ڈاکٹر شگفتہ خالدی
چند دن قبل جے کے بی او ایس ای(JKBOSE)کی طرف سے 10ویں اور 12ویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہوا۔ یہ نتائج طلبہ و طالبات کی محنت، والدین کی قربانی اور اساتذہ کی رہنمائی کا ثمر ہیں۔ اس سال کامیابی کے اعداد و شمار میں خاص بہتری دیکھی گئی ہے۔ والدین، اساتذہ اور جنہوں نے اپنی محنت اور لگن دکھائی، ان سب نے طلاب کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔اس سے پہلے حکومتی احکام کے مطابق یہ اعلان جنوری کے دوسرے ہفتے میں جاری کیے جانے کا عندیہ دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اطلاع آئی کہ جب تک جے کے بوس کے چیئرمین عہدے پر باقاعدہ شامل نہیں ہوں گے، نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔اس دوران طلبہ اور طالبات کے ذہنی دباؤ اور خدشات کو عوامی سطح پر اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ حکومت اور متعلقہ ادارے طلبہ کی پریشانی کو سنجیدگی سے لیں۔ طلبہ کی مشکلات اور تشویش کو سامنے لانے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ نتائج 14 جنوری کو عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔اس اعلان کے بعد کامیاب طلبہ اور طالبات کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ اس سال خاص طور پر لڑکیوں نے شاندار نمبرز حاصل کئے ہیں جو کہ قابل فخر ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ محنت، لگن اور استقامت کے ذریعے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ البتہ طلاب، خاص طور پر طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم اور ہر شعبے میں موجودہ چیلنجز اور شریر دور میں خبردار رہیں تاکہ وہ ہر حالات میں اپنے حق اور علم کی حفاظت کر سکیں۔جو طلبہ اس بار کامیاب نہیں ہو سکے، انہیں حوصلہ دیا جاتا ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ ناکامی یہ ظاہر نہیں کرتی کہ آپ قابل نہیں ہیں بلکہ یہ صرف اشارہ ہے کہ تھوڑی سی زیادہ محنت اور حکمت کے ساتھ آپ اگلی بار کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ والدین بھی اپنے بچوں کی تعلیم میں مکمل قربانی دیتے ہیں اور اساتذہ کی رہنمائی اور محنت کے بغیر طلبہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ والدین اور اساتذہ کی محنت اور قربانی کا اثر صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی انہیں فخر اور اجر دلانے والا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ ہر سطح پر کامیابی حاصل کر سکیں اور والدین کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں باعث فخر بنیں۔تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ بہترین ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ خاص طور پر کمزور اور معاشی طور پر پسماندہ طلبہ کو زیادہ توجہ دی جائے تاکہ وہ بھی معیاری تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔ اسی طرح، کوچنگ سینٹرز اور دیگر تعلیمی اداروں میں استاد اور استادہ کی رہنمائی اور نگرانی بھی یقینی بنائی جائے۔ استاد کا مقام بلند اور باعزت ہوتا ہے اور یہ معیار ہر وقت برقرار رہنا چاہیے۔
طلبہ کی تعلیم و تربیت میں استاد کا کردار نہایت اہم ہے اور اس کا احترام ہر سطح پر کیا جانا چاہیے۔ استاد نہ صرف علم دینے والا ہوتا ہے بلکہ طلبہ کے کردار سازی اور شخصیت کی تعمیر میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح والدین کی محنت اور قربانی طلبہ کی کامیابی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ والدین اور اساتذہ دونوں کی رہنمائی اور محنت طلبہ کے لیے مثال ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ کامیابی محنت، لگن اور قربانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ ضروری ہے کہ طلبہ، خاص طور پر طالبات، موجودہ دور کی مشکلات اور چیلنجز سے آگاہ رہیں۔ آج کا دور بہت سی آزمائشوں اور چیلنجز سے بھرا ہوا ہے اور طالبات کو چاہیے کہ وہ ہر شعبے میں محتاط اور خبردار رہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم اور مستقبل کو محفوظ رکھ سکیں۔ طلبہ اور طالبات نے اس سال بہتر کارکردگی دکھائی۔ طالبات کو خاص طور پر چاہیے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے دین، اخلاق، نماز اور قرآن کی پابندی کریں۔ دنیا میں شیطانی صفات رکھنے والے لوگ ہر جگہ نظر رکھتے ہیں، اس لیے خبردار رہنا ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کی رہنمائی سے ہر چیلنج پر قابو پائیں۔ یقیناً محنت، لگن اور دینی رہنمائی سے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گی۔