شری پیوش گوئل
اسٹارٹ اپ انڈیا اقدام پورے ملک میں ایک جامع اور اختراعی ماحولیاتی نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو نوجوانوں کی کاروباری توانائی کو مؤثر سمت دے کر روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کر رہا ہے۔ یہ اقدام معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وکست بھارت 2047کے وژن کی تکمیل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
آج بھارت دنیا کے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک کا حامل ہے۔ موجودہ دور میں کاروباری سرگرمی ایک ہمہ گیر قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو بھارت کے معاشی منظرنامے کو نئی صورت دے رہی ہے اور ترقی و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک نیا محرک بن رہی ہے۔
یہ تبدیلی ایک رات میں واقع نہیں ہوئی۔ جب وزیرِ اعظم نے 2015میں یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے اسٹارٹ اپ انڈیا کا اعلان کیا، تو انہوں نے ایک واضح اور بلند حوصلہ وژن پیش کیا کہ ملک کے ہر ضلع اور ہر بلاک میں کاروباری سوچ کو فروغ دیا جانا چاہیے۔اسٹارٹ اپ انڈیا نے صنعت و اندرونی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی جانب سے 16 جنوری 2016کو باضابطہ آغاز کے بعد ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ آج اسٹارٹ اپس معیشت کے کئی نہایت اہم شعبوں میں نئی توانائی بھر رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات، صحت اور لائف سائنسز، تعلیم، زراعت اور تعمیرات ایسے شعبے ہیں جہاں اسٹارٹ اپس کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔
آب و ہوا سے متعلق ٹیکنالوجی (کلائمیٹ ٹیک) اور بنیادی ڈھانچے سمیت 50سے زائد دیگر صنعتوں میں بھی نئے کاروباری منصوبے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ یہ وسعت مختلف شعبوں میں جدت اور مضبوطی کی عکاس ہے، بالخصوص ان شعبوں میں جو قومی ترقی کی ترجیحات کے لیے نہایت اہم ہیں۔
جدت اور مصنوعی ذہانت:گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک نمایاں تبدیلی یہ رہی ہے کہ جدت طرازی اور ڈیپ ٹیکنالوجی پر توجہ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ عالمی جدت طرازی اشاریہ (گلوبل انوویشن انڈکس) میں بھارت کی درجہ بندی 2015میں 81ویں نمبر سے بہتر ہو کر گزشتہ برس 38ویں نمبر تک پہنچ گئی ہے اور ڈیپ ٹیک منصوبوں کے لیے حکومتی تعاون سے اس میں مزید بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کے ڈیجیٹل انڈیا اقدام کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت سے متعلق اسٹارٹ اپس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ڈیپ ٹیک پر مبنی قوم کی تعمیر کے وزیرِ اعظم کے وژن کے تحت انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا ہے اور انڈیا اے آئی مشن کے ساتھ ساتھ ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ بھارت کے اسٹارٹ اپس ہوابازی، خلائی سائنس اور دفاع، روبوٹکس، گرین ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور سیمی کنڈکٹرز سمیت کئی دیگر شعبوں میں بھی جدت طرازی کر رہے ہیں۔
دانشورانہ املاک کے شعبے میں تیز رفتار اضافہ اس رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ بھارتی اسٹارٹ اپس نے 16,400سے زائد نئیں پیٹنٹ درخواستیں جمع کروائی ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ اب توجہ زیادہ تر اصلی جدت طرازی، طویل مدتی اقدار کی تخلیق اور عالمی سطح پر مسابقت پر مرکوز ہو گئی ہے۔
ملک گیر ترقی:اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے پورے بھارت میں مضبوط معاونت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ 2016 میں صرف چار ریاستوں کے پاس اسٹارٹ اپ پالیسی تھی، لیکن آج بھارت میں 30 سے زائد ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے مخصوص اسٹارٹ اپ فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس موجود ہیں، جو ادارہ جاتی حمایت اور مقامی سطح پر شمولیت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اب تک 2 لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس کو تسلیم کیا جا چکا ہے، جو ایک دہائی کی مسلسل، پالیسی کی قیادت میں ماحولیاتی نظام کی ترقی کی عکاس ہے۔ صرف 2025 میں ہی 49,400 سے زائد اسٹارٹ اپس کو تسلیم کیا گیا، جو اسٹارٹ اپ انڈیا کے آغاز کے بعد سالانہ سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
