ڈاکٹر عریف جامعی
امّت کے لغوی معنی ’’گروہ، پیرو، تابع یا قوم‘‘ کے ہیں۔ تاہم اصطلاحی اعتبار سے امّت ’’ایسے افراد کے مجموعے کو کہتے ہیں جن میں دین، وقت، یا جگہ کی کوئی بنیاد مشترک ہو۔‘‘ قرآن لفظ امّت کو مدت کے معنی میں بھی استعمال کرتا ہے، جیسے: ’’اور اگر ہم ان سے گنتی کے دنوں تک (یا مقررہ مدت تک) عذاب کو مؤخر کر دیں۔‘‘ (ہود۔ ۸) امّت کو سورۂ یوسف کی ایک آیت میں بھی میعاد کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے: ’’اور (اس وقت) وہ شخص بولا جو بچ گیا تھا دونوں میں سے اور ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا کہ میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتاؤں گا، پس مجھے (قیدخانہ تک) جانے دیجئے۔‘‘ (یوسف۔ ۴۵)
اس لفظ کو قرآن میں طریقۂ کار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے: ’’اور (اے نبیؐ !) اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کو مگر اس کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقشِ قدم کی اقتداء کر رہے ہیں۔‘‘ (الزخرف۔ ۲۳) یہ لفظ لوگوں کے ہجوم (بھیڑ) کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے: ’’اور جب وہ مدين کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے۔‘‘(القصص۔ ۲۳) یہ لفظ قوم کے ایک حصے کو بھی ظاہر کرتا ہے: ’’اور موسٰی کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (الاعراف۔ ۱۵۹) غرض، لفظ امّت کو قرآن نے مختلف پیرایوں میں استعمال کیا ہے۔ گروہ کے معنی میں اس لفظ کی اتنی وسعت ہے کہ پرندوں کے گروہ (غول، ڈار) اور چرندوں کے جھنڈ (گَلہ، ریوڑ) کو بھی امّت کہا گیا ہے: ’’اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں، مگر یہ کہ وہ سب تمہاری ہی طرح کی امّتیں ہیں۔‘‘ (الانعام۔ ۳۸)
قرآن نے ہر پیغمبر کی قوم کو امّت قرار دیا ہے: ’’بیشک ہم نے آپ کو حق و ہدایت کے ساتھ، خوشخبری سنانے والا اور (آخرت کے متعلق) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امّت (ایسی) نہیں مگر اُس میں (آخرت سے) کوئی (نہ کوئی) ڈرانے والا (ضرور) گزرا ہے۔‘‘ (فاطر۔ ۲۴) پیغمبر کے مخاطبین دعوت قبول کریں یا نہ کریں، وہ ایک جماعت ہونے کی وجہ سے امّت ہی کہلائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ارشاد ہے: ’’اگر تم نے پیغمبرِ برحق کو جھٹلا دیا تو کچھ عجیب نہیں، کیوں کہ تم سے پہلے کی امّتوں نے بھی اپنے زمانے کے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔‘‘(العنکبوت۔ ۱۸) یہی وجہ ہے کہ علماء ماننے والوں اور انکار کرنے والوں، دونوں کو پیغمبر کی امّت میں شامل سمجھتے ہیں: ’’الأمۃ جماعۃ أرسل الیھم رسول سواء آمنوا أو کفروا‘‘ امّت ایسی جماعت (ہوتی) ہے جس کی طرف رسول بھیجا جاتا ہے، چاہے وہ ایمان لائے یا نہ لائے۔‘‘ (تاج العروس) تاہم یہاں یہ فرق ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے کہ ’’ماننے والی جماعت ‘‘کو ’’امّت اجابت‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ ’’نہ ماننے والے گروہ ‘‘کو ’’امّت دعوت‘‘ کہا جاتا ہے۔ عربی لغت و گرامر کے ایک بڑے ماہر، ابو اسحٰق زجاج (۸۵۷۔۹۲۳) نے ’’کان الناس أمۃ واحدۃ‘ لوگ ایک ہی امّت تھے۔‘‘(البقرہ۔ ۲۱۳) کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے، کانوا علیٰ دین واحد۔‘‘ (تاج العروس)
