بلا شبہ ہر زندہ شئے کو کبھی نہ کبھی مشکلات اور پریشانیوں کا بھی سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے اور اگر ہم صرف انسانوں کی بات کریں تو پیدائش سے موت تک کے سفر میں اُسےبارہا پریشانیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بحیثیت انسان ہم میں سے ہر شخص چاہے وہ ایک ادنیٰ انسان ہو یا اعلیٰ اس کی زندگی میں لازمی پریشانیاں آتی رہتی ہیں ۔زندگی بہرحال گزر ہی جانی ہے عیش و آرام سے یا پریشانی سے۔ مشاہدہ اور تجربہ بھی یہی ہے کہ ہماری پوری زندگی میں حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے ہیں، کبھی ہماری زندگی کے دن انتہائی سہولت کے ساتھ گزر رہے ہوتے ہیں تو کبھی ہمارے روز و شب میں بیقراری اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے،البتہ ان پریشانیوں اور مصیبتوں میں یہ وصف بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شکار کو لازوال اوصاف عطا کرتی ہیں۔ اگر ہمیں کسی قسم کی جانی ومالی پریشانیوں کو سامنا کرنا پڑے اور ہم اسے مثبت انداز میں لیں تو یقیناً یہی مصیبت اور پریشانی ہم میں ایک حیرت انگیز صفت پیدا کر کے رکھ دیتی ہے۔ جسے حرف عام میں استقامت کہتے ہیں۔
استقامت، انسانی کردار کی وہ بلند و بالا صفت ہے جو کسی مقصد کی تکمیل کے لئے مضبوطی اور ثابت قدمی سے جدوجہد کا نام ہے۔ یہ وہ جوہر ہے جو نہ صرف انسان کو مشکلات اور مصائب کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے بلکہ اسے سربلندی اور کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ استقامت کسی فرد کی روحانی، جسمانی اور ذہنی پختگی کا مظہر ہے، جو اسے ہر قسم کے حالات میں ثابت قدم رہنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی کامیابیاں اُنہی لوگوں کے حصے میں آئی ہیں، جنہوں نے استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ زندگی میں آزمائشیں اور چیلنجز ناگزیر ہیں، لیکن یہ استقامت ہی ہے جو انسان کو ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور اپنی منزل تک پہنچنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جس سے یہ بات اُبھر کر سامنے آجاتی ہے کہ استقامت صرف ایک خوبی نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور انعام کا ذریعہ بھی ہے۔
ظاہر ہے کہ استقامت کا مظاہرہ زندگی کے ہر پہلو میں ضروری ہے، چاہے وہ دینی فرائض کی ادائیگی ہو یا دنیاوی مقاصد کا حصول۔ استقامت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔استقامت انسان کو نہ صرف کامیابی کے قریب لے جاتی ہے بلکہ اس کے اندر صبر، حوصلہ اور توکل جیسی خوبیاں بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ خوبی فرد کو مضبوط بناتی ہے اور اس کے اندر خود اعتمادی کو پروان چڑھاتی ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ ’’پتھر کی مضبوطی دریا کے بہاؤ کو روک سکتی ہے، لیکن استقامت دریا کے پتھر کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔‘‘ یہی استقامت انسان کو شکست کے خوف سے آزاد کرتی ہے اور اسے نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔زندگی کے ہر موڑ پر آزمائشیں انسان کا امتحان لیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ آزمائشیں اس قدر سخت ہوتی ہیں کہ انسان مایوس ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں استقامت انسان کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوتی ہے۔تاریخ میں ایسے کئی افراد ہیں جنہوں نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنایا۔
نیلسن منڈیلا نے 27 سال قید میں رہنے کے باوجود اپنے مقصد کو ترک نہ کیا اور بالآخر اپنے ملک کو آزادی دلائی۔موجودہ دور میں استقامت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ آج کے تیز رفتار زمانے میں جہاں مایوسی اور ناامیدی عام ہے، استقامت ہی وہ واحد خوبی ہے جو انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔ خواہ تعلیمی میدان ہو یا کاروباری دنیا، ہر جگہ استقامت کامیابی کی کنجی ہے۔استقامت کو پیدا کرنا اور اسے برقرار رکھنا ایک مسلسل عمل ہے۔ استقامت زندگی کی وہ دولت ہے جو انسان کو ہر قسم کے حالات میں کامیابی کا یقین دلاتی ہے۔ یہ خوبی نہ صرف دنیوی معاملات میں کارآمد ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی لازمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں استقامت کو اپنائیں اور اس بات کو یاد رکھیں کہ پریشانیاں تکلیف دہ ضرور ہیں، مگر دیر پا نہیں۔ہر مشکل کے بعد آسانی کا آنا قدرت کا اٹل فیصلہ ہے۔ ناکامی اور پریشانی ایک ایسی آگ ہے جو ہمیں کندن بناتی ہے۔جس طرح سونا آگ میں جل کر کندن بن جاتا ہے، اُسی طرح ناکامی کی آگ سے جو تکلیف اور کرب کے تجربات حاصل ہوتے ہیں وہ ہماری سوچ کے دھارے میں تبدیلی اور مثبت نظریات کی پختگی کا سبب بنتے ہیں۔