طارق علی میر
ان دنوں سوشل میڈیا، خصوصاً فیس بک پر ایک جملہ بار بار نظر آتا ہے:
“We spend billions of dollars to find life on other planets and trillions of dollars killing the life on this one.”
یہ جملہ محض ایک فقرہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک گہری اخلاقی الجھن کا آئینہ ہے۔ اس میں انسان کی ترقی، اس کے خواب اور اس کے تضادات سب ایک ساتھ سمٹ آئے ہیں۔
ایک طرف انسان چاند اور دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ خلائی مہمات، جدید دوربینیں، خلائی جہاز اور سائنسی تجربہ گاہیں سب اسی امید میں مصروف ہیں کہ کائنات کے کسی گوشے میں زندگی کا کوئی نشان مل جائے۔ گویا زندگی کی تلاش انسان کی سب سے بڑی آرزو بن چکی ہے۔
لیکن دوسری طرف یہی دنیا ایک عجیب اور تلخ تضاد میں گرفتار دکھائی دیتی ہے۔ وہی طاقتیں جو خلا میں زندگی کی جستجو میں مصروف ہیں، زمین پر زندگی کے چراغ گل کرنے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ جنگیں، میزائل، ڈرون اور تباہ کن ہتھیار ۔ یہ سب اسی زمین پر استعمال ہو رہے ہیں جہاں انسان صدیوں سے اپنے خواب بساتا آیا ہے۔
حالیہ واقعات میں ایران کے ایک اسکول میں معصوم بچوں پر حملے کی خبر نے اس تضاد کو اور بھی کربناک بنا دیا ہے۔ وہ بچے صرف جسمانی طور پر نہیں مارے گئے بلکہ ان کے خواب، ان کی امیدیں اور ان کا مستقبل بھی مٹی میں ملا دیا گیا۔ ایسے میں ایک سوال بے اختیار ذہن میں ابھرتا ہے: آخر انسان، اور خصوصاً امریکہ جیسی بڑی طاقتیں، چاہتی کیا ہیں؟
اگر مقصد واقعی زندگی کی تلاش اور اس کا تحفظ ہے تو زمین پر زندگی کو اس قدر بے دردی سے کیوں روند دیا جاتا ہے؟ اور اگر زمین ہی کو مسلسل زخمی کیا جاتا رہے گا تو پھر دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش کس اخلاقی جواز کے تحت کی جا رہی ہے؟
یہ خیال بھی ذہن میں آتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان اس دنیا کو ناقابلِ رہائش بنا کر کسی اور دنیا میں زندگی بسانے کا خواب دیکھ رہا ہو؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یک رنگی دنیا واقعی کوئی دنیا ہو سکتی ہے؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی نے یکسانیت مسلط کرنے کی کوشش کی، اس کا انجام تنہائی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ زندگی کا اصل حسن اس کے تنوع میں ہے — مختلف قومیں، مختلف زبانیں، مختلف رنگ اور مختلف خواب۔
اگر زمین پر زندگی کو ہی ختم کر دیا جائے تو چاند یا کسی اور سیارے پر ملنے والی زندگی بھی آخر کس کام کی ہوگی؟ انسان کی اصل آزمائش شاید یہی ہے کہ وہ پہلے اس زمین کو محفوظ بنائے جہاں زندگی پہلے سے موجود ہے۔ کیونکہ جو تہذیب اپنے ہی بچوں کے خوابوں کی حفاظت نہیں کر سکتی، وہ کائنات میں کہیں بھی زندگی پا لے، اس کی معنویت ادھوری ہی رہے گی۔
شاید آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:
ہم زندگی تلاش کر رہے ہیں، یا زندگی کو ختم کر رہے ہیں؟
اسی انسانی المیے کو اردو کی معروف شاعرہ زہرہ نگاہ نے ایک علامتی نظم میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے
تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے
تو کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندا!
جلیل و اماں!
معتبر! دانا و اماں!
بینا! منصف و اماں! اکبر!
مرے اس شہر میں
اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر
کوئی دستور نافذ کر