واضح رہے کہ آدم علیہ السلام کے بعد مدت دراز تک انسان توحید پر قائم رہا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے توحید کو چھوڑ کر شرک اور الحاد کا راستہ اختیار کیا۔ اس لئے جب ابراہیم ؑ نے تنہا توحید کی مشعل لیکر شرک کے اندھیروں کا خاتمہ کیا، تو آپ کو اکیلے امّت قرار دیا گیا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ آپ نے ایک طرف توحید کی ایک طرح سے بازیافت کی اور دوسری طرف موحدین کی ایک ایسی جماعت کی بنیاد ڈالی جو آج چار ہزار سال بعد بھی مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کو بڑے شاندار انداز میں بیان کیا ہے: ’’بیشک ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امّت تھے، اللہ کے اطاعت گزار، باطل سے مجتنب، اور (وہ) مشرکین میں سے نہ تھے۔‘‘ (النحل۔ ۱۲۰)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خود بھی اس بات کا احساس تھا۔ اسی لئے آپ نے اپنی قائم کردہ امّت توحید کے تسلسل کے لئے کچھ اس طرح دعا فرمائی: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی امّت پیدا فرما، جو تیری ہی فرمانبردار ہو۔‘‘ (البقرہ۔ ۱۲۸) رسول اللہ ؐنے بحیثیتِ خاتم النبیین یہی امّت توحید ابراھیمی یا پیغمبرانہ خطوط پر قائم فرمائی۔ اسی امّت کو خیرِ امّت کا خطاب دیا گیا: ’’تم بہترین امّت ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘(آل عمران۔ ۱۱۰) چونکہ اس امّت کو دعوت حق کی ذمہ داری قیامت تک نبھانا پڑے گی، اس لئے اسے ’’امّت وسط ‘‘کا لقب بھی دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ امّت اللہ کے دین اور اللہ کی مخلوق (انسانوں) کے درمیان میں رہ کر دعوت دین کا فریضہ انجام دیتی رہے گی: ’’اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امّت بنادیا، تاکہ تم گواہ بنو لوگوں کے اوپر، اور رسول گواہ بنے تمہارے اوپر۔‘‘(البقرۃ، ۱۴۳)
تاہم خود سیدنا ابراہیم ؑ نے خدا کے اذن سے عظیم جدوجہد کرکے جو امّت استوار کی، وہ کسی بھی صورت میں کوئی نئی جماعت نہیں تھی۔ اس کے برعکس یہ اسی امّت کی ایک طرح سے بازیافت تھی جو سیدنا آدم ؑنے قائم فرمائی تھی، اور جسے تمام پیغمبران کرامؑ نے مستحکم فرمایا تھا۔ اس حقیقت کو قرآن نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے: ’’یہ تمہاری (یعنی پیغمبروں کی) امّت ہے، جو حقیقت میں ایک ہی امّت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں؛ پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (الانبیاء۔ ۹۲) یعنی زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود اگر امّت میں یگانگت ہے، تو وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ اس امّت کے متبعین کو ایک خدا کے تصور (یعنی توحید) نے آپس میں جوڑ کے رکھا ہے۔ اس یگانگت اور یکتائی کا اظہار اس صورت میں ہورہا ہے کہ اس امّت میں شامل سبھی لوگ صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور (خاص) تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘ (الفا تحہ۔ ۴)
