آصف حسین کشمیری
ماہِ رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے نزول کے ساتھ خصوصی نسبت عطا فرمائی۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان کی ظاہری و باطنی تربیت کا مکمل نظام ترتیب دیا گیا تاکہ وہ صرف بھوک اور پیاس کا تجربہ نہ کرے بلکہ اپنے نفس کو پاکیزگی، فکر کو بالیدگی اور روح کو تقویٰ کے نور سے منور کرے۔ قرآنِ مجید اور رمضان کا تعلق محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فکری و اخلاقی انقلاب کا پیغام ہے جو فرد سے لے کر معاشرے تک ہر سطح پر اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
رمضان کا بنیادی مقصد انسان کو خود احتسابی کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خواہشات پر قابو پانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب انسان صبح سے شام تک حلال چیزوں سے بھی رُک جاتا ہے تو اس کے اندر حرام سے بچنے کی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی ضبطِ نفس اصل اصلاحِ نفس ہے۔ قرآنِ مجید بار بار تقویٰ کی تلقین کرتا ہے اور رمضان اس تقویٰ کو عملی شکل دینے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے معمولات پر نظرِ ثانی کرتا ہے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور ایک نئی زندگی کا عہد کرتا ہے۔
قرآنِ مجید کی تلاوت رمضان کی روح ہے۔ یہ صرف زبان سے پڑھی جانے والی کتاب نہیں بلکہ دل و دماغ کو بدل دینے والا پیغام ہے۔ افسوس کہ ہم اکثر قرآن کو رسم کے طور پر پڑھتے ہیں مگر اس کے معانی اور پیغام پر غور نہیں کرتے۔ رمضان ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں اور اس کی روشنی میں اپنے کردار کی تعمیر کریں۔ قرآن انسان کو سچائی، عدل، صبر، شکر اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی بھی قوم کو زندہ اور باوقار بناتی ہیں۔
رمضان کا ایک عظیم پہلو فکری انقلاب ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سوچنے کا نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔ ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہماری ترجیحات درست ہیں؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کا کردار اور اس کی نیت ہے، نہ کہ دولت اور طاقت۔ جب یہ شعور پیدا ہوتا ہے تو انسان کے اندر انقلاب آتا ہے۔ وہ خود غرضی سے نکل کر ایثار کی طرف آتا ہے، نفرت سے نکل کر محبت کی طرف بڑھتا ہے اور ظلم سے نکل کر عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
رمضان روحانی تربیت کا مہینہ بھی ہے۔ نماز، تلاوت، ذکر، دعا اور صدقہ و خیرات اس مہینے کی بنیادی عبادات ہیں۔ یہ عبادات انسان کو اللہ سے جوڑتی ہیں۔ جب دل اللہ کی یاد سے آباد ہوتا ہے تو گناہوں سے نفرت اور نیکی سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہی روحانی تربیت انسان کو مضبوط بناتی ہے۔ آج کے مادہ پرستانہ دور میں انسان ذہنی بے چینی، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہے۔ رمضان اس کے لیے سکون اور اطمینان کا پیغام ہے کیونکہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہے۔رمضان ہمیں معاشرتی اصلاح کا درس بھی دیتا ہے۔ روزہ دار بھوک اور پیاس کا احساس کر کے غریبوں اور محروموں کے درد کو سمجھتا ہے۔ یہی احساس اسے سخاوت اور ہمدردی کی طرف مائل کرتا ہے۔ صدقہ و زکوٰۃ کا نظام معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر رمضان کے پیغام کو صحیح معنوں میں اپنایا جائے تو غربت، ناانصافی اور نفرت میں کمی آ سکتی ہے۔ قرآن ہمیں بھائی چارے، مساوات اور عدل کا سبق دیتا ہے اور رمضان ہمیں اس سبق کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بدقسمتی سے آج ہم نے رمضان کو صرف کھانے پینے کے اوقات بدلنے تک محدود کر دیا ہے۔ بازاروں میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے، افطار دسترخوان اسراف کی علامت بن جاتے ہیں اور عبادت کی روح کہیں کھو جاتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان نمائش کا نہیں بلکہ سادگی اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ قرآن ہمیں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں بھی فضول خرچی اور بے اعتدالی کا شکار رہیں تو ہم رمضان کے اصل مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔رمضان نوجوان نسل کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب نوجوان اپنے کردار کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ قرآن انہیں علم، شعور اور ذمہ داری کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر نوجوان رمضان میں قرآن سے جڑ جائیں، اس کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں تو وہ نہ صرف خود سنور سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بدل سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی اصلاح دراصل قوم کی اصلاح ہے اور رمضان اس اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔رمضان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں اجتماعی نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کی تربیت دیتا ہے۔ ایک ہی وقت میں سحر کرنا، ایک ہی وقت میں افطار کرنا، ایک ہی صف میں نماز ادا کرنا اور ایک ہی قرآن سننا دراصل ہمیں اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ جب ایک فرد بدلتا ہے تو ایک گھر بدلتا ہے، جب گھر بدلتا ہے تو محلہ بدلتا ہے اور یوں پورا معاشرہ سنورنے لگتا ہے۔رمضان میں کی جانے والی دعائیں انسان کو عاجزی سکھاتی ہیں۔ دعا دراصل اپنے کمزور ہونے کا اعتراف اور اللہ کی عظمت کا اقرار ہے۔ یہی کیفیت انسان کے اندر انکساری اور تواضع پیدا کرتی ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے اور مٹی ہی میں واپس جانا ہے۔رمضان ہمیں اخلاقی تربیت کا بھی درس دیتا ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، غیبت، حسد، نفرت اور بدزبانی سے رکنے کا نام بھی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں اپنی زبان، آنکھ اور دل کی حفاظت سیکھ لیں تو یہی تربیت ہماری پوری زندگی کو سنوار سکتی ہے۔رمضان کا تعلق صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ بازار، دفتر اور گلی کوچوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک سچا روزہ دار وہ ہے جو کاروبار میں دھوکہ نہ دے، تول میں کمی نہ کرے اور کسی کا حق نہ مارے۔ قرآن ہمیں واضح پیغام دیتا ہے کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ معاملات کی پاکیزگی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر کی مشق بھی کرواتا ہے۔ بھوک، پیاس اور تھکن کے باوجود انسان اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے۔ یہی صبر زندگی کے ہر امتحان میں کام آتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر ہے۔ رمضان ہمیں عملی طور پر صبر کا مفہوم سمجھاتا ہے تاکہ ہم مشکل حالات میں گھبراہٹ کے بجائے حوصلہ اور اعتماد کا راستہ اختیار کریں۔رمضان کی راتیں ہمیں اللہ کے قریب کر دیتی ہیں۔ قیام اللیل، تلاوتِ قرآن اور خاموش دعائیں انسان کے دل کو پاک کر دیتی ہیں۔ ان راتوں میں انسان خود سے بات کرتا ہے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور بہتر بننے کا عزم کرتا ہے۔ یہی لمحے انسان کی زندگی کے سب سے قیمتی لمحے ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان راتوں کو موبائل فون اور فضول مشاغل میں ضائع کریں تو یہ ہماری اپنی محرومی ہوگی۔بالآخر یہ کہنا درست ہوگا کہ رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی درسگاہ ہے۔ یہاں انسان کو فکر کی درست سمت ملتی ہے، کردار کی اصلاح ہوتی ہے اور روح کو غذا ملتی ہے۔ قرآن ہمیں جو راستہ دکھاتا ہے، رمضان ہمیں اس راستے پر چلنے کی عملی مشق کرواتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے کو سنجیدگی سے گزاریں تو ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو عارضی جوش کے بجائے مستقل تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔
(رابطہ ۔9797888975)