بشارت بشیرؔ
آج کی انسانی دنیا میں سب سے بڑا المیہ اگر گردانا جاسکتا ہے تو یہی کہ نوجوان نسل بڑی تیزی اور سرعت کے ساتھ اخلاقی انحطاط کے ہلاکت خیز راستے پر گامزن ہے اور انسانی اور روحانی اقدار کی پامالیاں اس کے ہاتھوں اپنے عروج کی بلندیوں کو چُھو رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ لرزہ خیز جرائم کا ارتکاب بھی اس کے دائیں ہاتھ کا کھیل دِکھ رہا ہے ،جانی مانی بات ہے کہ انسانی معاشروں کی بہتر تعمیر مدارس ،ماں کی کوکھ اور گھر کے ماحول میں ہی ہوتی ہے لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ دانش گاہیںتجارتی مراکز بنے ہوئے ہیں ،مدارس فیس بٹورنے کا ذریعہ ۔ الا ماشاء اللہ۔ رہی بات گھروں کے ماحول کی ،جس کے اثرات بچے قبول کرکے اپنی آئندہ زندگی جیتے ہیں ،یہ فضا بھی اب مسموم نظر آرہی ہے ۔بچے جنم پانے کے ساتھ ہی مائوں کی کوکھ کی شفقت اور اُس کے دودھ کی نعمت عظمیٰ سے محروم ہوتے ہیں اور والد نے تو بس گھر کے ضروریات کو پورا کرنے کا ٹھیکہ اُٹھاکر یکسر اولاد کی تربیت کی ذمہ داری سے اپنے کو بچا کے رکھا ہے ۔والدین کی بس خواہش اتنی ہوتی ہے کہ اولاد جسمانی لحاظ سے تنومند ہو اور اُسے ایک ایسے مدرسے کی فضا بھی میسر آئے جس نے دنیوی اعتبار سے نام کمایا ہو۔جہاں بچہ اچھے نمبرات لے کر پاس ہو اور پھر اپنے لئے کسی ایسے شعبے کا انتخاب کرے کہ دولت ھُن کی طرح گھر کے آنگن میں برسنے لگے ،ایسے دو تین نکاتی ایجنڈے کے گِرد بچہ کے مستقبل کے حوالہ سے اُن کی سوچ گھومتی ہے،اخلاقی اور روحانی تربیت کے تعلق سے سوچنا تو درکنار اس تعلق سے بدقسمتی سے کوئی بات ہمارے ایک وسیع طبقہ کے دماغ کو چھوتی بھی نہیں۔ظاہر ہے کہ جب دودھ ڈبے کا ہو تعلیم و اطوار انگریزی ہوں اور وظیفہ سرکاری ہو تو پھر ان بچوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ والدین اور معاشرے کے لئے سود مند ثابت ہوں گے یہ خیال رکھنا ہی عبث اور فضول ہے۔
اولاد باغی ہوگئی ہے ،ماں باپ کو سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا ہے ،ماں بیٹی اور باپ بیٹے میں عرصہ سے بات چیت بند ہے ،بڑی بڑی کوٹھیوں میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن کے رہ گئے ہیں ،بچے من مرضی کے فیصلے لیتے ہیں اور والدین کے مشوروں کو پرکاہ کی حیثیت بھی حاصل نہیں ،اولاد اپنے عیش و نشاط کے حوالہ سے حساس تو ہیں لیکن بوڑھے والدین کے دوا دارو کی نہ صرف یہ کہ کوئی فکر نہیں بلکہ اُن بے چاروں کے نصیب میں اب بس دھتکار اور پھٹکار رہی ہے ،یہ اور اس جیسی شکایات اور خبریں سُننا پڑھنا اب بس روز کا معمول ہے اور اس جانب متوجہ ہونا بھی اب تضعیع اوقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ان تشویش ناک معاملات کی اتھاہ گہرائیوں میںجائیے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ جن اولاد کے ہاتھوں آج بوڑھے والدین لٹ پٹ رہے ہیں یا اُن کے عدم التفات کے شکار اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں ،وہ خود اس صورت حال کے جنم داتا ہیں اور اس اولاد کے لاڈ پیار نے اُنہیں اس حد تک اندھا بنا دیا تھا کہ اِن کی روحانی اور اخلاقی تربیت کو وہ ثانوی حیثیت دینے کے لئے بھی کیا تیار ہوتے،اِسے ملائیت اور فرسودہ خیالی کہنے میں بھی کوئی عار یا باک محسوس نہ کرتے لیکن تربیت اولاد کے تعلق سے اسلام کے زرین ھدایات سے چشم پوشی کا عمل آج بھی محسوس نہیں کرتے ،انگریزی اور دیگر علوم کی اہمیت سَر آنکھوں پر لیکن بس اِن ہی علوم کا حصول اور اس بنیاد پر ہی حصول دولت و مطمع نظر ٹھری اگر انہیں خوں کے آنسوں رُلا رہا ہے تو کوئی خلاف توقع بات بھی نہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم اولاد کی ان اوچھی اور رذیل حرکتوں کو درستگی کی سند رہے ہیں لیکن یہ بات بھی تو دو اور دو چار کی طرح واضح ہے کہ اکثر والدین اپنے لخت ہائے جگر کی اخلاق اور کردار سازی کے حوالہ سے ان کے وجود کے روز اول سے صریح غفلت کے شکار نظر آرہے ہیں اور آج یہ بُرے دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ ہر جا و ہر مجلس میں اس اولاد کی نا فرمانیوں اور کج ادائیوں کا ذکر چھیڑ کر ہر حساس دِل کو تڑپارہے ہیں ۔کاش والدین اسلام کے نظام ِ تربیت و تعلیم کی جانب متوجہ ہوں،اور حکمت و دانش سے بھرے اُن تعلیمات کو حرز جاں بنائیں جن پرعمل پیرا ہوکر یقینانئی نسل ہر دور میںوالدین و معاشرے ہی کے لئے کیا ساری انسانیت کے لئے درد مند ثابت ہوجائے۔قرآن و سنت کی تعلیمات کو اس حوالہ سے رہبر و رہنما جان مان لیں۔اور اس تربیت اولاد کو اسلام نے کس قدر اہمیت دی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن نے بطور خاص اُن اہم پندو نصائخ کو جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو دی تھیں اُس کا ذکر ان نصیحتوں کو الگ الگ گنتے ہوئے کیا ہے:کہ اے میرے بیٹے(۱)اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا (۲)ماں باپ کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا ،ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کہ تیری ماں نے تجھے پیدائش سے قبل بڑی مشقت سے اُٹھائے رکھا اور پھر اس کے بعد دو برس تک تجھے دودھ پلایا ۔تجھے لازم ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر کر۔آخر کار تجھے میرے ہی پاس لوٹنا ہے۔(۳)اپنے والدین کی ہر بات میں اطاعت کر اِلا یہ کہ وہ تمہیں شرک کرنے پر مجبور کریں،دنیا میں والدین کے ساتھ احسان والا سلوک کر ،یعنی ان کی صحبت میں رہتے ہوئے ان کی خدمت کر ،(۴)ظلم یا بُرائی چاہے کتنے ہی پردوں مین چھپے ہوں یا کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں خدا اُن کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ روز قیامت اُن کو نکال کر سامنے رکھدے گا (۵)نماز قائم کرنا اور اچھے کاموں کی نصیحت کرنا (۶)کوئی مصیبت آجائے تو آہ و زاری کرنے کے بجائے اس پر صبر کرنا (۷)زمین میں اکڑ کے نہ چلنا کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔(۸)اپنی رفتار میں میانہ روی رکھنا اور چیخ چیخ کر نہ بولنا ،اپنی آواز کو مدھم رکھنا کیونکہ آوازوں میں سے بدتر آواز گدھے کی آواز ہے۔