صرف ایک خدا کی عبادت اور فقط ایک خدا سے استعانت ہی دراصل وہ دین ہے جسے ’’دین ابراہیم‘‘ کہا جاتا ہے، اور یہی وہ طریقۂ کار (ملّت) ہے جسے ’’ملّت ابراہیم‘‘ کا نام دیا گیا ہے: ’’اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہوکر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی، اس ابراہیم کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔‘‘ (النساء۔ ۱۲۵) یعنی ابراہیمؑ کی ملّت (طریقۂ کار) ہی انسان کو ’’خلعت خلیلی‘‘ کا مستحق ٹھہرا سکتی ہے اور یہی اس کی پیشانی کو ’’نور توحید‘‘ سے منور کرسکتی ہے۔ اسی ملّت کی پیروی اس بات کی ضمانت ہے کہ انسان توحید کا علمبردار بن کر انسانیت کی راہوں کو روشن کرسکے۔ یہی رب تعالیٰ کی فرمانبرداری کی کامل ترین صورت ہے: ’’اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم کی ملّت پر قائم رہو۔ اس نے تمہارا نام پہلے بھی ’’مسلمان‘‘ رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (یہی نام رکھا ہے)، تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمہارا کارساز ہے؛ پس کتنا ہی بہترین کارساز ہے اور کتنا ہی بہترین مددگار ہے۔‘‘ (الحج۔ ۷۸)
اعتصام باللہ کا یہی طریقۂ کار انسان کو حنیفیت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یعنی انسان یکسو ہوکر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف رخ کرتا ہے اور ماسوا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر یہی رویہ اسے خدا کا پکا مسلم بنا دیتا ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے مسلم ہونے کا اعلان کچھ اس طرح سے فرمایا ہے: ’’میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ (الانعام۔ ۷۹) اور ’’اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔‘‘ (الانعام۔ ۱۶۳)
صاف معلوم ہوتا ہے کہ امّت مسلمہ کے لئے ملّت ابراھیم کا تتبع نہایت ضروری ہے۔ یعنی ابراہیم ؑ کے طریقۂ کار کی پیروی کے بغیر کسی کے مسلم ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کے لئے سیدنا ابراہیمؑ کے سیرت و کردار کو ایک ’’بہترین نمونہ‘‘ (اسوہ حسنہ) قرار دیا گیا ہے۔ تاہم جہاں پر شرک یا اہل شرک کی طرف کوئی ادنیٰ سی رعایت ملتی ہوئی نظر آتی ہو، وہاں پر کسی مداہنت سے کام نہیں لیا جائے گا۔ قرآن کے الفاظ میں: ’’(مسلمانو!) تمہارے لئے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ، ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی۔ لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ (الممتحنہ۔ ۴)
تاہم نبیؐ کے ذریعے دین کی تکمیل کے بعد اب قیامت تک آپ ؐکا طریقۂ کار ہی امّت کے لئے ’’کامل ترین نمونہ‘‘ ہے۔ اس لئے ایک موحد کو نہ صرف اپنی موحدانہ شناخت قائم رکھنا ہے، بلکہ اسے تمام تر کارگزاریوں کا رخ آخرت کی طرف رکھنا ہوگا۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے، جب وہ اپنے رب کو کثرت کے ساتھ یاد کرتا رہےـ قرآن کے الفاظ میں: ’’بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول کی ذات میں (پیروی کے لئے) بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو۔‘‘ (الاحزاب۔ ۲۱) اللہ تعالیٰ کے آخری رسولؐ نے دین کی تکمیل کے لئے نہ صرف یہ کہ ملّت ابراہیم کی پیروی کی، بلکہ آپؐ نے حکمت، اچھی وعظ و نصیحت اور بہترین طریقے سے بحث کرکے اپنے مخاطبین تک دین کی دعوت پہنچائی۔ (النحل۔ ۱۲۵) ظاہر ہے کہ نبیؐ کی اس دعوت میں شرق و غرب کا امتیاز تھا اور نہ ہی رنگ و نسل کی کوئی فریق موجود تھی۔ اس دعوت کی بنیاد فقط یہ تھی کہ داعی نیکوکار مسلم ہو۔ یہی اوصاف ملّت ابراہیم یا امّت مسلمہ کے اجزائے ترکیبی رہے ہیں: ’’اور اس سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘(حٰم السجدہ۔ ۳۳)
(مضمون نگار محکمۂ اعلیٰ تعلیم، جموں و کشمیر میں اسلامک اسٹڈیز کے سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ۔ 9858471865