رئیس مسرور
یہ بھی ایک زمانہ تھا جب ہم کسی سڑک یا گلی میں اپنے استاد کو آتا دیکھتے تو راستہ بدل لیتے تھے۔ یہ خوف نہیں تھابلکہ ادب تھا۔ اگر معلوم ہوتا کہ استاد محترم اسی راستے سے آنے والے ہیں تو ہم غیر ضروری گھومنا پھرنا ترک کر دیتے۔ ان کی موجودگی ہمارے طرز عمل کو خود بخود سنوار دیتی تھی۔ استاد صرف سبق نہیں دیتا تھا، وہ زندگی کا سلیقہ سکھاتا تھا۔مشرقی دنیا میں خاص طور پر استاد کو ہمیشہ بلند مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں ایک معلم کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف سکھایا وہ میرا استاد ہے یہ محض جملہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی رویہ تھا۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے خوب کہا کہ’’سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا‘‘یہ سبق دینے والا دراصل استاد ہی تھا جو کردار کی بنیاد رکھتا ہے۔استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا (Not about dissemination and transmission of knowledge) بلکہ شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کی سختی میں بھی خیر خواہی ہوتی ہے اور اس کی خاموشی میں بھی رہنمائی۔ اسی لیے ہمارے معاشروں میں استاد کا احترام گھروں سے سکھایا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس مقام میں کمی آتی گئی۔ مادی فکر نے قدر و منزلت کو متاثر کیا۔ استاد کو ایک سرکاری ملازم کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا کے دور میں چند لمحوں میں برسوں کی خدمات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تنقید اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر اجتماعی تضحیک کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
حالیہ TET تنازعہ نے اسی رویے کو مزید واضح کیا۔ بحث کا انداز ایسا رہا کہ گویا اساتذہ کی ساری محنت مشکوک ہو۔ ان کی قربانیوں، دور دراز علاقوں میں خدمات اور نسلوں کی تربیت کو کم ہی یاد رکھا گیا۔ بعض حلقوں نے انہیں طنز کا نشانہ بنایا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ افراد نے یہ سوچا کہ اگر موجودہ اساتذہ کو ہٹا دیا جائے تو ملازمت کے (Employment Opportunity ) مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ طرزِ فکر معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تمہارا رزق اور تم سے کیے گئے وعدے آسمان میں ہیں۔ اسی طرح عزت بھی اللہ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ کسی کے رزق یا وقار کو ختم کر کے اپنی بہتری کی امید رکھنا قطعی طور پر درست نہیں ہے۔
ایک وقت تھا جب اگر استاد شاگرد کو ڈانٹ دیتا یا سزا دیتا تو والدین اسے اصلاح سمجھتے تھے۔ مقصد کردار سازی ہوتا تھا۔ بعد میں جسمانی سزا پر پابندی عائد ہوئی، جو انسانی نقطۂ نظر سے اہم قدم تھا، مگر اس کے ساتھ مثبت نظم و ضبط کا مؤثر متبادل نظام مضبوطی سے قائم نہ ہو سکا (Absence of Positive discipline)۔ نتیجے میں استاد بے اختیار ہوا اور تعلیمی ماحول متاثر ہوا۔ جب طلبہ بغیر مناسب تربیت کے اداروں سے نکلتے ہیں تو وہ صرف ڈگری رکھتے ہیں، کردار نہیں۔ ایسا معاشرہ آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتا ہے یہ صرف چند سال کا کارنامہ ہے جب سے ہماری جنت بے نظیر وادی میں اخلاقی گراوٹ نے جنم لیا۔میں اپنے آپ کو اس لحاظ سے خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اب بھی اپنے آپ کو اپنے اساتذہ کے جوتے کے تسمے کے برابر نہیں سمجھتا ہوں۔
اصلاح کی ضرورت ہر نظام میں ہوتی ہے۔ احتساب بھی ہونا چاہیے، مگر احترام کے ساتھ۔ بہتری کی بات ہو، مگر وقار مجروح کیے بغیر۔ قوموں کی تعمیر کلاس روم سے ہوتی ہے اور استاد اس تعمیر کا بنیادی ستون ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ اگر کوئی میری اس رائے سے اختلاف کرنا چاہتا ہے تو اسے پورا حق حاصل ہے۔ مگر اختلاف مہذب انداز میں ہو، دلیل کے ساتھ ہو اور شخصیات کے بجائے نکات پر ہو۔اساتذہ صاحبان کو بھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے اپنی صفوں کے اندر اتحاد پیدا کریں ٬ حسد کی بیماری سے دور رہیں اور اپنے فرائض پر اپنا دھیان رکھیں ۔ آئیے ہم الزام تراشی کے بجائے مکالمہ اختیار کریں اور مل کر اس ادارے کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ استاد کا احترام دراصل اپنے مستقبل کا احترام ہے۔
[email protected]