میر شوکت
جموں کی دوپہر میں دھوپ صرف سڑکوں پر نہیں پڑتی، ذہنوں پر بھی اترتی ہے،سیدھی، تیز، اور کچھ اس طرح کہ آدمی پلکیں جھپکاتے جھپکاتے اپنے ہی سوالوں سے تھک جائے۔ ادھر وادی میں شام اترتی ہے تو چنار کے پتے خاموشی سے گرتے ہیں، جیسے پرانی باتیں خود ہی زمین پر آ بیٹھیں۔ انہی باتوں کے بیچ ایک زبان صدیوں تک چلتی رہی،اردو۔ نہ کسی کے دروازے پر دستک دی، نہ کسی سے اجازت مانگی، بس گھروں میں داخل ہوئی، کاغذوں پر اُتری، دلوں میں بسی اور زندگی کا حصہ بن گئی اور آج اسی سے پوچھا جا رہا ہے، تم آخر ہو کس کی؟یہ سوال سن کر زبان نہیں، تاریخ مسکراتی ہے،ہلکی سی، تھوڑی سی تلخی کے ساتھ۔
یہ وہی خطہ ہے جہاں پنڈت برج نرائن چکبست نے اردو میں ایسا ہندوستان دیکھا ،جس میں انسان مذہب سے بڑا تھا۔ راجندر سنگھ بیدی نے دکھ کو اس طرح لکھا کہ وہ ہر چہرے پر اپنا سا لگے اور کرشن چندر نے انہی لفظوں میں زمانے کی آنکھ کھول دی۔ دیوان امر ناتھ صابر کی سادگی میں وہ سچ تھا جو بغیر شور کے دل میں اتر جائے اور پنڈت رتن ناتھ سرشار کی شوخی میں وہ چبھن جو ہنساتے ہنساتے سوال چھوڑ جائے۔جگن ناتھ آزاد جو اقبال شناسی سکھاے۔اور پھر کشمیری پنڈتوں کے وہ گھر،جہاں زندگی لکھی جاتی تھی اور وہ بھی اردو میں۔ جنتریاں، کنڈلیاں، شادی بیاہ کے کارڈ، خط،سب اسی زبان میں۔ ایک پنڈت جی صبح کی ہلکی روشنی میں بیٹھے ہیں، سامنے پنچانگ، ہاتھ میں قلم اور باریک اردو میں وہ کسی بچے کی پیدائش کا وقت لکھ رہے ہیں۔ ستاروں کی چال، ساعتوں کا حساب، آنے والے دنوں کا اندازہ،سب اسی زبان میں بند ہو رہا ہے۔ نہ انہیں یہ خیال ہے کہ یہ زبان کس مذہب کی ہے، نہ یہ فکر کہ کل کوئی اس پر بحث کرے گا۔ ان کے لیے یہ بس ایک وسیلہ ہے،زندگی کو سمجھنے اور لکھنے کا۔اور انہی صفوں میں پنڈت آنند نارائن ملا، پنڈت تلوک چند محروم، پنڈت دیا شنکر نسیم، لبھو رام جوش ملسیانی جیسے نام کھڑے ہیں،خاموش مگر مضبوط دلیل بن کر کہ اردو کسی ایک کی نہیں۔مگر آج کا منظر کچھ اور ہے۔
جموں کے کسی دفتر کے باہر اردو پوری شان سے لکھی ملے گی،جیسے کسی بزرگ کا نام تختی پر کندہ ہو۔ اندر جائیں تو فائلیں انگریزی میں، احکامات ہندی میں، اور اردو۔۔۔ کہیں نہیں۔ کبھی اسے نوکری کے لیے شرط بنا دیا جاتا ہے، کبھی اسے ایسے ہٹا دیا جاتا ہے، جیسے یہ کبھی تھی ہی نہیں۔ پہلے سیڑھی لگاؤ، پھر خود ہی کھینچ لو اور پھر کہو ،سب کو برابر موقع ہے،یہی حساب چل رہا ہے۔اسی بیچ سیاست نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔
عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ اردو کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، بس بات چیت ہو رہی ہے، غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ یہ زبان کو آہستہ آہستہ مٹانے کی کوشش ہے، شناخت کو کاغذوں سے غائب کیا جا رہا ہے۔یعنی ایک کہتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں، دوسرا کہتا ہے سب کچھ ہو رہا ہے۔اور بیچ میں کھڑی ہے اردو،جسے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ مسئلہ ہے یا بہانہ۔
یہ منظر کچھ ایسا لگتا ہے جیسے دو آدمی ایک ہی درخت کے نیچے کھڑے ہوں،ایک کہے درخت ہرا ہے، دوسرا کہے سوکھ چکا ہے، اور درخت خاموش کھڑا سوچ رہا ہو کہ آخر میں ہوں کیا۔پہلے سو سال تک اسی زبان میں زمین کے کاغذات لکھو، عدالتوں میں فیصلے کرو، گھروں میں کنڈلیاں بناؤ، جنتریاں ترتیب دو،پھر ایک دن کہو کہ یہ زبان ہماری نہیں۔ جیسے کوئی شخص آئینے میں اپنی ہی تصویر کو اجنبی کہہ دے۔اصل مسئلہ زبان کا نہیں، یادداشت کا ہے۔ہم نے اپنی ہی چیزوں کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔ ہمیں وہ سب یاد نہیں جو ہمیں جوڑتا تھا، ہمیں صرف وہ یاد ہے جو ہمیں الگ کرتا ہے۔ اردو بھی اسی بھولی ہوئی یاد کی طرح ہے،نہ پوری طرح نظر آتی ہے، نہ پوری طرح غائب ہوتی ہے۔
مگر ایک چیز ہے جو اب بھی باقی ہے،اس کی مٹھاس۔
اردو میں بات کرو تو لفظ نرم رہتے ہیں، چاہے بات کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو۔ غصہ بھی کرو تو لگتا ہے جیسے شکایت کر رہے ہو، محبت کا ذکر کرو تو بات خود بخود سنور جاتی ہے۔ یہ زبان شور نہیں کرتی، بہتی ہے،جیسے پہاڑ سے اترتا پانی، جو راستہ خود بنا لیتا ہےاور شاید یہی سب سے بڑی مشکل ہے۔کیونکہ بہتی ہوئی چیز کو قابو کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اس لیے کبھی اسے بچانے کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے، کبھی ہٹانے کے نام پر۔ مگر دونوں صورتوں میں زبان خود کہیں پیچھے رہ جاتی ہےاور آگے رہ جاتی ہے سیاست۔
جموں کے کسی گاؤں میں شام کے وقت بیٹھیں تو کوئی بزرگ آج بھی اردو کا محاورہ بول دے گا،بغیر یہ سوچے کہ یہ کس کی زبان ہے۔ اس کے لیے یہ بس زندگی ہے۔ مگر شہر میں یہی زبان مسئلہ بن جاتی ہے، کیونکہ یہاں ہر چیز کو نام دینا ضروری ہے، ہر چیز کو خانے میں ڈالنا ضروری ہےاور جب زبان خانے میں چلی جائے تو وہ زبان نہیں رہتی، نعرہ بن جاتی ہے۔آخر میں بات سیدھی ہے۔یہ زبان نہ مسجد کی ہے، نہ مندر کی۔ یہ ان سب کی ہے جنہوں نے اس میں زندگی لکھی،چاہے وہ شاعر تھے، ادیب تھے یا وہ کشمیری پنڈت جو کسی بچے کی جنتری بنا رہا تھا، کنڈلی لکھ رہا تھا اور آنے والے وقت کو لفظوں میں باندھ رہا تھا۔اگر ہم نے اسے اسی طرح بانٹنے کی کوشش جاری رکھی، تو کل کو زبان تو رہ جائے گی۔مگر اس میں بات کرنے والے نہیں رہیں گے۔