ندائے حق
اسد مرزا
افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کے زیر۱قتدار آنے کے بعد عالمی سطح پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ طالبان حکومت ملک کی معیشت کو فروغ نہیں دے پائی گی، لیکن ناقدین کو غلط ثابت کرتے ہوئے طالبان نے جس طرح کے معاشی اقدام کئے ہیں اس سے ملک کی معیشت میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مسلسل دو برسوں سے افغان معیشت میں وسعت آ رہی ہے اور اس کے پیچھے دو اہم عوامل، کم افراطِ زر اور بڑھتی ہوئی آمدن کار فرما ہیں۔’ افغانستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ‘ کے نام سے ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان معیشت کو اب بھی آبادی میں تیزی سے اضافے، بڑھتے تجارتی خسارے اور غربت جیسے کئی چیلنجز درپیش ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4.3 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ سنہ 2024 میں افغانستان کی جی ڈی پی 2.5 فیصد تھی۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا کہ افغانستان میں آبادی میں اضافہ، جو 2025 تک تقریباً 6.8فیصد ہوگا، فی کس جی ڈی پی کو تقریباً چار فیصد کم کر دے گا۔عالمی بینک کا کہنا ہے افغانستان میں معاشی پیداوار میں اضافے کی ’سب سے بڑی وجہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 20لاکھ سے زیادہ پناہ گزین ہیں جن سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ خدمات اور صنعتی شعبے میں سرگرمیاں تیز ہوئیں۔‘ اس کے علاوہ افغانستان کے زرعی شعبے نے گندم کی غیر معمولی پیداوار حاصل کی ہے جبکہ کان کنی اور تعمیرات کے شعبے نے بھی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ آبادی میں تیز اضافہ، جو 2025 تک تقریباً 8.6فیصد ہوگا، فی کس جی ڈی پی کو تقریباً چار فیصد کم کر دے گا۔ یاد رہے کہ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق سنہ 2024میں پاکستان کی فی کس جی ڈی پی 1487ڈالر جبکہ سنہ 2023 میں افغانستان کی فی کس جی ڈی پی 413 ڈالر تھی۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افراطِ زر 2025میں اوسطاً دو فیصد رہنے کی توقع ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ اس کی وجہ ’خوراک کی قیمتوں میں استحکام اور قومی کرنسی کی مضبوطی‘ بتائی گئی ہے لیکن عالمی بینک کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے استحکام سے ظاہر ہے کہ افغانستان درآمدات پر زیادہ انحصار کرےگا اور بیرونی معاشی جھٹکوں سے معیشت کمزور ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس کا نظام بہتر ہوا ہے اور اندازہ ہے کہ 2025 تک گھریلو ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 17.1 فیصد تک پہنچ جائیں گے جو سخت قانون نافذ کرنے اور بہتر ٹیکس وصولی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ تاہم غیر ملکی امداد میں کمی نے حکومت کے مجموعی بجٹ کو محدود کر دیا ہے جس کے باعث ملک اب بھی عطیہ دہندگان اور تجارت سے متعلقہ ٹیکسوں پر بھاری انحصار کرتا ہے۔ رپورٹ میں افغانستان کے بینکاری شعبے کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے، جیسے نگرانی میں غیر یقینی صورتحال، بڑھتے ہوئے نادہندہ قرضے اور قرض کے نظام میں سختیاں۔ عالمی بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں نقدی کا بڑا حصہ بینکاری کے نظام سے باہر گردش کر رہا ہے۔
افغانستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر فارس حداد زروس نے کہا ہے کہ ’اگرچہ افغان معیشت میں بہتری کے آثار ہیں لیکن اسے اب بھی سنگین مالی مشکلات کا سامنا ہے اور گھریلو محصولات غیر ملکی امداد میں کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مسائل اس بڑے پیمانے پر پناہ گزین کی واپسی سے مزید بڑھ گئے ہیں جس نے نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت میں موجودہ کمزوریوں کو بڑھا دیا ہے۔‘نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کے لئے ورلڈ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی معاشی شمولیت اور تعلیم پر پابندیاں انسانی وسائل کی ترقی اور مستقبل کی ترقی کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہیں۔