قارئین باتمکین !ان نصائح کی گہرائیوں میںڈوب جائیے اور پھرتصور میں لائیے کہ ان اقوال فہم و دانش کی روشنی میں اولاد کی تربیت ہو تو کیا وہ رشک ِ گلستان زیست نہیں بن جائے گی ،وہ توحید کا شیدائی اور شرک سے بیزار ہو،والدین کا مطیع بنے ،ماں کی اُس مشقت کا ادراک کرے جو اُسے پیٹ میںرکھنے اور پھر دورانِ رضاعت اُٹھا نی پڑی،ظلم کی ہلاکت خیزی کو سمجھے ،نمازوں کی اہمیت سے واقف ہو۔بُرائیوں اور بدیوں کی تباہ کاریوں سے آگاہ ہو،مصیبتوں میں ثابت قدم رہے،اور صبر کی افضلیت کو سمجھ لے ،تکبر سے گریزاں ہو،رفتار اور گفتار میںمیانہ روی کا اظہار کرے تو پھر اس کے ایک بہتر اولاد اور سماج کے لئے ایک اچھے رکن ثابت ہونے میں کیا کوئی اڑچن ،کوئی رکاوٹ کب درپیش آسکتی ہے ؟ لیکن افسوس کہ ساری دنیا اس وقت جا ہ و مادی منفعت کی دوڑ میں اس قدر مست و محو ہے کہ اخلاق ،آداب ،انسانیت ،شرافت ،دیانت اور سب سے بڑھ کر اولاد کی درست تربیت کے اہتمام سے سوچنا تک ایسا لگتا ہے جیسے کہ یہ ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہی نہیں ۔جس کے نتیجہ میں آج دنیا انارکی ،طوائف الملوکی اور بدترین قسم کے سنگین جرائم کی آماہ جگاہ بنی ہوئی ہے۔کیا وجہ ہے کہ آج مغرب کے اولڈہوسز میں بوڑھے والدین کی آنکھیں اُن کے خاص تہواروں کے مواقع پر بھی اپنی اولاد کو دیکھنے کو ترستی ہیں،کیا وجہ ہے کہ آج اُن کی ہر صبح پیام ِ ماتم لے کے آتی ہے اور ہر شام شام ِ غم ثابت ہوتی ہے۔اور یہ جو روزِ بد اُنہیں آج دیکھنے پڑرہے ہیں ،یہ جو اندھیروں اور گھٹائوں نے اُن کی امیدوں کو تلپٹ کرکے رکھدیا ہے ،یہ دراصل وہی ’’روشن خیالی‘‘ہے جس ’’روشنی ‘‘میں انہوں نے اپنی اولاد کو پالا پوسا اور نتیجہ کے طور پر آج بھیانک اندھیرے ساتھ ہی نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔خود مشرق بھی اس وبا کی لپیٹ میں آرہا ہے جہاں خاندانوں کی اہمیت اور جہاں والدین کے تئیںبچوں کی اطاعت و محبت کی مثالیں زباں زد خاص و عام تھیں ،اب یہاں بھی معاملہ الٹا نظر آرہا ہے اور یہاں بھی مغربی فسوں کاری اور اس بد تہذیب ،تہذیب نے ہماری تہذیبی روایات کی حسین محل کی اینٹ اینٹ کو ٹوٹ پھوٹ کرکے رکھدیا ہے ،یہاں بھی اولاد کی ماں باپ سے فاصلے بڑھ رہے ہیں ،دوریاں عروج پہ ہیں اور اس تعلق سے کچھ ایسے واقعات بھی منظر عام پہ آرہے ہیں جو ہوش رباء بھی ہیں اور لرزہ خیز بھی۔ان کربناک اور اندوھناک حالات کو اب بھی بدلا جاسکتا ہے ،اب بھی رشتے اپنی اہمیت منواسکتے ہیں اور آج بھی یہ زمین رشک اِرم بن سکتی ہے اگر اسلام کے حیات آفرین پیام کو اس حوالہ سے عام کیا جائے۔اولاد کی جانب چھوٹی عمر سے ہی متوجہ رہا جائے ،اُس کے اخلاق و عادات ،خصائل و اطوار ،اُس کی مجلس احباب پر گہری نظر رکھی جائے ،اُس کے معمولات اور سونے جاگنے کے اوقات کو صرف نظر نہ کیا جائے ۔