جموں//کرناہ کپواڑہ شاہراہ پر ٹنل کی تعمیر کے معاملہ کو لیکر ایک مرتبہ پھر حز ب اقتدار کے ممبران نے اسمبلی کے باہر دھرنا دیا اور مطالبہ کیاکہ انسانی جانوں کے زیاں کو مد نظر رکھتے ہوے فی الفور ٹنل کا کام ہاتھ میں لیاجائے۔ بدھ کو ممبر اسمبلی کرناہ ایڈووکیٹ راجہ منظور اور رکن کونسل جاوید احمدمرچال نے ہاتھوں میں بینرز اٹھاکر سادھنا پر ٹنل کی تعمیر کا معاملہ دوہرایا اور اسمبلی کے باہر دھرنا دیا ۔ ممبراسمبلی کرناہ نے کہاکہ اگر 1947کی تقسیم نہ ہوئی ہوتی تو آر پار راستے بند نہ ہوتے ،ہم لوگ کٹتے نہ مرتے لیکن اس تقسیم سے ہماری مالی واقتصادی صورتحال کمزور ہوتی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اگر یہاں سے راستے بند ہوتے توسرحد پار جاکر ہمارے لوگ مزدوری کرتے دیگر کام کاج کرتے اگر چہ آج ہم کپواڑہ کے ساتھ ہیں لیکن ایک سو کلومیٹر لمبی کرناہ کپواڑہ شاہراہ ہمارے لئے خونین ثابت ہورہی ہے۔ راجہ منظور نے کہا کہ حادثات کے بعد پورے کرناہ میں یہ مانگ زور پکڑتی جارہی ہے کہ کرناہ کپواڑہ شاہراہ پر ٹنل کو تعمیر کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالہ سے انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کی اور معاملہ اُن کی نوٹس میں لایا جبکہ تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے یہ معاملہ دوبارہ مرکزی وزیرنتن گڈکری کے ساتھ اٹھایا ہے ہمیں اُمید ہے کہ سرکار اس حوالہ سے سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے لیکن ہمار ا یہ مطالبہ ہے کہ اس پر ترجیحی اور جنگی بنیادوں پر کام شروع کیاجائے ۔قانون ساز کونسل کے رکن جاوید احمد مرچال نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ اس شاہراہ پر ٹنل تعمیر کا معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ زوروشور کے ساتھ اٹھایا جائے ۔جاوید مرچال نے کہا کہ ہمیں ایک طرف بندوق کے سائے میں پل پل جینا اور مرنا پڑتاہے وہیں سادھنا گلی پر موت کا رقص ہر روز ہوتاہے۔