہ زیادہ ہے، اس لیے اولاد کی طرف سے خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے اس کا حق بھی فائق ہے۔ چناچہ سورة لقمان میں ماں کے خصوصی حق کا ذکر یوں فرمایا گیا، ’’ اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں، اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں کمزوری پر کمزوری جھیل کر، پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں۔‘‘ ایک صحابی ؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا : یا رسول اللہؐ ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون ہے ؟ آپؐ نے فرمایا، ’’تمہاری والدہ‘‘۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون ؟ آپؐ نے فرمایا، ’’ تمہاری والدہ‘‘۔ یہ سوال انہوں نے چار مرتبہ دہرایا، جواب میں آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا، ’’تمہاری والدہ‘‘ جبکہ چوتھی مرتبہ آپ ؐ نے فرمایا ، ’’ پھر تمہارا والد‘‘ ۔ اسی طرح اِن دو جملوں میں’’ اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا پیٹ میں تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ‘‘، ’’ اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے لگ بھگ تیس مہینے میں‘‘، اُن تمام اضافی تکالیف اور مشقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، جو والد کے مقابلے میں صرف والدہ کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ بچے کی پیدائش ، پرورش اور دوران حمل والدہ گونا گوں پریشانیوں، جان لیوا تکلیفوں اور صبر آزما مشقتوں کو وہ تن تنہا جھیلنا پڑتا ہے۔اسی بنا پر ماں گھر کی سجاوٹ کا اہم اور بنیادی ڈھانچہ ہے۔ماں اس کائنات کے سب سے اچھے، سچے اور خوبصورت ترین رشتے کا نام ہے۔’’ماں‘‘ ایک ایسا لفظ، جو ناقابل تسخیر محبت و الفت کا حسین شاہکار ہے۔ غرض ہمدردی وشفقت کا روشن مینار ہے ، ایثار وقربانی کا انمول احساس اور دل بستگی کا ہر سامان فراوانی کے ساتھ اس میں جلوہ گر ہے، ماں گھر کی سلطنت کا اہم ستون ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔اسلام میں اولاد کو پوری زندگی، ماں کے تقدس، اس کی عظمت کے اظہار اور خدمت واطاعت کے لئے وقف کرنے کی تاکید کی ہے۔
انسانیت کے لئے اس زمین پر سب سے خوبصورت رشتہ ماں کا ہے، وہ ماں جو انسان کی تخلیق کا سبب ہے۔ انسان کے لئے اس زمین پر سب سے خوبصورت، حسین اور عظیم رشتہ ماں کا ہے۔ ماں نو ماہ تک بچے کے بارے میں سوچتی رہتی ہے کہ وہ کیسا ہوگا، وہ کس قدر حسین اور دلکش ہوگا، وہ کتنا معصوم ہوگا، وہ کھلتےجیسا ہوگا، ماں اس گلاب کی خوشبو سے معطر رہتی ہے۔ اسی دوران وہ گھر کے کام بھی کرتی رہتی ہےاورہر مشکلات بھی برداشت کرتی ہے۔اس کی سوچ کا محور وہ حسین پھول ہوتا ہے جو ابھی اس کے پیٹ میں ہوتاہے اور تخلیق کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔بچہ ماں کی کوکھ میں ہونے کے دوران بھی وہ شوہر کے حقوق کا خیال بھی رکھ رہی ہوتی ہے، چاہے شوہر کو اس کی تکلیف کا اندازہ ہو یا نہ ہو، وہ درد سہتی ہے، یہ درد اُسے حسین تحفے جیسا محسوس ہوتا ہے، ان نو ماہ کے دوران اس میں بہت ساری جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں، بچے کی پیدائش کے آخری دنوں میں اس میں چڑچڑا پن آجاتا ہے، اس کے باوجود وہ یہ خیال رکھتی ہے کہ کہیں اس کے اس رویے اور پریشانی سے بچہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، ان تمام تکالیف کے بعد وہ اس حسین زمین پر ایک نئے اور دلفریب پھول کو جنم دیتی ہے۔ یہ لمحہ ماں کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہی لمحہ اس کی خوشی اور مسرت کا بھی ہوتاہے۔ وہ اپنا سارا درد اور تکلیف بھول جاتی ہے۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے وہ یہ کہ ماں بچے کی پیدائش کے بعد جو احساس محسوس کرتی ہے، وہ احساس اس دنیا کی زندگی ہے، بچے کے ساتھ ماں کی شرارتیں، اس کا مسکرانا اور ماں کا کھلکھلانا، اس کا رونا اور ماں کا اسے فوری دودھ سے نوازنا، معصوم سے بچے کی آنکھوں، کانوں، ٹانگوں اور ہونٹوں کو جب ماں چومتی ہے، تو پہلی دفعہ وہ عورت ہونے پر فخر کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھ میں کیسی زندگی تخلیق کی ہے، اس کی یہ ادا دنیا کے لئے یہ پیغام ہوتا ہے کہ وہ ایک حقیقی تخلیق کا ذریعہ ہے۔ ماں اپنی تخلیق سے دنیا کو جنت بنا دیتی ہے، اس لئے تو کہتے ہیں کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ بچے اور ماں کا رشتہ اس کائنات کا حقیقی حسن ہے۔بہرحال یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں حاملہ خواتین کے لئے خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ کم سے کم تکلیف کا شکار ہوں۔ ڈاکٹروں کو اپنا رویہ حاملہ خواتین سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹروں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔ماں، جس کا احساس انسان کی آخری سانس تک چلتا رہتا ہے۔ ماں، ایک ایسا پھول ہے جس کی مہک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ماں، ایک سمندر ہے جس کا پانی اپنی سطح سے بڑھ تو ہو سکتا ہے ۔مگر کبھی کم نہیں ہو سکتا۔ ماںایک ایسی دولت ہے جس کو پانے کے بعد انسان مشکور ہو جاتا ہے۔ ماںایک ایسی دوست جو کبھی بیوفائی نہیں کرتی۔ ماں ایک ایسا خواب جو ایک تعبیر بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ ماں ایک ایسی پرچھائی ہے جو ہر مصیبت سے ہمیں بچانے کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور ہر وقت اپنے والدین کے لیے دعا گو رہنا چاہیے کہ اے اللہ جب میں ضعیف کمزور اور محتاج تھا تو انہوں نے میری غذا میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظام کیا۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لیے اپنے آرام و آرائش کو قربان کیا۔ اب میں تو ان کے ان احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ اس لیے میں تجھی سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ان پر رحم فرما اور اپنی خصوصی شفقت اور مہربانی سے ان کی خطاؤں کو معاف فرما دے ۔آمین