وہ کب گھر آتا ہے ،کس سے ملتا ہے ،مدرسہ و کالج میں کِن لوگوں کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے ،معمولی جان کر ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ایک دم اگر اُس کے بات کرنے اور لہجہ میں تبدیلی آرہی ہے ۔اس کی کیا وجہ ہے ،وہ اگر گم سُم بیٹھتا ہے تو اس کا سبب کیا ہے ۔اُس کا اگر رشتہ داروں اور ہمسایوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو بات کی بنیاد کیا ہے؟اُس کی آنکھوں کے پپوٹے اگر متورم ہیں تو کارن کیا ہے ؟ان سب باتوں سے اگر والدین کوتاہ چشمی کا مظاہرہ کریں گے تو لازماً نتیجہ بھیانک ہوگا۔ ماں کی ذمہ داری اس حوالہ سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے ،وہ اوروں کی نسبت اپنی اولاد کی خامیوں اور کوتاہیوں سے زیادہ واقف ہوتی ہے لیکن اکثر اس ڈر سے کہ کہیں والد لاڈلے کو ڈانٹے ڈپٹے نا ۔اُسے اصل صورت حال سے بے خبر رکھتی ہے جس کا لازمی نتیجہ پھر بربادی اور بغاوت کی صورت میں ہی آکے رہ جاتا ہے۔یاد رہے یہ اولاد اگر یہاں آپ کے لئے بار گراں بن رہی ہے تو آخرت میں بھی اس کی بغاوت کی سزا والدین کو ہی بھگتنی ہوگی۔اپنے آپ اور اپنے عیال کو جہنم کی آگ سے بچائو کرنے والی قرآنی صدا کیا ہم سُن نہیں رہے ہیں اور کیا سید عالم ؐکا یہ ارشاد مقدس بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے عہد برآ ہونے پر آمادہ نہیں کرتا کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اُس کی رعیت کے بارے سوال کیا جائے گا ۔امام ذمہ دار ہے اور اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے ۔آدمی ذمہ دار ہے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہ ہے۔عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے (بخاری)یہ پیدائش کے روز سے پورے تسلسل کے ساتھ بچہ کی تربیت کے حوالہ سے ہدایات بس کیا یوں ہی ہیں۔اسے توحید سے آگاہ کرنا ،اس کا عقیقہ کرنا اور جب زبان کھولے تو یہ کلمہ لااِلہٰ الااللہ سے کھلے یہ ہدایات اسی بات پر کیا دال نہیں ہیں کہ اسلام اس نو مولود اور معاشرے کے اس نئے فرد کی تربیت کے حوالہ سے کتنا حساس ہے۔امام ابن قیم فرماتے ہیں:کہ اس سے بچے کے کان اللہ کی ذات اور وحدانیت سے آشنا ہوجاتے ہیں گویا دنیا میں دخول و خروج اسی کلمہ کے ساتھ ہو۔لازم ہے کہ جب یہ کلمہ ساری زندگی اس کے معانی اور روح کے ساتھ بچہ سمجھ کر اس پر عامل ہو تو پھر اس سے ہمیشہ خیر کی ہی توقع کی جاسکتی ہے ۔بچے کے ہاتھوں سے خیر کے کاموں میں انفاق اور خرچ کراوکہ یہ بات اس کی سرشت میں داخل رہے گی اور آئندہ تمہارے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہوگا ۔