شمولیت اس سفر کی بنیاد رہی ہے۔ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمی ایک اہم طاقت کے طور پر ابھری ہے، کیونکہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس میں سے 45 فیصد سے زائد میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر موجود ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً نصف اسٹارٹ اپس غیر میٹرو شہروں میں واقع ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹائر 2 اور ٹائر 3 شہروں کا جدت طرازی اور روزگار پیدا کرنے میں کردار بڑھ رہا ہے۔
مقامی سے عالمی: جیسے جیسے بھارتی اسٹارٹ اپس ترقی کر رہے ہیں، دنیا آہستہ آہستہ ان کی مارکیٹ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر ترقی کے عزائم کو سپورٹ کرنے کے لیے، اسٹارٹ اپ انڈیا نے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری قائم کی ہے۔ 21بین الاقوامی بریجزاور دو اسٹریٹجک اتحاد اب کلیدی معیشتوں میں مارکیٹ تک رسائی، شراکت داری اور توسیع کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جن میں برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سویڈن اور اسرائیل شامل ہیں۔ اب تک 850 سے زائد اسٹارٹ اپس نے ان اقدامات سے فائدہ اٹھایا ہے۔
میرے حالیہ دوروں کے دوران، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ اور اسرائیل میں اسٹارٹ اپس بھارت کے تجارتی وفود کا ایک اہم حصہ تھے۔ یہ مواقع بھارتی جدتطرازی کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں اور ہمارے کاروباری افراد کو ترقی یافتہ معیشتوں میں جدت طرازی اور کاروباری طریقہ کار سے روشناس کراتے ہیں۔
اصلاحات اور بازار تک رسائی: کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا اس ترقی کو ممکن بنانے کا مرکزی عنصر رہا ہے۔ اہل ،اسٹارٹ اپس اپنے پہلے دس سالوں میں مسلسل تین سال کے لیے ٹیکس ہالیڈے(رعایت) کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اب تک 4,100 سے زائد اسٹارٹ اپس کو اہلیت کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ 60 سے زائد ریگولیٹری اصلاحات نے تعمیل کے بوجھ کو کم کیا، سرمایہ جمع کرنے کو آسان بنایا اور ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو مضبوط کیا ہے۔ اینجل ٹیکس کے اختتام اور طویل مدتی سرمایہ جاتی پولز کو متبادل سرمایہ کاری فنڈز کے لیے کھولنا اسٹارٹ اپ فنڈنگ کے ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
مارکیٹ تک رسائی کو ترجیح دی گئی ہے۔ حکومت کی ای-مارکیٹ پلیس کے ذریعے 35,700سے زائد اسٹارٹ اپس کو آن بورڈ کیا گیا ہے، جنہوں نے 5لاکھ سے زائد آرڈرز حاصل کیے، جن کی مالیت 51,200 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
یہ اقدامات مضبوط مالی معاونت کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں۔ اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈ آف فنڈز اسکیم کے تحت متبادل سرمایہ کاری فنڈز نے 25,500کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری کی، جس سے 1,300 سے زائد کاروباری اداروں کو فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ، اسٹارٹ اپس کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت 800کروڑ روپےسے زائد کی بغیر ضمانت والے قرضوں کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
اسٹارٹ اپ انڈیا سیڈ فنڈ اسکیم، جس کی مجموعی لاگت 945 کروڑ روپےہے، اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ پروف آف کانسپٹ، پروٹوٹائپ ڈیولپمنٹ، پروڈکٹ ٹرائلز، مارکیٹ میں داخلے اور کاروباری تجارتی عمل کے مراحل کو آگے بڑھا سکیں۔
ثقافتی تبدیلی:بھارتی اسٹارٹ اپس نے ملک میں ایک اہم ثقافتی تبدیلی کی بنیاد رکھی ہے، جہاں پہلے بچوں کو چند مخصوص شعبوں جیسے سرکاری ملازمت، انجینئرنگ یا میڈیسن میں کیریئر بنانے کی ترغیب دی جاتی تھی، آج بہت سے نوجوان بھارتی شہری نہ صرف ملازمت کے خواہشمند ہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بننے کا عزم رکھتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ بھی کاروباری خواہشات کو احترام اور حوصلہ افزائی کے ساتھ سپورٹ کرتے ہیں۔
بھارت کا اسٹارٹ اپ سفر دراصل ہمارے نوجوان کاروباری افراد پر، پالیسی کی قیادت میں ترقی پراور دنیا کے لیے جدت طرازی کی بھارت کی صلاحیت پر اعتماد کی داستان ہے۔ جیسے جیسے ہم اعتماد کے ساتھ 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، اسٹارٹ اپس خوشحال، شمولیت پر مبنی اور عالمی مسابقت کے حامل بھارت کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرتے رہیں گے۔
(مضمون نگارملک کے مرکزی وزیر تجارت و صنعت ہیں)