عا لمی بینک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معاشی پیداوار میں اضافے کی ’سب سے بڑی وجہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین ہیں،عالمی بینک کا کہنا ہے کہ افغانستان کو گذشتہ دو دہائیوں میں پناہ گزین کی سب سے بڑی واپسی کا سامنا ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق ’ستمبر 2023سے جولائی 2025 کے درمیان تقریباً 40 سے 47لاکھ افراد ملک واپس آئے ہیں۔‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال نے لیبر مارکیٹ اور عوامی خدمات پر شدید دباؤ ڈالا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں۔عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار معاشی بحالی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، جو ‘نجی سرمایہ کاری کو بڑھائیں، مالی خدمات کو وسعت دیں، برآمدات میں تنوع پیدا کریں اور واپس آنے والے پناہ گزین کو روزگار کے مواقع فراہم کرانے کے لیے استعمال کریں، فارس حداد زروس نے کہا کہ پائیدار روزگار کو ممکن بنانے والی پالیسیاں افغانستان کے بین الاقوامی برادری سے مذاکرات سے جڑی ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مہنگائی کی کم شرح کو بنیادی طور پر مقامی منڈیوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام اور غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے افغان کرنسی کی مضبوطی کو قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ سخت مالیاتی نظم و ضبط، کرنسی کے بہاؤ پر بہتر کنٹرول اور قومی کرنسی میں بڑھتے ہوئے اعتماد نے عام شہریوں کو قیمتوں کے تیز اتار چڑھاؤ سے بچانے میں مدد کی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ میں مبینہ طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی معیشت، بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی کی وجہ سے ابھی تک محدود ہے، لیکن اس میں ایڈجسٹمنٹ اور اندرونی لچک کے آثار ظاہر کئے ہیں۔ یہ قلیل مدتی استحکام میں معاون عوامل کے طور پر بہتر محصولات کی وصولی، بجٹ خسارے میں کمی اورعوامی اخراجات کی سخت نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔مجاہد نے کہا کہ امارت اسلامیہ اس رپورٹ کو مشکل حالات میں معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر دیکھتی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا اور عام افغانوں کی قوت خرید کا تحفظ کلیدی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور آنے والے سالوں میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید کم کرنے کے لیے ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے، زراعت کو سپورٹ کرنے اور درآمدات کے انتظام پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ادھر چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے اطلاع دی ہے کہ افغان حکام نے شمالی صوبہ بلخ میں پیٹرولیم اور گیس کے ڈیلرز کے لیے ایک بڑے تجارتی مرکز کی تعمیر شروع کر دی ہے، صوبائی دارالحکومت مزار شریف میں واقع 5 ایکڑ پر مشتمل کمپلیکس 15 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے سربراہ، سید کریم ہاشمی نے کہا ہے کہ حکومت نے سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول قايم کيا ہے، رپورٹ کے مطابق، تاجر ملک کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے حکام کے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جس طریقے سے طالبان حکومت نے اپنے ناقدین کو غلط ثابت کیا ہے اس ان کی سیاسی اور معاشی سوجھ بوجھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ کچھ غیر جانبدار رپورٹوں کے مطابق افغانستان حکومت نے ملک کے مرکزی علاقے میں آبپاشی کے نظام کو مستحکم کیا ہے، پرانے ناتکمیل شدہ زرعی پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی پر کنٹرول کیا ہے اوردیگر ملکوں کے ساتھ باہمی تجارت کو کافی فروغ دیا ہے، جس کا مجموعی اثر ملک کی معیشت کی شاندار کارکردگی پر پڑا ہے اور اس کے ذریعہ اس کا ثمرہ سب کے سامنے ہے۔
[email protected]