حضرت عمرؓکے پاس ایک شخص اپنے بیٹے کو لایا کہ وہ اس کا ادب و احترام ہی نہیں کرتا ،اس کی مانتا ہی نہیں ،من مانیاں کرتا پھرتا ہے ۔سیدنا عمر ؓ نے اس حوالہ سے لڑکے سے سوال کیا تو بچہ بولا ،کیا میرے (یعنی اولادکے)فرائض ہی ہیں یا حقوق بھی ہیں؟ سیدنا عمرؓ بولے :ہاں۔اولاد کے حقوق بھی ہیں کہ اچھی اولاد کے لئے اچھی بیوی کا انتخاب کرے،اس بچے نے کہا کہ میرے والدنے ایک حبشی عورت سے شادی کردی۔اس کے باپ نے سُن کر کہا کہ اے حبشن کے بچے ! تو اس بچے نے جواب دیا کہ وہ حبشن آپ سے بہتر ہے کہ اس نے اچھے خاوند کا انتخاب توکیا ہے لیکن آپ نے درست بیوی منتخب نہیں کی ہے ۔پھر بچے نے اپنے مزید شوق کے بارے میں سیدنا عمرؓ سے پوچھا ، فرمایاکہ پیدائش پر اچھا نام رکھنا ،بچے نے کہا کہ اس نے میرا نام ’’بجو‘‘رکھا ہے ۔سیدنا عمر ؓ پھر حیران ہوئے ،بچے نے پھر سوال کیا اور کیا فرائض ہیں تو فرمایا کہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا اور اچھی صحبت میں رکھنا ،اس نے بتایا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ،اس نے مجھے چرواہوں میں چھوڑ دیا ہے ،جو کچھ اُن سے سُنتا ہوں وہ کرتا ہوں ۔سیدنا عمرؓ نے یہ روداد سُنی ،خفا ہوئے اور باپ سے ناراض ہوکر اُسے یہ پیغام دے گئے کہ تم درست تربیت نہیں کررہے ہو ۔بچہ کبھی بد اخلاقی پہ اُتر آئے ،کسی دوست ہمسایہ یا رشتہ دار کو اپنی بد کلامی سے زخمی کرے ،دوش تو والدین کا ہی ہے نا۔اس لئے اخلاق کو سب سے بہتر توشۂ اولاد کے لئے قرار دیتے ہوئے سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی دولت نہیںبخشی ‘‘۔[ترمذی]
جھوٹ تو بہر حال گناہ ہے ۔اپنی اولاد کے سامنے نہ صرف یہ کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتراز نہیں کرتے بلکہ اب تو فخراً دن بھر کے مشاغل کے دوران ہوچکی کذب بیانیوں کا مزے لے لے کر تذکرہ کرتے ہوئے اس کے ذریعہ دنیا کے حصول کے ’’گُر‘‘اپنی اولاد کو سکھانے کا ہلاکت خیز کام کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ۔نتیجہ کے طور پر یہ بیماری بھی اُس میںسرایت کرجاتی ہے ،اوروں کو اُس کا دروغ اور جھوٹ کتنا نقصان پہنچائے وہ تو الگ لیکن یاد رکھئے آئے روز اُس کے کتنی ہی کذب بیانیوں کے شکار ہوکر ہم خو د نہ جانے کس کس نقصان کے شکار ہوکے رہ جائیں گے۔دیکھئے سیرت کے اس واقعہ میں ہمارے لئے کتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں ،حضرت عبداللہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ،تو میری والدہ نے مجھے اپنے پاس بلا کر کہا ،آمیں تجھے ایک چیز دیتی ہوں تو اُس نے مجھے ایک چھو ہارا دے دیا ۔سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ سے فرمایا کہ اگر تم کچھ نہیں دیتی تو ایک جھوٹ تمہارے کھاتے میں لکھا جاتا ۔اپنی اولاد کی بہتر تربیت کے لئے ضروری ہے کہ اسے حدیث نبویؐ کی روشنی میں سات سال کی عمر میں نماز کا حکم کرلو اور دس سال کی عمر میں اگر وہ نماز نہ پڑھیں تو مار کر نماز پڑھائو اور بسترالگ کرلو۔غرض تربیت اولاد کے اسلامی اصولوں کو اپنایا جائے۔تو پھر اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے خود سے مٹ جائیں گے اور دنیا رشک ِ گلزار ِارم بن جائے گی۔
رابطہ ۔7006055300